Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗؕ-وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ(۱۸۶)

ترجمۂ کنزالایمان: جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں اور انہیں چھوڑتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں اور وہ انہیں چھوڑتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔

{مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ:جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔}اس آیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ کفار کو اللہ تعالیٰ نے گمراہ کیا ہے کیونکہ اگر یہ معنیٰ ہو تو کفار قیامت کے دن حجت پیش کریں گے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں گمراہ کر دیا تھا تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے ؟کس قانون کی بنا پر ہمیں ہماری گمراہی کی سزا دی جا رہی ہے؟ بلکہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جب مسلسل کفریہ عقائد پر جمے رہنے کی وجہ سے کفار کے دلوں میں گمراہی راسخ ہو گئی اور وہ اپنی سر کشی میں حد سے بڑھ گئے حتّٰی کہ انہوں نے اپنے اختیار سے اس چیز کو ضائع کر دیا جو انہیں ہدایت اور ایمان کی دعوت دیتی تو پھر ان کے دل و دماغ سے دعوت ِحق قبول کرنے کی اِستِعداد جاتی رہی اور وہ اس طرح ہو گئے گویا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں گمراہی پر پیدا کیا ہے۔

گناہ پر جلدی پکڑ نہ ہونا عذاب ہے:

            اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا کسی بندے کو چھوڑے رکھنا اور اس کی گرفت نہ کرنا عذاب ہے یعنی یوں کہ بندہ کفر و شرک اور گناہ کرتا رہے لیکن کوئی پکڑ نہ ہو جبکہ اس کے برعکس بندے کی معمولی بات پر گرفت ہو جانا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ہے۔ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے جلد ہی دنیا میں سز ادیتا ہے اور اگر کسی بندے سے برائی کا ارادہ کرتا ہے تو گناہ کے سبب اس کا بدلہ روک رکھتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پورا بدلہ دے گا۔(ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الصبر علی البلاء، ۴ / ۱۷۸، الحدیث: ۲۴۰۴)

یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاؕ-قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْۚ-لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ ﲪ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةًؕ-یَسْــٴَـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَاؕ-قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(۱۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں کہ وہ کب کو ٹھہری ہے تم فرماؤ اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے  اسے وہی اس کے وقت پر ظاہر کرے گا بھاری پڑ رہی ہے آسمانوں او رزمین میں تم پر نہ آئے گی مگر اچانک تم سے ایسا پوچھتے ہیں گویا تم نے اسے خوب تحقیق کر رکھا ہے تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے لیکن بہت لوگ جانتے نہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کے قائم ہونے کا وقت کب ہے ؟ تم فرماؤ: اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے، اسے وہی اس کے وقت پر ظاہر کرے گا ،وہ آسمانوں او رزمین میں بھاری پڑ رہی ہے، تم پر وہ اچانک ہی آجائے گی۔ آپ سے ایسا پوچھتے ہیں گویا آپ اس کی خوب تحقیق کر چکے ہیں ، تم فرماؤ :اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں۔

{یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ:آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں۔} شانِ نزول: حضرتِ عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ یہودیوں نے نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے کہا تھا کہ اگر آپ نبی ہیں تو ہمیں بتائیے کہ قیامت کب قائم ہوگی کیونکہ ہمیں اس کا وقت معلوم ہے۔( خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۸۷، ۲ / ۱۶۵) اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔

{قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ:تم فرماؤ: اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے۔} اس آیت میں بتادیا گیا کہ قیامت کے مُعَیَّن وقت کی خبر دینا رسول کی کوئی ذمہ داری نہیں کیونکہ یہ علمِ شریعت نہیں جس کی اشاعت کی جائے بلکہ قیامت کا علم اللہ تعالیٰ کے اَسرار میں سے ہے جس کا چھپانا ضروری ہے ،لہٰذا اگر اس سربستہ راز کو ہر طرح سے ظاہر کر دیا جائے تو پھر قیامت کااچانک آناباقی نہ رہے گا حالانکہ اسی آیت میں تصریح ہے کہ ’’لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً‘‘ تم پر وہ اچانک ہی آجائے گی۔ عوام سے قیامت کا علم مخفی رکھنے کی وجہ سے متعلق علماء فرماتے ہیں ’’ بندوں سے قیامت کا علم اور اس کے وقوع کا وقت مخفی رکھنے کا سبب یہ ہے کہ لوگ قیامت سے خوف زدہ اور ڈرتے رہیں کیونکہ جب انہیں معلوم نہیں ہو گا کہ قیامت کس وقت آئے گی تو وہ ا س سے بہت زیادہ ڈریں گے اور ہر وقت گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں گے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کوشاں رہیں گے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گناہوں میں مشغول ہوں اور قیامت آجائے۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۸۷، ۲ / ۱۶۶)

نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو قیامت کا علم عطا کیا گیا ہے:

            سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے بڑی تفصیل کے ساتھ قیامت سے پہلے اور اس کے قریب ترین اوقات کے بارے میں تفصیلات بیان فرمائی ہیں جو اس بات کی علامت ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو قیامت کا علم تھا۔ ان میں سے 8اَحادیث درج ذیل ہیں :

(1)… حضرت انس بن مالک  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی حتّٰی کہ زمانہ جلد جلد گزرنے لگے گا۔ سال ایک ماہ کی طرح گزرے گا۔مہینہ ہفتہ کی طرح گزرے گا۔ ہفتہ ایک دن کی طرح، ایک دن ایک گھنٹے کی طرح اور ایک گھنٹہ آگ کی چنگاری کی طرح گزر جائے گا۔ (ترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی تقارب الزمن وقصر الامل، ۴ / ۱۴۸، الحدیث: ۲۳۳۹)

(2)…حضرت سلامہ بنت حر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا سے روایت ہے، حضور سیدُ المرسلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’قیامت کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ اہلِ مسجد امامت کرنے کیلئے ایک دوسرے سے کہیں گے اور انہیں نماز پڑھنے کے لئے کوئی امام نہ ملے گا۔( ابو داؤد، کتاب الصلاۃ، باب فی کراہیۃ التدافع عن الامامۃ، ۱ / ۲۳۹، الحدیث: ۵۸۱)

(3)… حضرت انس بن مالک  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ قیامت کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھایا جائے گا اور جہل کا ظہور ہو گا، زنا عام ہو گا اور شراب پی جائے گی، مرد کم ہو جائیں گے اور عورتیں زیادہ ہوں گی حتّٰی کہ پچاس عورتوں کا کفیل ایک مرد ہو گا۔ (بخاری، کتاب النکاح، باب یقلّ الرجال ویکثر النساء، ۳ / ۴۷۲، الحدیث: ۵۲۳۱)

 



Total Pages: 191

Go To