Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

غیروں پر اِطلاق کرنا جیسا کہ مشرکیننے اِلٰہ کا’’ لات‘‘ اور عزیز کا’’ عُزّیٰ‘‘ اور منان کا ’’مَنات‘‘ کرکے اپنے بتوں کے نام رکھے تھے، یہ ناموں میں حق سے تَجاوُز اور ناجائز ہے۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے لئے ایسا نام مقرر کیا جائے جو قرآن و حدیث میں نہ آیا ہو یہ بھی جائز نہیں جیسے کہ اللہ تعالیٰ کو سخی کہنا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اَسماء تَوقِیفیہ ہیں۔ تیسرا  یہ کہ حسنِ ادب کی رعایت نہ کرنا ۔ چوتھا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی ایسا نام مقرر کیا جائے جس کے معنی فاسد ہوں یہ بھی بہت سخت ناجائز ہے ،جیسے کہ لفظ رام اور پرماتما وغیرہ۔ پانچواں یہ کہ ایسے اسماء کا اطلاق کرنا جن کے معنی معلوم نہیں ہیں اور یہ نہیں جانا جاسکتا کہ وہ جلالِ الہٰی کے لائق ہیں یا نہیں۔( خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۸۰، ۲ / ۱۶۴)

            اِلْحاد فی الاسماء کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ غیرُاللہ پر اللہ تعالیٰ کے ان ناموں کا اِطلاق کیا جائے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ خاص ہیں۔ جیسے کسی کا نام رحمٰن، قدوس، خالق، قدیر رکھنا یا کہہ کر پکارنا، ہمارے زمانے میں یہ بلا بہت عام ہے کہ عبدالرحمٰن کو رحمٰن، عبدالخالق کو خالق اور عبد القدیر کو قدیر وغیرہ کہہ کر پکارتے ہیں یہ حرام ہے، اس سے بچنا لازم ہے۔

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠(۱۸۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہمارے بنائے ہوؤں میں ایک گروہ وہ ہے کہ حق بتائیں اور اس پر انصاف کریں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہماری مخلوق میں سے ایک ایسا گروہ ہے جو حق کی ہدایت دیتا ہے اور اسی کے مطابق عدل کرتے ہیں۔

{وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ:اور ہماری مخلوق میں سے ایک گروہ۔} یہ گروہ اہلِ حق علماء اور ہادیانِ دین کا ہے۔(مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۸۱، ص۳۹۷)

کوئی زمانہ اہلِ حق سے خالی نہ ہو گا:

             اس آیت سے یہ مسئلہ ثابت ہوا کہ ہر زمانہ کے اہلِ حق کا اِجماع حجت ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ کوئی زمانہ حق پرستوں اور دین کے ہادیوں سے خالی نہ ہوگا جیسا کہ حدیث شریف میں ہے، حضرت ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایتہے، تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ میری اُمت کا ایک گروہ تاقیامت دینِ حق پر قائم رہے گا اس کو کسی کی عداوت و مخالفت ضَرر نہ پہنچا سکے گی۔ (مسلم، کتاب الامارۃ، باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم: لا تزال طائفۃ من امتی۔۔۔ الخ، ص ۱۰۶۱، الحدیث: ۱۷۰(۱۹۲۰))

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ(۱۸۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں جلد ہم انہیں آہستہ آہستہ عذاب کی طرف لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو عنقریب ہم انہیں آہستہ آہستہ (عذاب کی طرف) لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر بھی نہ ہوگی۔

{ وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا:اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ’’ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہم انہیں اس طرح ہلاکت وعذاب کے قریب کر دیں گے کہ انہیں پتا بھی نہ چل سکے گا کیونکہ یہ لوگ جب کوئی جرم یا گناہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ دنیا میں ان پر نعمت اور بھلائی کے دروازے کھول دیتا ہے، دُنیَوی نعمتوں کی فراوانی دیکھ کر یہ بہت خوش ہوتے ہیں اور سرکشی و گمراہی، گناہ اور مَعاصی کا بازار مزید گرم کر دیتے ہیں حتّٰی کہ جتنا نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اتنا ہی گناہ زیادہ کرتے ہیں ، پھر اچانک عین غفلت کی حالت میں اللہ تعالیٰ انہیں اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۸۲، ۵ / ۴۱۸)

گناہوں کے باوجود نعمتیں ملنا کہیں اللہ تعالٰی کی ڈھیل نہ ہو :

            اس آیت میں ان مسلمانوں کے لئے بھی بڑی عبرت ہے جو دن رات گناہوں میں مصروف رہنے کے باجود عیش و فراوانی کی زندگی گزار رہے ہیں اور آئے دن ان کی عیش و عشرت اور مال دولت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، انہیں بھی اس بات سے ڈر جانا چاہئے کہ کہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کیلئے ڈھیل نہ ہو اور عین غفلت کی حالت اللہ تعالیٰ ان کی گرفت نہ فرما لے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍؕ-حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ‘‘ (انعام:۴۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جب انہوں نے ان نصیحتوں کو بھلا دیاجو انہیں کی گئی تھیں توہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب وہ اس پرخوش ہوگئے جو انہیں دی گئی تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیاپس اب وہ مایوس ہیں۔

             حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جب تم یہ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کے گناہوں کے باوجود ان کے سوالوں کے مطابق عطا فرما رہاہے تو یہ ان کے لئے صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اِستِدراج اور ڈھیل ہے ۔ (مسند امام احمد، مسند الشامیین، حدیث عقبۃ بن عامر الجہنی، ۶ / ۱۲۲، الحدیث: ۱۷۳۱۳)

             حضرت عمر بن خطاب  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بارگاہ میں جب کسریٰ کے خزانے لائے گئے تو اس وقت انہوں نے دعا کی ’’اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، میں اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں ڈھیل دئیے جانے والوں سے ہوں کیونکہ میں نے تیرا یہ ارشاد سنا ہے:

’’سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَ‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان:عنقریب ہم انہیں آہستہ آہستہ (عذاب کی طرف) لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر بھی نہ ہوگی۔ (سنن الکبری للبیہقی، کتاب قسم الفیء والغنیمۃ، باب الاختیار فی التعجیل بقسمۃ مال الفیء اذا اجتمع، ۶ / ۵۸۱، الحدیث: ۱۳۰۳۳)

وَ اُمْلِیْ لَهُمْؕ-اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ(۱۸۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور میں انہیں ڈھیل دوں گا بیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے۔

 



Total Pages: 191

Go To