Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

تھے، وہ بہت زیادہ تقویٰ اختیار کرنے، خواہشات اور شُبہات سے بچنے کے باوجود تنہائی میں اپنے نفسوں کے لئے روتے تھے۔ لیکن اب حالت یہ ہے کہ تم لوگوں کو مطمئن، خوش اور بے خوف دیکھو گے حالانکہ وہ گناہوں پر اوندھے گرتے ہیں ، دنیا میں پوری توجہ رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے منہ پھیر رکھا ہے،ان کا خیال ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم پر کامل یقین رکھتے ہیں ، اس کے عفو و درگزر اور مغفرت کی امید رکھتے ہیں گویا ان کاگمان یہ ہے کہ انہوں نے جس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی معرفت حاصل کی ہے اس طرح انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اور پہلے بزرگوں کو حاصل نہ تھی، اگر یہ بات (یعنی عَفْو و مغفرت) محض تمنا اور آسانی سے حاصل ہو جاتی تو (نیک اعمال کے باوجود) ان بزرگوں کے رونے، خوف کھانے اور غمگین ہونے کا کیا مطلب تھا۔ (احیاء علوم الدین، کتاب ذمّ الغرور، بیان ذمّ الغرور وحقیقتہ وامثلتہ، ۳ / ۴۷۳-۴۷۴)

            اس کے علاوہ ان علماء کو بھی اپنے طرزِ عمل پر غور کی حاجت ہے کہ جو خود تو عوام میں مُقتداء کی حیثیت رکھتے ہیں اور اپنی اولاد کی اچھی دینی تعلیم وتربیت سے غفلت کا شکار ہیں ، جب ان کی اولاد جانشینی کی مسند پر جلوہ افروز ہو گی تو کہیں یہ بھی انہی خرابیوں کا شکار نہ ہو جائے جن کا بنی اسرائیل کے جانشین ہوئے۔

وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَؕ-اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ(۱۷۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ جو کتاب کو مضبوط تھامتے ہیں اور انہوں نے نماز قائم رکھی اور ہم نیکوں کا نیگ  نہیں گنواتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جو کتاب کو مضبوطی سے تھامتے ہیں اور انہوں نے نماز قائم رکھی، بیشک ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔

{وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ:اور وہ جو کتاب کو مضبوطی سے تھامتے ہیں۔} کتاب کو مضبوطی سے تھامنے سے مراد اس کے مطابق عمل کرنا، اس کے تمام احکام کو ماننا اور اس میں کسی طرح کی تبدیلی روا ،نہ رکھنا ہے، اور اس آیت کاشانِ نزول یہ ہے کہ یہ آیت اہلِ کتاب میں سے حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ وغیرہ ایسے اصحاب کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے پہلی کتاب کی اتباع کی اور اس میں کوئی تحریف کی نہ اس کے مضامین کو چھپایا اور اس کتاب کے اتباع کی بدولت اُنہیں قرآنِ پاک پر ا یمان نصیب ہوا۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۰، ۲ / ۱۵۴)

{وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ:اور انہوں نے نماز قائم کررکھی ہے۔} نماز اگرچہ کتاب کو مضبوطی سے تھامنے میں داخل ہے البتہ اسے جداگانہ ذکر کرنے سے مقصود ا س کی عظمت کا اظہار اور یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے بعد سب سے اہم عبادت نماز ہے۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۰، ۲ / ۱۵۴)

نماز کی اہمیت و فضیلت:

            کثیر احادیث میں نماز پڑھنے کی بہت اہمیت اور فضیلت بیان کی گئی ہے، ترغیب کے لئے ان میں سے 3 احادیث درجِ ذیل ہیں :

(1)…حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ایک صاحب نے عرض کی، یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، اسلام میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب کیا چیز ہے؟ ارشاد فرمایا ’’وقت میں نماز پڑھنا اور جس  نے نماز چھوڑی اس کا کوئی دین نہیں ، نماز دین کا ستون ہے۔ (شعب الایمان، باب الحادی والعشرون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۳ / ۳۹، الحدیث: ۲۸۰۷)

(2)…حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’سب سے پہلے قیامت کے دن بندے سے نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر یہ درست ہوئی تو باقی اعمال بھی ٹھیک رہیں گے اور یہ بگڑی تو سبھی بگڑے۔( معجم الاوسط، باب العین، من اسمہ علی، ۳ / ۳۲، الحدیث: ۳۷۸۲)

(3)…حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ نے بندوں پر فرض کیں ، جس نے اچھی طرح وضو کیا اور وقت میں پڑھیں اور رکوع و خُشوع کو پورا کیا تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمۂ کرم پر عہد کر لیا ہے کہ اسے بخش دے ،اور جس نے نہ کیا اس کے لیے عہد نہیں ، چاہے بخش دے، چاہے عذاب کرے (ابو داؤد، کتاب الصلاۃ، باب المحافظۃ علی وقت الصلوات، ۱ / ۱۸۶، الحدیث: ۴۲۵) [1]۔

قرآنِ مجید کے احکام پر عمل کے معاملے میں ہماری حالت:

            اس آیت میں کتاب کو مضبوطی سے تھامنے والوں کی فضیلت بیان ہوئی اسے سامنے رکھتے ہوئے قرآنِ مجید کے احکام پر عمل کے سلسلے میں ہم اپنے اَسلاف کے حال اور اپنے حال کا مُوازنہ کریں تو موجودہ دور میں مسلمانوں کی مجموعی صورتِ حال انتہائی تشویشناک نظر آتی ہے کہ فی زمانہ مسلمان قرآنِ مجید پر عمل سے انتہائی دور ہو چکے اور دنیا کی نعمتوں اور رنگینیوں پر مطمئن بیٹھے نظر آ رہے ہیں۔ حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’میں نے 70 بدری صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو دیکھا وہ اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے (تقویٰ و وَرع کی وجہ سے) اس قدر اِجتناب کرتے تھے جس قدر تم حرام چیزوں سے پرہیز نہیں کرتے۔ جس قدر تم فراخی کی حالت پر خوش ہوتے ہو ا س سے زیادہ وہ آزمائشوں پر خوش ہوتے تھے۔اگر تم انہیں دیکھ لیتے تو کہتے کہ یہ مجنون ہیں اور اگر وہ تمہارے بہترین لوگوں کو دیکھتے تو کہتے کہ ان لوگوں کا (آخرت میں )کوئی حصہ نہیں اور اگروہ تمہارے برے لوگوں کو دیکھتے تو کہتے:ان لوگوں کا حساب کے دن پر ایمان نہیں۔ اُن میں سے کسی کے سامنے حلال مال پیش کیا جاتا تو وہ یہ کہہ کرلینے سے انکار کردیتے کہ مجھے اپنا دل خراب  ہو جانے کا ڈر ہے (جبکہ تم حرام مال لینے میں بھی ذراپرواہ نہیں کرتے)۔(احیاء علوم الدین، کتاب الفقر والزہد، بیان تفضیل الزہد فیما ہو من ضروریات الحیاۃ، ۴ / ۲۹۷)

            اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقلِ سلیم اور قرآنِ کریم پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْۚ-خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠(۱۷۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب ہم نے پہاڑ ان پر اٹھایا گویا وہ سائبان ہے اور سمجھے کہ وہ ان پر گر پڑے گا لو جو ہم نے تمہیں دیا زور سے اور یاد کرو جو اس میں ہے کہ کہیں تم پرہیزگار ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یاد کرو جب ہم نے پہاڑ ان کے اوپر بلند کردیا گویا وہ سائبان ہے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ ان پر گرنے ہی والا ہے (اور ہم نے کہا) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے تھام لو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد کرو تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔

 



[1]     نماز سے متعلق ضروری احکام اورمسائل جاننے کے لئے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کتاب’’نماز کے احکام‘‘اور’’اسلامی بہنوں کی نماز‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا مطالعہ فرمائیں۔



Total Pages: 191

Go To