Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

            جب مچھلی کا شکار کرنے والے لوگ اس معصیت سے باز نہ آئے تو منع کرنے والے گروہ نے ان سے کہا کہ’’ ہم تمہارے ساتھ میل برتاؤ نہ رکھیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے گاؤں کو تقسیم کرکے درمیان میں ایک دیوار کھینچ دی۔ منع کرنے والوں کا ایک دروازہ الگ تھا جس سے آتے جاتے تھے اور خطا کاروں کا دروازہ جدا تھا۔ حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان خطا کاروں پر لعنت کی تو ایک روز منع کرنے والوں نے دیکھا کہ خطاکاروں میں سے کوئی باہر نہیں نکلا، تو انہوں نے خیال کیا کہ شاید آج شراب کے نشہ میں مدہوش ہوگئے ہوں گے، چنانچہ اُنہیں دیکھنے کے لئے دیوار پر چڑھے تو دیکھا کہ وہ بندروں کی صورتوں میں مسخ ہوگئے تھے۔ اب یہ لوگ دروازہ کھول کراندر داخل ہوئے تو وہ بندر اپنے رشتہ داروں کو پہچانتے اور ان کے پاس آکر اُن کے کپڑے سونگھتے تھے اور یہ لوگ ان بندر ہوجانے والوں کو نہیں پہچانتے تھے۔ اِن لوگوں نے بندر ہوجانے والوں سے کہا:’’ کیا ہم لوگوں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا؟ اُنہوں نے سرکے اشارے سے کہا: ہاں۔ اس کے تین دن بعد وہ سب ہلاک ہوگئے اور منع کرنے والے سلامت رہے۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے امی ہونے اور پچھلی کتابں پڑھی ہوئی نہ ہونے کے باوجود بھی اِن واقعات کی خبر دینا ایک معجزہ ہے کہ آپ نے یہودیوں کے سامنے ان کے آباء واَجداد کے اعمال اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی وجہ سے ان کا بندر و خنزیر کی شکلوں میں تبدیل ہو جانا سب بیان فرما دیا۔(خازن ، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۶۳ و۱۶۶، ۲ / ۱۵۱-۱۵۲)

شرعی احکام باطل کرنے کے لئے حیلہ کرنے والوں کو نصیحت:

            اس واقعے میں ان لوگوں کے لئے بڑی عبرت ہے کہ جو شرعی احکام کو باطل کرنے اورا نہیں اپنی خواہش کے مطابق ڈھالنے کیلئے طرح طرح کے غیر شرعی حیلوں کا سہارا لیتے ہیں ، انہیں اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ کہیں ا س کی پاداش میں ان کی شکلیں بھی نہ بگاڑ دی جائیں۔ حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: جیسا یہودیوں نے کیا تم ا س طرح نہ کرنا کہ تم اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو طرح طرح کے حیلے کر کے حلال سمجھنے لگو ۔ (در منثور، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۶۳، ۳ / ۵۹۲)

            یاد رہے کہ حکمِ شرعی کو باطل کرنے کیلئے حیلہ کرنا حرام ہے جیسا کہ یہاں مذکور ہوا البتہ حکمِ شرعی کو کسی دوسرے شرعی طریقے سے حاصل کرنے کیلئے حیلہ کرنا جائز ہے جیسا کہ قرآنِ پاک میں حضرت ایوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اس طرح کا عمل سورۂ ص آیت44میں مذکور ہے۔ عوامُ الناس کو چاہئے کہ پہلے حیلے سے متعلق شرعی رہنمائی حاصل کریں اس کے بعد حیلہ کریں تاکہ معلومات میں کمی کی وجہ سے گناہ میں پڑنے کا اندیشہ باقی نہ رہے۔

            نوٹ: اس واقعے کی بعض تفصیلات سورۂ بقرہ آیت65 میں گزر چکی ہیں۔

{وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ:اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا۔} اس آیت میں تیسرے گروہ کا ذکر ہے کہ جنہوں نے خاموشی اختیار کی تھی۔ اس سے معلو م ہوا کہ یہ لوگ مچھلی کے شکار پر بالکل راضی نہ تھے بلکہ ان سے مُتَنَفِّر تھے جبکہ انہیں سمجھاتے اس لئے نہیں تھے کہ ان کے ماننے کی امید نہ تھی۔ اس سے بظاہر یہ سمجھ آتا ہے کہ یہ لوگ بھی نجات پا گئے تھے کیونکہ جب کسی کے ماننے کی امید نہ ہو تو امر بالمعروف کرنا فرض نہیں رہتا ، ہاں افضل ضرور ہوتا ہے نیز امر بالمعروف فرضِ کفایہ ہے لہٰذا جب ایک گروہ یہ کرہی رہا تھا تو ان پر بِعَیْنِہٖ فرض نہ رہا۔

{كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِىٕیْنَ: دھتکارے ہوئے بندر بن جاؤ۔}  حدیث شریف میں ہے،ــحضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ،ایک شخص نے عرض کی :یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، کیا بندر اور خنزیر مَسخ شدہ لوگ ہیں ؟ رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو ہلاک کر کے یا کسی قوم کو عذاب دے کر ا س کی نسل نہیں چلائی اور بندر اور خنزیر تو ان سے پہلے بھی ہوتے تھے۔(مسلم، کتاب القدر، باب بیان انّ الآجال والارزاق وغیرہا۔۔۔ الخ، ص۱۴۳۲، الحدیث: ۳۳ (۲۶۶۳))لہٰذا موجودہ بندر اس قوم کی اولاد میں سے نہیں کیونکہ وہ تو فنا کر دی گئی۔

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِؕ-اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ ۚۖ-وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۶۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب تمہارے رب نے حکم سنادیا کہ ضرور قیامت کے دن تک ان پر ایسے کو بھیجتا رہوں گا جو انہیں بری مار چکھائے بیشک تمہارا رب ضرور جلد عذاب والا ہے اور بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب تمہارے رب نے اعلان کردیا کہ وہ ضرور قیامت کے دن تک ان پر ایسوں کو بھیجتا رہے گا جو انہیں برا عذاب دیتے رہیں گے بیشک تمہارا رب ضرور جلد عذاب دینے والا ہے اور بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

{وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ:اور جب تمہارے رب نے اعلان کردیا ۔} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی سرکشی، گناہ پر دیدہ دلیری اورا س کی سزا میں مسخ کر کے بندر بنا دینے کا ذکر فرمایا اورا س آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا ہے کہ قیامت تک یہودیوں کے لئے ذلت اور غلامی مقدر کر دی گئی ہے۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۶۷، ۵ / ۳۹۳)

            اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ،آپ کے رب عَزَّوَجَلَّنے یہودیوں کے آباء واَجداد کو ان کے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی زبان سے یہ خبر دی تھی کہ اللہ تعالیٰ قیامت تک یہودیوں پر ایسے افراد مُسلَّط کرتا رہے گا جو انہیں ذلت اور غلامی کا مزہ چکھاتے رہیں گے۔ چنانچہ اللہ  تعالیٰ نے یہودیوں پر بخت نصر، سنجاریب، اور  رومی عیسائی بادشاہوں کو مسلط فرمایا جو اپنے اپنے زمانوں میں یہودیوں کو سخت ایذائیں پہنچاتے رہے۔ (خازن ، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۶۷، ۲ / ۱۵۲)  پھر مسلمان سَلاطین ان پر مقرر ہوئے، پھر انگریزوں کی غلامی میں رہے،قریب کے دور میں جرمنی میں ہٹلر نے انہیں چن چن کر قتل کیا اور اپنے ملک سے نکال دیا۔ یہودیوں کی حرکتیں ہی ایسی ہیں کہ کوئی سلطنت انہیں اپنے ملک میں رکھنے پر آمادہ نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں بھی کسی سلطنت نے اجتماعی طور پر انہیں اپنے ملک میں نہ رکھا بلکہ انہیں فلسطین میں آباد کیا اور یہیں سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کی بڑی تباہی کا آغاز ہوگا۔

وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًاۚ-مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ٘-وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(۱۶۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور انہیں ہم نے زمین میں متفرق کردیا گروہ گروہ ان میں کچھ نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے اور ہم نے انہیں بھلائیوں اور برائیوں سے آزمایا کہ کہیں وہ رجوع لائیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے انہیں زمین میں مختلف گروہوں میں تقسیم کردیا، ان میں کچھ صالحین ہیں اور کچھ اس کے علاوہ ہیں اور ہم نے انہیں خوشحالیوں اور بدحالیوں سے آزمایا تا کہ وہ لوٹ



Total Pages: 191

Go To