Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

{فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا:تو ان میں سے ظالموں نے بات بدل دی۔} اس کی تفسیر سورۂ بقرہ آیت نمبر 59 کے تحت گزر چکی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انہیں حکم تو تھا کہ حِطَّۃُ کہتے ہوئے دروازے میں داخل ہوں ، حِطَّۃُ توبہ اور اِستغفار کا کلمہ ہے لیکن وہ بجائے اس کے براہ ِتَمَسْخُر حِنْطَۃٌ فِیْ شَعِیْرَۃٍ کہتے ہوئے داخل ہوئے۔ اس بنا پر ان پر عذاب نازل ہوا اوروہ عذاب طاعون کی وبا تھی جس سے ایک ساعت میں چوبیس ہزار اسرائیلی فوت ہو گئے۔

وَ سْــٴَـلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِۘ-اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَۙ-لَا تَاْتِیْهِمْۚۛ-كَذٰلِكَۚۛ-نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ(۱۶۳)وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَاۙﰳ اللّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًاؕ-قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ(۱۶۴)فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَىٕیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ (۱۶۵)فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِىٕیْنَ(۱۶۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ان سے حال پوچھو اس بستی کا کہ دریا کنارے تھی جب وہ ہفتے کے بارے میں حد سے بڑھتے جب ہفتے کے دن ان کی مچھلیاں پانی پر تیرتی ان کے سامنے آتیں اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا نہ آتیں اس طرح ہم انہیں آزماتے تھے ان کی بے حکمی کے سبب۔ اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کیوں نصیحت کرتے ہو ان لوگوں کو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں سخت عذاب دینے والا بولے تمہارے رب کے حضور معذرت کو اور شاید انہیں ڈر ہو۔ پھر جب وہ بھلا بیٹھے جو نصیحت انہیں ہوئی تھی ہم نے بچالیے وہ جو برائی سے منع کرتے تھے اور ظالموں کو برے عذاب میں پکڑا بدلہ ان کی نافرمانی کا۔ پھر جب انہوں نے ممانعت کے حکم سے سرکشی کی ہم نے ان سے فرمایا ہوجاؤ بند ر دتکارے ہوئے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان سے اُس بستی کا حال پوچھو جودریاکے کنارے پرتھی، جب وہ ہفتے کے بارے میں حد سے بڑھنے لگے ،جب ہفتے کے دن تومچھلیاں پانی پر تیرتی ہوئی ان کے سامنے آتیں اور جس دن ہفتہ نہ ہوتا اس دن مچھلیاں نہ آتیں۔اسی طرح ہم ان کی نافرمانی کی وجہ سے ان کی آزمائش کرتے تھے۔  اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا: تم ان لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں سخت عذاب دینے والاہے؟ انہوں نے کہا: تمہارے رب کے حضور عذر پیش کرنے کے لئے اور شاید یہ ڈریں۔ پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو بھلا دیا جو انہیں کی گئی تھی تو ہم نے برائی سے منع کرنے والوں کو نجات دی اور ظالموں کو ان کی نافرمانی کے سبب برے عذاب میں گرفتار کردیا۔ پھر جب انہوں نے ممانعت کے حکم سے سرکشی کی ہم نے ان سے فرمایا: دھتکارے ہوئے بندر بن جاؤ۔

{وَ سْــٴَـلْهُمْ:اور ان سے پوچھو۔} شانِ نزول:سرکارِ دو عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ مدینہ میں رہنے والے یہودیوں کو ان کے کفر پر سرزنش کرتے اور ان سے فرمایا کرتے کہ تم لوگ اپنے باپ دادا کے نقشِ قدم پر ہو کہ انہوں نے ہمیشہ پچھلے نبیوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مخالفت کی ۔ (اور تم میری مخالفت کر رہے ہو۔) اس پر یہودی بولے ’’ہمارے باپ دادا اپنے رب عَزَّوَجَلَّکے فرمانبردار اور اپنے نبیوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اطاعت گزار تھے، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ واقعی ان کے باپ دادا اپنے نبیوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مخالفت کرتے رہے ہیں مگر ان کا خیال تھا کہ ان واقعات کی کسی کو خبر نہیں ، اس لئے اپنے باپ دادوں کی معصومیت کے ڈھنڈورے پیٹتے تھے ۔تب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی جس میں ان کے پول کھول دئیے گئے اور وہ لوگ حیران رہ گئے۔ (صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۶۳، ۲ / ۷۱۹)

             اس آیت میں خطاب سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے ہے کہ آپ اپنے قریب رہنے والے یہودیوں سے سرزنش کے طور پر اس بستی والوں کا حال دریافت فرمائیں۔اس سوال سے مقصود کفار پر یہ ظاہر کرنا تھاکہ سیّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت اور تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے معجزات کا انکار کرنا یہ اُن کیلئے کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ کفر و معصیت تو ان کا پرانا دستور ہے کہ ان کے آباؤ اَجداد بھی کفر پر قائم رہے۔ (خازن ، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۶۳، ۲ / ۱۵۰)

{عَنِ الْقَرْیَةِ: بستی کا حال۔} اس بستی کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ کون سی تھی۔ حضرت عبداللہبن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ وہ مصر و مدینہ کے درمیان ایک قریہ ہے۔ ایک قول ہے کہ مدین وطور کے درمیان ایک بستی ہے۔ امام زہری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایاکہ وہ قریہ، طبریۂ شام ہے۔ اور حضرت عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے ایک روایت یہ ہے کہ وہ بستی مَدین ہے۔ بعض کے نزدیک وہ بستی اِیلہ ہے۔(خازن ، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۶۳، ۲ / ۱۵۱، بیضاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۶۳، ۳ / ۶۷، ملتقطاً)

{اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ:جب وہ ہفتے کے بارے میں حد سے بڑھنے لگے ۔} اس آیت اور اس سے بعد والی 3 آیات میں جو واقعہ بیان ہوا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اُس بستی میں رہنے والے بنی اسرائیل کواللہ تعالیٰ نے ہفتے کا دن عبادت کے لیے خاص کرنے اور اس دن تمام دنیاوی مشاغل ترک کرنے کا حکم دیا نیز ان پر ہفتے کے دن شکار حرام فرما دیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی آزمائش کا ارادہ فرمایا تو ہوا یوں کہ ہفتے کے دن دریا میں خوب مچھلیا ں آتیں اوریہ لوگ پانی کی سطح پر انہیں دیکھتے تھے، جب اتوار کا دن آتا تو مچھلیا ں نہ آتیں۔ شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا کہ تمہیں مچھلیاں پکڑنے سے منع کیا گیا ہے لہٰذا تم ایسا کرو کہ دریا کے کنارے بڑے بڑے حوض بنالو اور ہفتے کے دن دریا سے ان حوضوں کی طرف نالیاں نکال لو، یوں ہفتے کو مچھلیاں حوض میں آ جائیں گی اور تم اتوار کے دن انہیں پکڑ لینا، چنانچہ ان کے ایک گروہ نے یہ کیا کہ جمعہ کو دریا کے کنارے کنارے بہت سے گڑھے کھودے اور ہفتے کی صبح کو دریا سے ان گڑھوں تک نالیاں بنائیں جن کے ذریعے پانی کے ساتھ آکر مچھلیاں گڑھوں میں قید ہو گئیں اور اتوار کے دن انہیں نکال لیا اور یہ کہہ کر اپنے دل کو تسلی دے دی کہ ہم نے ہفتے کے دن تو مچھلی پانی سے نہیں نکالی ۔ ایک عرصے تک یہ لوگ اس فعل میں مبتلا رہے ۔ ان کے اس عمل کی وجہ سے اس بستی میں بسنے والے افراد تین گروہوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔

(1)…ان میں ایک تہائی ایسے لوگ تھے جوہفتے کے دن مچھلی کا شکار کرنے سے باز رہے اور شکار کرنے والوں کو منع کرتے تھے۔

(2)… ایک تہائی ایسے افراد تھے جو خودخاموش رہتے اوردوسروں کو منع نہ کرتے تھے جبکہ منع کرنے والوں سے کہتے تھے کہ ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّہلاک کرنے والا یاانہیں سخت عذاب دینے والا ہے ۔

(3)… اورایک گروہ وہ خطاکار لوگ تھے جنہوں نے حکمِ الہٰی کی مخالفت کی اور ہفتے کے دن شکار کیا، اسے کھایا اور بیچا۔

 



Total Pages: 191

Go To