Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

؟پھر اُنتیسویں تیسویں آیت میں ہے:’’ اور اب میں نے تم سے اس کے ہونے سے پہلے کہہ دیا ہے تاکہ جب ہوجائے تو تم یقین کرو اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔‘‘ کیسی صاف بشارت ہے اور حضرت ِ عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی اُمت کو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ولادت کا کیسا مُنتظر بنایا اور شوق دلایا ہے اور دُنیا کا سردار خاص سیّدِ عالم کا ترجمہ ہے اور یہ فرمانا کہ ’’ مجھ میں اس کا کچھ نہیں ‘‘ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی عظمت کا اظہار، اُس کے حضور اپنا کمالِ ادب و انکسار ہے۔

             پھر اسی کتاب کے باب سولہ کی ساتویں آیت ہے’’ لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لئے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مدد گار تمہارے پاس نہ آئے گا، لیکن اگر جاؤں گا تو اُسے تمہارے پاس بھیج دوں گا۔‘‘ اس میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی بشارت کے ساتھ اس کا بھی صاف اظہار ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ خاتَم الانبیاء ہیں۔آپ کا ظہور جب ہی ہوگا جب حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامبھی تشریف لے جائیں۔ اس کی تیرہویں آیت ہے’’ لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا۔‘‘ اس آیت میں بتایا گیا کہ سیّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰیعَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی آمد پر دینِ الہٰی کی تکمیل ہوجائے گی اور آپ سچائی کی راہ یعنی دینِ حق کو مکمل کردیں گے۔ اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اُن کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور یہ کلمے کہ’’ اپنی طرف سے نہ کہے گا جو کچھ سنے گا وہی کہے گا‘‘ خاص ’ وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ(۳) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰى‘‘(نجم:۳، ۴) کا ترجمہ ہے اور یہ جملہ کہ’’ تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا‘‘ اس میں صاف بیان ہے کہ وہ نبیٔ  اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ غیبی علوم تعلیم فرمائیں گے ،جیسا کہ قرآنِ کریم میں فرمایا ’’ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ‘‘(بقرہ:۱۵۱)(تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جوتمہیں معلوم نہیں تھا۔) اور ’’ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ (التکویر:۲۴) ( یہ نبی غیب بتانے پر بخیل نہیں۔)‘‘(خزائن العرفان، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۷، ص۳۲۱)

{وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ:اور ان کیلئے پاکیزہ چیزیں حلال فرماتے ہیں۔} یعنی جو حلال و طیب چیزیں بنی اسرائیل پر ان کی نافرمانی کی وجہ سے حرام ہو گئی تھیں نبیٔ  اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ انہیں حلال فرما دیں گے اور بہت سی خبیث و گندی چیزوں کو حرام کریں گے۔

{وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ:اور ان کے اوپر سے وہ بوجھ اور قیدیں اتارتے ہیں جو ان پر تھیں۔} بوجھ سے مراد سخت تکلیفیں ہیں جیسا کہ توبہ میں اپنے آپ کو قتل کرنا اور جن اعضاء سے گناہ صادر ہوں ان کو کاٹ ڈالنا اور قید سے مراد مشقت والے احکام ہیں جیسا کہ بدن اور کپڑے کے جس مقام کو نجاست لگے اس کو قینچی سے کاٹ ڈالنا اور غنیمتوں کو جلانا اور گناہوں کا مکانوں کے دروازوں پر ظاہر ہونا وغیرہ۔ (مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۷، ص۳۹۰)

{وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ:اور اس کی تعظیم کریں اور اس کی مدد کریں۔} اس سے معلوم ہوا کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی تعظیم اعتقادی، عملی، قولی، فعلی، ظاہری، باطنی ہر طرح لازم ہے بلکہ رکنِ ایمان ہے ۔

{وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ:اور نور کی پیروی کریں۔} اس نور سے قرآن شریف مراد ہے جس سے مومن کا دِل روشن ہوتا ہے اور شک و جہالت کی تاریکیاں دور ہوتی ہیں اور علم و یقین کی ضیاء پھیلتی ہے۔(خازن ، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۷، ۲ / ۱۴۸)

{اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ:تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔} اس سے معلوم ہوا کہ حضر ت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دنیا و آخرت میں بھلائی لکھ دینے کی دعا اپنی امت کے لئے فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ شان امتِ محمدی کی ہے ، سُبْحَانَ اللہ اور ساتھ ہی اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے فضائل اور امتِ مرحومہ کے مناقب انہیںسنا دئیے گئے، اس سے معلوم ہوا کہ تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی امت پہلے بھی عالَم میں مشہور تھی مگر اس امت کی نیکیاں شائع کر دی گئی تھیں اور ان کے گناہوں کا ذکر نہ کیا تھا بلکہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ بھی مشہور کر دئیے گئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

’’ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ ﳝ- وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ‘‘ (الفتح: ۲۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ ان کی صفت توریت میں (مذکور) ہے اور ان کی صفت انجیل میں (مذکور) ہے۔

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَاﰳ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ۪-فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ(۱۵۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ اے لوگو میں تم سب کی طرف اس اللہکا رسول ہوں کہ آسمان و زمین کی بادشاہی اسی کو ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں جلائے اور مارے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول بے پڑھے غیب بتانے والے پر کہ اللہ اور اس کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی غلامی کرو کہ تم راہ پاؤ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہکا رسول ہوں جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے ،اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر جونبی ہیں ، ( کسی سے) پڑھے ہوئے نہیں ہیں ،اللہ اور اس کی تمام باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پالو۔

{قُلْ:تم فرماؤ ۔} یعنی اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ لوگوں سے فرما دیجئے کہ میں تم سب کی طرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کا رسول ہوں ،ایسا نہیں کہ بعض کا تو رسول ہوں ا ور بعض کا نہیں۔(خازن ، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۸، ۲ / ۱۴۸)

عمومِ رسالت کی دلیل:

            یہ آیت سَرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے عمومِ رسالت کی دلیل ہے کہ آپ تمام مخلوق کیلئے رسول ہیں اور کل جہاں آپ کی اُمت ہے۔ صحیح بخاری اور مسلم میں ہے، حضرت جابر بن عبداللہ انصاری  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا :پانچ چیزیں مجھے ایسی عطا ہوئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہ ملیں (1) ہر نبی خاص قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا اور میں سُرخ و سیاہ کی طرف مبعوث فرمایا گیا۔ (2) میرے لئے غنیمتیں حلال کی گئیں اور مجھ سے پہلے کسی کے لئے نہیں ہوئی تھیں۔(3) میرے لئے زمین پاک اور پاک



Total Pages: 191

Go To