Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

            دوسری آیت میں فرمایا:

’’ قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ‘‘ (ال عمران :۱۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:(اے حبیب!)تم فرماؤ ،کیا میں تمہیں بتادوں ؟

اورحضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ارشاد جو قرآنِ کریم میں وارد ہوا:

’’ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَۙ-فِیْ بُیُوْتِكُمْ‘‘ (آل عمران:۴۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تمہیں غیب کی خبر دیتا ہوں جو تم کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو۔

 اس کا تعلق بھی اسی قسم سے ہے ۔اور دوسری صورت کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے:

’’نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ‘‘(التحریم:۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:مجھے علم والے خبردار (اللہ) نے بتایا۔

            اور حقیقت میں انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامغیب کی خبریں دینے والے ہی ہوتے ہیں۔ تفسیر خازن میں ہے کہ ’’ آپ کے وصف میں ’’نبی‘‘ فرمایا، کیونکہ نبی ہونا اعلیٰ اور اشرف مَراتب میں سے ہے اور یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بہت بلند درجے رکھنے والے اور اس کی طرف سے خبر دینے والے ہیں۔(خازن ، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۷، ۲ / ۱۴۶)

             اُمّی کا ترجمہ اعلیٰ حضرت  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے ’’بے پڑھے ‘‘ فرمایا۔ یہ ترجمہ بالکل حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  کے ارشاد کے مطابق ہے اور یقیناً اُمّی ہونا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے کہ دنیا میں کسی سے پڑھا نہیں اور کتاب وہ لائے جس میں اَوّلین و آخرین اور غیبوں کے علوم ہیں۔( خازن ، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۷، ۲ / ۱۴۷) اعلیٰ حضرت  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں۔

ایسا  اُمّی  کس  لئے  منت کشِ  استاد  ہو         کیا کفایت اس کو اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمْ نہیں

{یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ:اسے یہ (اہلِ کتاب )اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔} یعنی اپنے پاس توریت و انجیل میں آپ کی نعت و صفت او رنبوت لکھی ہوئی پاتے ہیں۔

تورات و انجیل میں مذکور اوصافِ مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ:

            صحیح بخاری میں ہے، حضرت عطاء بن یسار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت عبداللہ بن عمرو  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے سیّدِ عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے وہ اوصاف دریافت کئے جو توریت میں مذکور ہیں تو انہوں نے فرمایا : ’’خدا کی قسم! حضور سیدُ المرسلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے جو اوصاف قرآنِ کریم میں آئے ہیں انہیں میں سے بعض اوصاف توریت میں مذکور ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے پڑھنا شروع کیا: اے نبی! ہم نے تمہیں شاہد و مُبَشِّر اور نذیر اور اُمِّیُّوں کا نگہبان بنا کر بھیجا، تم میرے بندے اور میرے رسول ہو، میں نے تمہارا نام متوکل رکھا،نہ بدخلق ہو نہ سخت مزاج، نہ بازاروں میں آواز بلند کرنے والے ہو نہ برائی سے برائی کو دفع کرنے والے بلکہ خطا کاروں کو معاف کرتے ہو اور ان پر احسان فرماتے ہو، اللہ تعالیٰ تمہیں نہ اٹھائے گا جب تک کہ تمہاری برکت سے غیر مستقیم ملت کو اس طرح راست نہ فرمادے کہ لوگ صدق و یقین کے ساتھ ’’ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رسول اللہِ‘‘ پکارنے لگیں اور تمہاری بدولت اندھی آنکھیں بینا اور بہرے کان شنوا (سننے والے) اور پردوں میں لپٹے ہوئے دل کشادہ ہوجائیں۔(بخاری، کتاب البیوع، باب کراہیۃ السخب فی السوق، ۲ / ۲۵، الحدیث: ۲۱۲۵)

             اور حضرت کعب احبار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے سرکارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی صفات میں توریت شریف کا یہ مضمون بھی منقول ہے کہ’’ اللہ تعالیٰ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی صفت میں فرمایا کہ’’ میں اُنہیں ہر خوبی کے قابل کروں گا، اور ہر خُلقِ کریم عطا فرماؤں گا، اطمینانِ قلب اور وقار کو اُن کا لباس بناؤں گا اور طاعات وا حسان کو ان کا شعار کروں گا۔ تقویٰ کو ان کا ضمیر، حکمت کو ان کا راز، صدق و وفا کو اُن کی طبیعت ،عفوو کرم کو اُن کی عادت ، عدل کو ان کی سیرت، اظہارِ حق کو اُن کی شریعت، ہدایت کو اُن کا امام اور اسلام کو اُن کی ملت بناؤں گا۔ احمد اُن کا نام ہے، مخلوق کو اُن کے صدقے میں گمراہی کے بعد ہدایت اور جہالت کے بعد علم و معرفت اور گمنامی کے بعد رفعت و منزلت عطا کروں گا۔ اُنہیں کی برکت سے قلت کے بعد کثرت اور فقر کے بعد دولت اور تَفَرُّقے کے بعد محبت عنایت کروں گا، اُنہیں کی بدولت مختلف قبائل، غیر مجتمع خواہشوں اور اختلاف رکھنے والے دلوں میں اُلفت پیدا کروں گا اور اُن کی اُمت کو تمام اُمتوں سے بہتر کروں گا۔ (الشفاء، القسم الاول فی تعظیم اللہ تعالی لہ، الباب الاول فی ثناء اللہ تعالی علیہ، الفصل الثانی، ص۲۵-۲۶)

            ایک اور حدیث میں توریت شریف سے حضور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے یہ اوصاف منقول ہیں ’’میرے بندے احمد مختار، ان کی جائے ولادت مکہ مکرمہ اور جائے ہجرت مدینہ طیبہ ہے،اُن کی اُمت ہر حال میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کثیر حمد کرنے والی ہے۔ (ابن عساکر، باب ما جاء من انّ الشام یکون ملک اہل الاسلام، ۱ / ۱۸۶-۱۸۷)

 حضرت علامہ مفتی نعیم الدین مراد آبادی  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ اہلِ کتاب ہر زمانے میں اپنی کتابوں میں تراش خراش کرتے رہے اور اُن کی بڑی کوشِش اس پر مُسلَّط رہی کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا ذکر اپنی کتابوں میں نام کو نہ چھوڑیں۔توریت انجیل وغیرہ اُن کے ہاتھ میں تھیں اس لئے انہیں اس میں کچھ دشواری نہ تھی لیکن ہزاروں تبدیلیاں کرنے بعد بھی موجودہ زمانے کی بائیبل میں حضور سیّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بشارت کا کچھ نہ کچھ نشان باقی رہ ہی گیا۔ چنانچہ برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائٹی لاہور  ۱۹۳۱ء کی چھپی ہوئی بائیبل میں یوحنا کی انجیل کے باب چودہ کی سولہویں آیت میں ہے: ’’ اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دُوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔‘‘ لفظ مددگار پر حاشیہ ہے، اس میں اس کے معنی’’ وکیل یا شفیع‘‘ لکھے ہیں تو اب حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد ایسا آنے والا جو شفیع ہو اور ابد تک رہے یعنی اس کا دین کبھی منسوخ نہ ہوبجز سیّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے کون ہے



Total Pages: 191

Go To