Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب موسیٰ کا غصہ تھما تختیاں اٹھالیں اور ان کی تحریر میں ہدایت اور رحمت ہے ان کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب موسیٰ کا غصہ تھم گیا تو اس نے تختیاں اٹھالیں اور ان کی تحریر میں ہدایت اور رحمت ہے ان کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔

{وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ:اور جب موسیٰ کا غصہ تھما۔} اس سے پہلی آیت میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے حالتِ غضب میں جو کچھ صادر ہوا اس کا ذکر کیا گیا اب اس آیت میں غصہ تھم جانے کے بعد حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے جو واقع ہوا  اسے بیان کیا گیا ہے، چنانچہ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپرقوم میں آکر تحقیق کرنے سے بھی یہ ظاہر ہو گیا کہ ا ن کے بھائی حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کوئی کوتاہی سرزد نہ ہوئی تھی اور انہوں نے جو عذر بیان کیا وہ درست تھا توآپ کا غصہ جاتا رہا اور آپ نے تورات کی تختیاں زمین سے اٹھا لیں۔ یاد رہے کہ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو غصہ آیا تو آپ نے دو کام کئے تھے (1) تورات کی تختیاں زمین پر ڈال دیں (2) حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو سر سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔ جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس کی تلافی میں بھی حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دو کام کئے (1) تورات کی تختیاں زمین سے اٹھا لیں۔ (2) اپنے بھائی کے لئے دعا کی۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۴، ۵ / ۳۷۴)

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَاۚ-فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَؕ-اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّاۚ-اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَؕ-تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُؕ-اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ(۱۵۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور موسیٰ نے اپنی قوم سے ستر مرد ہمارے وعدے کے لیے چنے پھر جب انہیں زلزلہ نے لیا موسیٰ نے عرض کی اے رب میرے تو چاہتا تو پہلے ہی انہیں اور مجھے ہلاک کردیتا کیا تو ہمیں اس کام پر ہلاک فرمائے گا جو ہمارے بے عقلوں نے کیا وہ نہیں مگر تیرا آزمانا تو اس سے بہکائے جسے چاہے اور راہ دکھائے جسے چاہے تو ہمارا مولیٰ ہے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر مہر کر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور موسیٰ نے ہمارے وعدے کے لیے اپنی قوم سے ستر مرد منتخب کرلیے پھر جب انہیں زلزلہ نے پکڑلیا توموسیٰ نے عرض کی: اے میرے رب! اگر تو چاہتا تو پہلے ہی انہیں اور مجھے ہلاک کردیتا ۔کیا تو ہمیں اس کام کی وجہ سے ہلاک فرمائے گا جو ہمارے بے عقلوں نے کیا۔ یہ تو نہیں ہے مگر تیری طرف سے آزمانا تو اس کے ذریعے جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے ۔ تو ہمارا مولیٰ ہے، تو ہمیں بخش دے اور ہم پررحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔

{وَ اخْتَارَ مُوْسٰى:اور موسیٰ نے منتخب کرلیے۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پہلی بار رب عَزَّوَجَلَّسے مناجات کرنے اور تورات لینے تشریف لے گئے تھے۔ اور اس بار گائے کی پوجا کرنے والوں کو معافی دلوانے کیلئے ستر آدمیوں کو ساتھ لے کر تشریف لے گئے، چنانچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ہر گروہ سے 6 افراد منتخب کر لئے ،چونکہ بنی اسرائیل کے بارہ گروہ تھے اور جب ہر گروہ میں سے 6 آدمی چنے تودوبڑھ گئے اور جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سے فرمایا کہ مجھے ستر آدمی لانے کا حکم ہوا ہے اور تم 72ہو گئے اس لئے تم میں سے دو آدمی یہیں رہ جائیں تو وہ آپس میں جھگڑنے لگے۔ اس پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا: رہ جانے والے کو جانے والے کی طرح ہی ثواب ملے گا، یہ سن کرحضرت کالب اور حضرت یوشع عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام رہ گئے اور کل ستر آدمی آپ کے ہمراہ گئے۔ یہ ستر افراد ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بچھڑے کی پوجا نہ کی تھی۔ (جمل مع جلالین، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۵، ۳ / ۱۱۹) حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں روزہ رکھنے، بدن اور کپڑے پاک کرنے کا حکم دیا پھر ان کے ساتھ طورِ سَینا کی طرف نکلے، جب پہاڑ کے قریب پہنچے تو انہیں ایک بادل نے ڈھانپ لیا۔ حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کے ساتھ اس میں داخل ہو گئے اور سب نے سجدہ کیا۔ پھر قوم نے اللہ تعالیٰ کا کلام سنا جو اس نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایا کہ یہ کرو اور یہ نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے بارے جو حکم دیا وہ توبہ کیلئے اپنی جان دینا تھا ۔ جب کلام کا سلسلہ ختم ہو نے کے بعد بادل اٹھا لیا گیا تو یہ لوگ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے’’ توبہ میں اپنی جانوں کو قتل کرنے کا جو حکم ہم نے سنا اس کی تصدیق ہم اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کو اعلانیہ دیکھ نہ لیں۔ اس پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دیکھتے ہی دیکھتے انہیں شدید زلزلے نے آ لیا اور وہ تمام افراد ہلاک ہو گئے۔(ابو سعود، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۵، ۲ / ۳۰۱، صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۵، ۲ / ۷۱۵، ملتقطاً) یہ دیکھ کرحضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے گڑگڑا کر بارگاہِ الہٰی میں عرض کی کہ’’ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، اگر تو چاہتا تو یہاں حاضر ہونے سے پہلے ہی انہیں اور مجھے ہلاک کردیتا  تاکہ بنی اسرائیل ان سب کی ہلاکت اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے اور انہیں مجھ پر قتل کی تہمت لگانے کا موقع نہ ملتا۔ اب جو میں اکیلا واپس جاؤں گا تو بنی اسرائیل کہیں گے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان سب کو مروا آئے ہیں۔ اے مولا! میری عزت تیرے ہاتھ میں ہے۔ کیا تو ہمیں اس کام کی وجہ سے ہلاک فرمائے گا جو ہمارے بے عقلوں نے کیا۔ انہوں نے جو کیا یہ تو تیری ہی طرف سے آزمائش ہے تو اس کے ذریعے جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے ۔ تو ہمارا مولیٰ ہے، تو ہمیں بخش دے اور ہم پررحم فرمااور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔اس آیت سے معلوم ہوا کہ شفاعت ِنبی برحق ہے جس سے دنیا ودین کی آفتیں ٹل جاتی ہیں۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سب کی شفاعت فرمائی جو اُن کے کام آئی۔

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَؕ-قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُۚ-وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍؕ-فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ(۱۵۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی لکھ اور آخرت میں بیشک ہم تیری طرف رجوع لائے فرمایا  میرا عذاب میں جسے چاہوں دوں اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہے تو عنقریب میں نعمتوں کو ان کے لیے لکھ دوں گا جو ڈرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہمارے لیے اس دنیا میں اور آخرت میں بھلائی لکھ دے ، بیشک ہم نے تیری طرف رجوع کیا۔ فرمایا: میں جسے چاہتا ہوں اپنا عذاب پہنچاتا ہوں اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے تو عنقریب میں اپنی رحمت ان کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیز گار ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔

{وَ اكْتُبْ لَنَا:اور ہمارے لیے لکھ دے۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے زلزلے کے وقت جودعا مانگی اس آیت میں اس کا بقیہ حصہ ہے۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عرض کی :اے



Total Pages: 191

Go To