Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

جانور پر کسی کا نام پکارنے سے متعلق اہم مسئلہ:

            آیتِ مبارکہ  سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جانور کی زندگی میں اس پر کسی کا نام پکارنا اسے حرام نہیں کر دیتا۔ ہاں ذبح کے وقت غیرِ خدا کا نام پکارنا حرام کر دے گا۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ جو جانور حلال ہو اسے خواہ مخواہ حرام کہنا مشرکین کا طریقہ اور سراسر جہالت ہے۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَاؕ-اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ(۱۰۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب ان سے کہا جائے آؤ اس طرف جو اللہ نے اُتارا اور رسول کی طرف کہیں ہمیں وہ بہت ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ جانیں نہ راہ پر ہوں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب ان سے کہا جائے کہ جو اللہ نے نازل فرمایا ہے اس کی طرف اور رسول کی طرف آؤتو کہتے ہیں کہ ہمیں وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ جانتے ہوں اور نہ انہیں ہدایت ہو۔

{ وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ:اور جب انہیں کہا جائے۔} مشرکوں سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی پیروی کرو تو وہ کہتے کہ ہمارے لئے ہمارے باپ دادا کا دین کافی ہے۔ اس پر فرمایا کہ باپ دادا کی اتباع تب درست ہوتی جب وہ علم رکھتے اور سیدھی راہ پر ہوتے۔

آباؤ اَجداد کی ناجائز رسمیں پوری کرنے کی مذمت:

            اللہتعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی پیروی کی دعوت ملنے پرکفار نے جو جواب دیا اس سے معلوم ہوا کہ شریعت کے مقابلے میں جاہل باپ دادوں کی رسم اختیار کرنا کفار کا طریقہ ہے۔اس سے ان لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو خوشی کی تقریبات میں اور غمی کے مواقع پر ناجائز و حرام رسمیں کرتے ہیں اور ان رسموں میں شامل نہ ہونے والے کو برا بھلا کہتے ہیں اور ان رسموں سے منع کرنے والے سے کہتے ہیں کہ ہمارے خاندان میں یہ رسمیں عرصۂ دراز سے چلی آ رہی ہیں ،ہم انہیں نہیں چھوڑ سکتے۔ اللہ تعالیٰ ایسے مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائے۔ اٰمین

نیک لوگوں کی پیروی ضروری ہے:

            آیت کے آخری حصے سے معلوم ہو اکہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی اتباع اور ان کی پیروی کرنی ضروری ہے۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰارشاد فرماتا ہے:

’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ ‘‘(توبہ:۱۱۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اے ایمان والواللہسے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔

             حضرت سفیان بن عیینہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ارشا د ہے:ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرو جن کی صورت دیکھ کر تمہیں خدا یاد آئے، جن کی گفتگو تمہارے علم میں اضافہ کرے اور جن کا عمل تمہیں آخرت کا شوق دلائے۔(جامع بیان العلم وفضلہ، باب جامع فی آداب العالم والمتعلم، ص۱۷۲)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ-لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْؕ-اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۱۰۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو تم سب کی رجوع اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ تمہیں بتا دے گا جو تم کرتے تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! تم اپنی جانوں کی فکر کرو جب تم ہدایت پر ہو تو گمراہ ہونے والا تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا اللہ ہی کی طرف تم سب کا لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں بتا دے گا جو تم کرتے تھے۔

{ عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ: تم اپنی فکر کرو۔}مسلمان کفار کی اسلام سے محرومی پر افسوس کرتے تھے اور انہیں رنج ہوتا تھا کہ کفار عناد میں مبتلا ہو کر دولتِ اسلام سے محروم رہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اُن کی تسلی فرما دی کہ اس میں تمہارا کچھ ضرر نہیں ، اَمْر بِالْمَعْرُوفِ وَ نَہْی عَنِ الْمُنْکَرکا فرض ادا کرکے تم بری الذمہ ہوچکے ہو،تم اپنی نیکی کی جزا پاؤ گے ۔

             حضرت عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: ’’ اس آیت میں اَمْر بِالْمَعْرُوف وَ نَہْی عَنِ الْمُنْکَر کے وجوب کی بہت تاکید کی ہے، کیونکہ اپنی فکر رکھنے کے معنی یہ ہیں کہ’’ ایک دوسرے کی خبر گیری کرے، نیکیوں کی رغبت دلائے اور بدیوں سے روکے۔(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ۱ / ۵۳۴)

            اور مفتی احمد یار خاں نعیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے کتنی پیاری بات ارشاد فرمائی جس کا خلاصہ ہے کہ تم اپنی فکر کرو یعنی عقائد درست کرکے ، نیک اعمال کر کے اپنی فکر کرو، اعمال میں تبلیغ بھی شامل ہے لہٰذا جو قدرت کے باوجود تبلیغ نہ کرے وہ راہ پر ہی نہیں۔(نور العرفان، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ص۱۹۸)

نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے بارے میں احادیث :

            یہاں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کاذکر ہوا، اس کی مناسبت سے ہم یہاں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے بارے 3 احادیث ذکر کرتے ہیں :

(1)…حضرت ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ’’اے لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ-لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ‘‘اور میں نے رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَسے سنا ہے کہ جب لوگ ظالم کو (ظلم کرتے ) دیکھیں اور اسے (ظلم سے) نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہتعالیٰ ان سب کو عذاب میں مبتلاء کر دے۔ (ترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی نزول العذاب اذا لم یغیّر المنکر، ۴ / ۶۹، الحدیث: ۲۱۷۵)

(2)…اور ایک مرتبہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ’’اے لوگو تم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان’’ عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ‘‘ کو پڑھ کر دھوکے میں مبتلا نہ ہو جانا کہ تم میں سے کوئی کہنے لگے ’’میں تو بس اپنی جان کی فکر کروں گا‘‘اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم! تم ضرور نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے ورنہ تم پر تمہارے شریر لوگ حکمران بن جائیں گے جو تمہیں بڑی سخت تکلیفیں پہنچائیں گے، پھر تمہارے نیک لوگ دعا کریں گے بھی توان کی دعا قبول نہ کی جائے گی۔( کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الافعال، الامر بامعروف والنہی عن المنکر، ۲ / ۲۷۱، الجزء الثالث، الحدیث: ۸۴۴۲، تفسیر طبری، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ۵ /



Total Pages: 191

Go To