Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

عید الاضحٰی کے دن حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو عطا ہوئی۔(خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۲ / ۱۳۸، تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۵ / ۳۶۰، ملتقطاً)

            نیزاس آیت میں مزید یہ چیزیں بیان ہوئی ہیں :

(1)…ہر چیز کی نصیحت، اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کو اپنے دین میں حلال حرام اور اچھی بری چیزوں سے متعلق جن احکام کی ضرورت تھی وہ سب تورات میں لکھی ہوئی تھیں۔(تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۵ / ۳۶۰)

(2)… ہر چیز کی تفصیل، اس کا معنی یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو جتنے احکامِ شرعیہ دئیے گئے تھے تورات میں ان تمام احکام کی تفصیل لکھ دی تھی۔ (تفسیر قرطبی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۴ / ۲۰۳، الجزء السابع)

 (3)… تورات کو مضبوطی سے پکڑنا۔ قوت اور مضبوطی سے پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ بڑی کوشش، چستی، ہوشیاری اور شوق سے اس میں موجود احکام پر عمل کرنے کا عزم کر کے اس کو ہاتھ میں لو۔ (قرطبی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۴ / ۲۰۳، الجزء السابع، بیضاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۳ / ۵۸، ملتقطاً)

            نوٹ:یاد رہے کہ ا س میں خطاب اگرچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ہے لیکن اس سے مراد آپ کے ساتھ آپ کی قوم بھی ہے۔

(4)…تورات کی اچھی باتیں اختیار کرنے کا حکم دینا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ تورات میں جو احکام مذکور ہیں ان میں جو زیادہ بہتر ہو اسے اختیار کرنے کا حکم دو کیونکہ تورات میں عزیمت اور رخصت،جائز اور مُستحب اُمور کا بھی ذکر ہے۔ عزیمت پر عمل کرنا رخصت پر عمل کے مقابلے میں بہترہے (صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۲ / ۷۰۹)

 ایک قول یہ ہے کہ تورات میں اَمر و نہی کا بیان ہے ، تو جس کام کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے اسے کرنے اور جس سے منع کیا گیا ہے اس سے رک جانے کا حکم دو۔ (تفسیر طبری، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۶ / ۵۹)

             اور ایک قول یہ ہے کہ تورات میں فرائض ،نوافل اور مباح کاموں کے احکام ہیں۔ فرائض و نوافل پر عمل کرنا بہترین عمل ہے اور صرف فرائض پر عمل کرنا ا س سے کم درجے کا ہے اور مباح پر عمل کرنا اس سے بھی کم درجے کا ہے۔ تو جو عمل بہترین ہے اس کے کرنے کا حکم دو۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۵ / ۳۶۰)

{سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ:عنقریب میں تمہیں نافرمانوں کا گھر دکھاؤں گا۔} مفسرین نے اس آیت کے کئی معنی بیان کئے ہیں۔حضرت حسن اور عطا  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمانے کہا کہ بے حکموں کے گھر سے جہنم مراد ہے۔ اور حضرت قتادہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ کا قول ہے کہ’’ معنی یہ ہیں کہ میں تمہیں شام میں داخل کروں گا اور گزری ہوئی اُمتوں کے منازل دکھاؤں گا جنہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مخالفت کی تاکہ تمہیں اس سے عبرت حاصل ہو ۔ اور عطیہ عوفی کا قول ہے کہ دَارَ الْفٰسِقِیْنَسے فرعون اور اس کی قوم کے مکانات مراد ہیں جومصر میں ہیں۔ اور مفسر سدی کا قو ل ہے کہ اس سے منازلِ کفار مراد ہیں۔ کلبی نے کہا کہ اس سے عاد وثمود اور ہلاک شدہ اُمتوں کے منازل مراد ہیں جن پر عرب کے لوگ اپنے سفروں میں ہو کر گزرا کرتے تھے۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۵، ۲ / ۱۴۰)

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّؕ-وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَاۚ-وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًاۚ-وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًاؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ(۱۴۶)وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْؕ-هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠(۱۴۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیردوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑا ئی چاہتے ہیں اور اگر سب نشانیاں دیکھیں ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر ہدایت کی راہ دیکھیں اس میں چلنا پسند نہ کریں اور گمراہی کا راستہ نظر پڑے تو اس میں چلنے کو موجود ہوجائیں یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان سے بے خبر بنے۔ اور جنہوں نے ہماری آیتیں اور آخرت کے دربار کو جھٹلایا ان کا سب کیا دھرا اَکارت گیا انہیں کیا بدلہ ملے گا مگر وہی جو کرتے تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کوپھیردوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑا ئی چاہتے ہیں اور اگر وہ سب نشانیاں دیکھ لیں تو بھی ان پر ایمان نہیں لاتے اور اگر وہ ہدایت کی راہ دیکھ لیں تواسے اپنا راستہ نہیں بناتے اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھ لیں تو اسے اپنا راستہ بنالیتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے غافل رہے۔اور جنہوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تو ان کے تمام اعمال برباد ہوئے، انہیں ان کے اعمال ی کا بدلہ دیا جائے گا۔

{ سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ:اور میں اپنی آیتوں سے پھیردوں گا۔} مفسرین نے اس آیت کے مختلف معنی بیان کئے ہیں۔  حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں :اس کا معنی یہ ہے کہ جو لوگ میرے بندوں پر غرور کرتے ہیں اور میرے اولیاء سے لڑتے ہیں میں انہیں اپنی آیتیں قبول کرنے اور ان کی تصدیق کرنے سے پھیردوں گا تاکہ وہ مجھ پر ایمان نہ لائیں۔یہ اُن کے عناد کی سزا ہے کہ انہیں ہدایت سے محروم کیا گیا۔ (بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۶، ۲ / ۱۶۷)

تکبر کی تعریف اور ا س کی اَقسام:

            اس آیت میں ناحق تکبر کرنے والوں کے لئے بڑی عبرت ہے۔ تکبر کی تعریف یہ ہے کہ دوسروں کو حقیر جاننا ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ‘‘تکبر حق کی مخالفت اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔ (مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ، ص۶۰، الحدیث: ۱۴۷(۹۱))

            امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : تکبر کی تین قسمیں ہیں

(1)…وہ تکبر جو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ہو جیسے ابلیس، نمرود اور فرعون کا تکبر یا ایسے لوگوں کا تکبر جو خدائی کا دعویٰ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بندوں سے نفرت کے طور پر منہ پھیرتے ہیں۔

(2)…وہ تکبر جو اللہ تعالیٰ کے رسول کے مقابلے میں ہو ،جس طرح کفارِ مکہ نے کیا اور کہا کہ ہم آپ جیسے بشر کی اطاعت نہیں کریں گے ،ہماری ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے کوئی فرشتہ یا سردار کیوں



Total Pages: 191

Go To