Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

الآیۃ: ۱۴۳، ۲ / ۱۳۶، روح البیان، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۳، ۲ / ۲۲۹-۲۳۰)

{قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ:فرمایا:تو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گا۔} جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کا کلام سنا تو کلامِ ربانی کی لذت نے انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دیدار کا مشتاق بنا دیا چنانچہ بارگاہِ ربُّ العزّت عَزَّوَجَلَّمیں عرض کی: اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کرلوں ‘‘ یعنی صرف دل یا خیال کا دیدار نہیں مانگتا بلکہ آنکھ کا دیدار چاہتا ہوں کہ جیسے تو نے میرے کان سے حجاب اٹھا دیا تو میں نے تیرا کلامِ قدیم سن لیا ایسے ہی میری آنکھ سے پردہ ہٹا دے تاکہ تیرا جمال دیکھ لوں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے ارشاد فرمایا: تم دنیا میں میرا دیدار کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ (صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۳، ۲ / ۷۰۷)

اللہ تعالٰی کا دیدار ناممکن نہیں :

            اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار ممکن نہیں بلکہ اسی آیت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار ممکن ہونے پر کئی دلائل ہیں۔

            پہلی دلیل: اگر دیدارِ الہٰی ناممکن تھا تو اس کی دعا کرنا ناجائز ہوتا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامجو کہ نبوت کے علوم و معارف اور اس کے اَسرار کے حامل ہیں وہ ہر گز یوں دعا نہ کرتے ’’رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ‘‘اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کرلوں۔ اور اگر بالفرض یہ دعا ناجائز ہوتی تو اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ایسی دعا کرنے سے منع فرما دیتا۔ 

            دوسری دلیل : اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے فرمایا:’’لَنْ تَرٰىنِیْ: تو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گا۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دیکھنے کی نفی کی ہے، یہ نہیں فرمایا کہ میرا دیکھنا ممکن نہیں۔

             تیسری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ‘‘ البتہ اس پہاڑ کی طرف دیکھ، یہ اگر اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے دیکھنے کو پہاڑ کے اپنی جگہ برقرار رہنے پر مُعلَّق کیا اور پہاڑ کا اپنی جگہ پر برقرار رہنا فی نفسہ ممکن ہے اور جو ممکن پر موقوف ہوتا ہے وہ بھی ممکن ہوتا ہے ، لہٰذاثابت ہوا کہ حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اللہ تعالیٰ کو دیکھنا ممکن تھا۔ سرِ دست یہ تین دلائل عرض کئے ہیں ، ان کے علاوہ قرآن پاک کی کئی آیات اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار ممکن ہے اور قیامت کے دن ایمان والے اس سعادت سے بہرہ مند ہوں گے ۔ صحیح بخاری میں ہے ،حضرت عدی بن حاتم  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے ہر شخص کے ساتھ اس کا رب عَزَّوَجَلَّ کلام فرمائے گا اس شخص کے اورا س کے رب عَزَّوَجَلَّکے درمیان کوئی ترجمان ہو گا اور نہ کوئی حجاب ہو گا جو اس کے رب عَزَّوَجَلَّ کو دیکھنے سے مانع ہو۔ (بخاری، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالی: وجوہ یومئذ ناضرۃ۔۔۔ الخ، ۴ / ۵۵۶، الحدیث: ۷۴۴۳)

            نوٹ: آخرت میں مومنوں کو اللہ تعالیٰ کا دیدار ہونے سے متعلق تفصیلی دلائل سورۂ انعام کی آیت نمبر 103 کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ ﳲ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ(۱۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان: فرمایا اے موسیٰ میں نے تجھے لوگوں سے چن لیا اپنی رسالتوں اور اپنے کلام سے تو لے جو میں نے تجھے عطا فرمایا اور شکر والوں میں ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (اللہ نے) فرمایا: اے موسیٰ! میں نے اپنی رسالتوں اور اپنے کلام کے ساتھ تجھے لوگوں پر منتخب کرلیا تو جو میں نے تمہیں عطا فرمایا ہے اسے لے لو اور شکر گزاروں میں سے ہوجاؤ۔

{قَالَ یٰمُوْسٰى:فرمایا اے موسیٰ۔} اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو دیدار کے مطالبے پر منع فرما دیا تھا، اس آیت میں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر کئے گئے انعامات کو گِنوا کر انہیں تسلی دیتے ہوئے شکر کرنے کا حکم دے رہا ہے گویا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے ارشاد فرمایا: ’’اے موسیٰ! دیدار کا مطالبہ کرنے پر اگرچہ تجھے منع کر دیا گیا لیکن میں نے تمہیں فلاں فلاں عظیم نعمتیں تو عطا فرمائی ہیں لہٰذا دیدار سے منع کرنے پر اپنا سینہ تنگ نہ کرو، تم ان نعمتوں کی طرف دیکھو جن کے ساتھ میں نے تمہیں خاص کیا کہ میں نے اپنی رسالتوں کے ساتھ تجھے لوگوں پر منتخب کرلیا اور تمہیں مجھ سے بلا واسطہ ہم کلامی کا شرف عطا ہوا جبکہ دیگر انبیاء و مرسَلینعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرشتے کے واسطے سے کلام ہوا۔( خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۴، ۲ / ۱۳۸)

حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا اپنے زمانے کے لوگوں پر انتخاب ہوا:

            یاد رہے کہ آیت میں جو بیان ہو ا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو اپنی رسالتوں اور اپنے کلام کے ساتھ لوگوں پر منتخب کرلیا ‘‘ اس میں لوگوں سے مراد اُن کے زمانے کے لوگ ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے زمانے کے لوگوں میں سب سے زیادہ عزت و مرتبے والے ، شرافت ووجاہت والے تھے کیونکہ آپ صاحبِ شریعت تھے اور آپ پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کتاب تورات بھی نازل ہوئی۔ لہٰذا اس سے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور تاجدارِ رسا لت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔( خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۴، ۲ / ۱۳۸، صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۴۴، ۲ / ۷۰۸، ملتقطاً)

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍۚ-فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَاؕ-سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ(۱۴۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے اس کے لیے تختیوں میں لکھ دی ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل اور فرمایا اے موسیٰ اسے مضبوطی سے لے اور اپنی قوم کو حکم دے کہ اس کی اچھی باتیں اختیار کریں عنقریب میں تمہیں دکھاؤں گا بے حکموں کا گھر۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے اس کے لیے (تورات کی) تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی (اور  فرمایا) اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ اس کی اچھی باتیں اختیار کریں۔ عنقریب میں تمہیں نافرمانوں کا گھر دکھاؤں گا۔

{وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ:اور ہم نے اس کے لیے تختیوں میں لکھ دی۔} حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں ’’اَلْاَلْوَاحِ‘‘ یعنی تختیوں سے مراد تورات کی تختیاں ہیں اور آیت کامعنی یہ ہے کہ ہم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کیلئے تورات کو تختیوں میں لکھ دیا، جن تختیوں میں تورات کو لکھا گیا وہ زبر جد یا زمرد کی تھیں اور ان کی تعداد سات یا دس تھی۔ تورات



Total Pages: 191

Go To