Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

ہماری آیتوں کوجھٹلایا اور ان سے بالکل غافل رہے۔اور ہم نے اس قوم کو جسے دبایا گیا تھا اُس زمین کے مشرقوں اور مغربوں کا مالک بنادیا جس میں ہم نے برکت رکھی تھی اور بنی اسرائیل پر ان کے صبر کے بدلے میں تیرے رب کا اچھا وعدہ پورا ہوگیا اور ہم نے وہ سب تعمیرات برباد کردیں جو فرعون اور اس کی قوم بناتی تھی اور وہ عمارتیں جنہیں وہ بلند کرتے تھے۔

{ فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ:تو ہم نے ان سے بدلہ لیا۔} اس کا معنی یہ ہے کہ  جب بار بار فرعونیوں کو عذابوں سے نجات دی گئی اور وہ کسی عہد پر قائم نہ رہے اور ایمان نہ لائے اور کفر نہ چھوڑا تو جو میعاداُن کے لئے مقرر فرمائی گئی تھی وہ پوری ہونے کے بعد اُنہیں اللہ تعالیٰ نے دریائے نیل میں غرق کرکے ہلاک کردیا۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۳۶، ۲ / ۱۳۲)

{وَاَوْرَثْنَا:اور ہم نے مالک بنا دیا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بنی اسرائیل کو غیبی خبر دی تھی کہ ’’ عنقریب تمہارا رب تمہارے دشمنوں کو ہلاک کردے گا اور تمہیں زمین میں جانشین بنا دے گا‘‘ جیساآپ نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کر کے ہلاک کر دیا، اس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہے اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو پورے مصرو شام کا مالک بنا دیا، اس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۳۷، ۵ / ۳۴۸، ملتقطاً)

            اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ فرعون کے غرق ہو جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعون کے مَظالِم کا شکار بنی اسرائیل کو سرزمین کے مشرق و مغرب یعنی  مصر و شام کا مالک بنا دیا۔ اس سر زمین میں اللہ تعالیٰ نے نہروں ، درختوں ، پھلوں ، کھیتیوں اور پیداوار کی کثرت سے برکت رکھی تھی اس طرح  بنی اسرائیل پر ان کے صبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا اچھا وعدہ پورا ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے اُن تمام عمارتوں ، ایوانوں اور باغوں کوبرباد کر دیا جو فرعون اور اس کی قوم نے بنائے تھے۔ اس آیت میں صبر کی فضیلت بھی بیان کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل کو ان کے صبر کی وجہ سے عزت، غلبہ، خوشحالی اور حکمرانی نصیب ہوئی۔

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْۚ-قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌؕ-قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ(۱۳۸)اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا پار اتارا تو ان کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا کہ اپنے بتوں کے آگے آسن مارے تھے بولے اے موسیٰ ہمیں ایک خدا بنا دے جیسا ان کے لیے اتنے خدا ہیں بولا تم ضرور جا ہل لوگ ہو۔ یہ حال تو بربادی کا ہے جس میں یہ لوگ ہیں اور جو کچھ کررہے ہیں نرا باطل ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو ان کا گزر ایک ایسی قوم کے پاس سے ہواجو اپنے بتوں کے آگے جم کر بیٹھے ہوئے تھے۔(بنی اسرائیل نے) کہا: اے موسیٰ! ہمارے لئے بھی ایسا ہی ایک معبود بنادو جیسے ان کے لئے کئی معبود ہیں۔ (موسیٰ نے) فرمایا: تم یقینا جا ہل لوگ ہو۔  بیشک یہ لوگ جس کام میں پڑے ہوئے ہیں وہ سب برباد ہونے والا ہے اور جو کچھ یہ کررہے ہیں وہ سب باطل ہے۔

{وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ:اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا۔} اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے نعمت کی جو ناشکریاں ہوئیں اور جن برے افعال میں وہ مبتلا ہوئے ان کا اور دیگر واقعات کا بیان شروع فرمایا اورا س سے مقصود نبیٔ  اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو تسلی دینا اور آپ کی امت کو نصیحت کرنا ہے کہ وہ کسی حال میں بھی اپنے نفس کے محاسبہ سے غافل نہ ہوں اور اپنے احوال میں غورو فکر کرتے رہیں۔ (ابو سعود، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۳۸، ۲ / ۲۹۱)

             آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ دسویں محرم کے دن  فرعون اور اس کی قوم کو غرق کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو ان کا گزر ایک ایسی قوم کے پاس سے ہواجو اپنے بتوں کے آگے جم کر بیٹھے ہوئے تھے اور اُن کی عبادت کرتے تھے۔ ابن جُرَیج نے کہا کہ یہ بُت گائے کی شکل کے تھے۔ یہاں سے بنی اسرائیل کے دل میں بچھڑا پوجنے کا شوق پیدا ہوا جس کا نتیجہ بعد میں گائے پرستی کی شکل میں نمودار ہوا۔ اُن کو دیکھ کر بنی اسرائیل  نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا: اے موسیٰ! جس طرح ان کے لئے کئی معبود ہیں جن کی یہ عبادت اور تعظیم کرتے ہیں ہمارے لئے بھی ایسا ہی ایک معبود بنادو تاکہ ہم بھی ا س کی عبادت کریں اور تعظیم بجا لائیں۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے فرمایا: بیشک تم جا ہل لوگ ہوکہ اتنی نشانیاں دیکھ کر بھی نہ سمجھے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں۔(خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۳۸، ۲ / ۱۳۳، تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۳۸، ۵ / ۳۴۹، ملتقطاً)

            نوٹ: یاد رہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے یہ عرض سارے بنی اسرائیل نے نہ کی تھی کیونکہ ان میں حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور دیگر بزرگ اولیاءُ اللہرَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ بھی تھے ،بلکہ اُن لوگوں نے کی تھی جو ابھی تک راسخُ الایمان نہ ہوئے تھے۔

{ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ:بیشک یہ لوگ۔} یعنی عنقریب یہ بت پرست اور ان کے بت ہمارے ہاتھوں ہلاک کئے جائیں گے جبکہ تم بت پرست نہیں بلکہ بت شکن ہو۔ اس میں غیب کی خبر ہے اور بعد میں وہی ہوا جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا تھا۔

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ(۱۴۰)وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِۚ-یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْؕ-وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠(۱۴۱)

ترجمۂ کنزالایمان: کہا کیا اللہ کے سوا تمہارا اور کوئی خدا تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں زمانے بھر پر فضیلت دی۔ اور یاد کرو جب ہم نے تمہیں فرعون والوں سے نجات بخشی کہ تمہیں بری مار دیتے تمہارے بیٹے ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں باقی رکھتے اور اس میں تمہارے رب کا بڑا فضل ہوا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ( موسیٰ نے) فرمایا: کیا تمہارے لئے اللہکے سوا کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں سارے جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اور یاد کرو جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بہت بری سزا دیتے، تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔

{ قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا:کہا کیا اللہ کے سوا تمہارا اور کوئی خدا تلاش کروں۔} جب بنی اسرائیل نے معبود بنا کر دینے کا مطالبہ کیا تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان کی جہالت کو واضح



Total Pages: 191

Go To