Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

فرمایا کہ فرعون دَہری تھا یعنی صانعِ عالَم کے وجود کا منکر، اس کا خیال تھا کہ عالَمِ سِفْلِی کی تدبیر ستارے کرتے ہیں اسی لئے اُس نے ستاروں کی صورتوں پر بت بنوائے تھے، ان کی خود بھی عبادت کرتا تھا اور دوسروں کو بھی ان کی عبادت کا حکم دیتا تھا اور اپنے آپ کوزمین کا مُطاع و مخدوم کہتا تھا اسی لئے وہ ’’اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى ‘‘ (میں تمہارا سب سے اعلیٰ رب ہوں ) کہتا تھا۔ (مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۲۷، ص۳۸۱، خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۲۷، ۲ / ۱۲۸، ملتقطاً)

{ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ:(فرعون نے ) کہا :اب ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے۔} فرعون کی قوم کے سرداروں نے فرعون سے جویہ کہا تھا کہ’’ کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو اس لیے چھوڑدے گا تاکہ وہ زمین میں فساد پھیلائیں ‘‘  اس سے ان کا مطلب فرعون کو حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور آپ کی قوم کے قتل پر ابھارنا تھا ۔ جب اُنہوں نے ایسا کیا تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان کو نُزولِ عذاب کا خوف دلایا ۔ فرعون اپنی قوم کی خواہش پوری کرنے پر قدرت نہیں رکھتا تھا کیونکہ وہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزے کی قوت سے مرعوب ہوچکا تھا اسی لئے اس نے اپنی قوم سے یہ کہا کہ’’ ہم بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کریں گے اور لڑکیوں کو چھوڑ دیں گے۔ اس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ اس طرح حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی تعداد گھٹا کر اُن کی قوت کم کریں گے۔ مزید یہ کہ عوام میں اپنا بھرم رکھنے کے لئے یہ بھی کہہ دیا کہ’’ ہم بے شک اُن پر غالب ہیں۔ اس سے اس کا مقصود یہ تھا کہ عوام کو پتا چل جائے کہ اس نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کو کسی عجز یا خوف کی وجہ سے نہیں چھوڑا بلکہ وہ جب چاہے انہیں پکڑ سکتا ہے۔یہ بات وہ اپنے منہ سے کہتا تھا جبکہ فرعون کا حال یہ تھا کہ اس کا دل حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے رعب میں بھرا پڑا تھا۔(خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۲۷، ۲ / ۱۲۸، تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۲۷، ۵ / ۳۴۲، تفسیر قرطبی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۲۷، ۴ / ۱۸۹، الجزء السابع، ملتقطاً)

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْاۚ-اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ﳜ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۱۲۸)

ترجمۂ کنزالایمان: موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ کی مدد چاہو اور صبر کرو بیشک زمین کا مالک اللہ ہے اپنے بندوں میں جسے چاہے وارث بنائے اور آخر میدان پرہیزگاروں کے ہاتھ ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا: اللہ سے مدد طلب کرو اور صبر کرو ۔بیشک زمین کا مالک اللہ ہے، وہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے وارث بنادیتا ہے اور اچھا انجام پرہیزگاروں کیلئے ہی ہے۔

{ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ:موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا۔} فرعون کے اس قول کہ ’’ہم بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کریں گے‘‘ کی وجہ سے بنی اسرائیل میں کچھ پریشانی پیدا ہوگئی اور اُنہوں نے حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اس کی شکایت کی، اس کے جواب میں حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مدد طلب کرو، وہ تمہیں کافی ہے اور آنے والی مصیبتوں اور بلاؤں سے گھبراؤ نہیں بلکہ ان پرصبر کرو، بیشک زمین کا مالک اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے اور زمینِ مصر بھی اس میں داخل ہے، وہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے وارث بنادیتا ہے۔ یہ فرما کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بنی اسرائیل کو تَوَقُّع دلائی کہ فرعون اور اس کی قوم ہلاک ہوگی اور بنی اسرائیل اُن کی زمینوں اور شہروں کے مالک ہوں گے اور انہیں بشارت دیتے ہوئے فرمایا ’’ اچھا انجام پرہیزگاروں کیلئے ہی ہے۔(خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۲۸، ۲ / ۱۲۹، مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۲۸، ص۳۸۱، ملتقطاً)

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَاؕ-قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠(۱۲۹)

ترجمۂ کنزالایمان: بولے ہم ستائے گئے آپ کے آنے سے پہلے اور آپ کے تشریف لانے کے بعد کہا قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کرے اور اس کی جگہ زمین کا مالک تمہیں بنائے پھر دیکھے کیسے کام کرتے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (قوم نے) کہا: ہمیں آپ کے تشریف لانے سے پہلے بھی اور تشریف آوری کے بعد بھی ستایا گیا ہے۔ (موسیٰ نے)  فرمایا: عنقریب تمہارا رب تمہارے دشمنوں کو ہلاک کردے گا اور تمہیں زمین میں جانشین بنا دے گا پھر وہ دیکھے گا کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔

{ قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا:بولے ہم ستائے گئے ۔} حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم نے فرعون کی دھمکی سے خوفزدہ ہو کر دوسری مرتبہ حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے عرض کی کہ’’ ہمیں آپ کے تشریف لانے سے پہلے بھی ستایا گیا کہ فرعون اور فرعونیوں نے طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا کر رکھا تھا اور لڑکوں کو بہت زیادہ قتل کیا تھا  اور آپ کے تشریف لانے کے بعد اب پھر ستایا جائے گا کہ اب وہ دوبارہ ہماری اولاد کے قتل کا ارادہ رکھتا ہے تو ہماری مدد کب ہوگی اور یہ مصیبتیں کب دور کی جائیں گی۔ حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سے فرمایا: عنقریب تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ تمہارے دشمنوں کو ہلاک کردے گا اور تمہیں زمین میں جانشین بنا دے گاپھر وہ دیکھے گا کہ تم کیسے کام کرتے ہو اور کس طرح شکر ِنعمت بجالاتے ہو۔

حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے علمِ غیب کی دلیل:

            اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو غیب کا علم دیا تھا کہ آئندہ پیش آنے  والے واقعات بلاکم و کاست بیان فرما دئیے اور جیسا آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا کہ فرعون اپنی قوم کے ساتھ ہلاک کر دیاگیا اور بنی اسرائیل ملکِ مصر کے مالک ہوئے۔

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ(۱۳۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے فرعون والوں کو برسوں کے قحط اور پھلوں کے گھٹانے سے پکڑا کہ کہیں وہ نصیحت مانیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے فرعونیوں کو کئی سال کے قحط اور پھلوں کی کمی میں گرفتار کردیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

 { وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ :اور بیشک ہم نے فرعون والوں کو پکڑا۔} اس آیت سے اللہ تعالیٰ کی روشن نشانیوں کو جھٹلانے کے سبب فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کے ابتدائی واقعات کو بیان فرمایا گیا ہے۔ سب سے پہلے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرعونیوں کو کئی سال کے قحط، پھلوں کی کمی اور فقر وفاقہ کی مصیبت میں گرفتار کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں ’’دیہات میں رہنے والے فرعونی قحط کی مصیبت میں گرفتار ہوئے اور شہروں میں رہنے والے (آفات کی وجہ سے) پھلوں کی کمی کی مصیبت میں مبتلا ہوئے۔ حضرت کعب  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں ’’ان لوگوں پر ایک وقت ایسا آیا کہ کھجور کے درخت پر صرف ایک ہی کھجور اگتی تھی۔(صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۳۰، ۲ / ۷۰۱، خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۳۰، ۲ / ۱۲۹، ابو سعود، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۳۰، ۲ / ۲۸۸، ملتقطاً)

 



Total Pages: 191

Go To