Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

ہے۔

(1)خَالِصُ الْاِعْتِقَادْ(علم غیب سے متعلق 120دلائل پر مشتمل ایک عظیم کتاب)(2)اَنْبَاءُالْمُصْطَفٰی بِحَالِ سِرٍّ وَاَخْفٰی(حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کومَاکَانَ وَمَایَکُوْنُ کاعلم دیئے جانے کا ثبوت)(3)اِزَاحَۃُ الْعَیْبِ بِسَیْفِ الْغَیْبِ (علم غیب کے مسئلے سے متعلق دلائل اوربدمذہبوں کا رد)۔اور سرکارِ دوعالم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے کائنات اور شریعت دونوں کے متعلق اختیارات جاننے کیلئے فتاوی رضویہ کی 30ویں جلد میں موجود اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی عظیم تصنیف اَلْاَمْنُ وَالْعُلٰی لِنَاعِتِی الْمُصْطَفٰی بِدَافِعِ البلاء (مصطفٰی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو دافع البلاء یعنی بلائیں دور کرنے والاکہنے والوں کے لئے انعامات) کا مطالعہ فرمائیں۔

(4)… حلت و حرمت کا اہم اصول: اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جس امر کی شریعت میں ممانعت نہ آئی ہو وہ مباح و جائز ہے۔ حضرت سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی حدیث میں ہے ،رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ’’حلال وہ ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی کتاب میں حلال فرمایا اورحرام وہ ہے جس کو اُس نے اپنی کتاب میں حرام فرمایا اور جس سے سکوت کیا تووہ معاف ہے۔(ترمذی، کتاب اللباس، باب ما جاء فی لبس الفراء، ۳ / ۲۸۰، الحدیث: ۱۷۳۲)

قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ(۱۰۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تم سے اگلی ایک قوم نے انہیں پوچھا پھر ان سے منکر ہو بیٹھے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک تم سے پہلے ایک قوم نے ان اشیاء کے بارے میں سوال کیا تھا پھر اس کا انکار کرنے والے ہوگئے۔

{ قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ: بیشک تم سے پہلے ایک قوم نے ان اشیاء کے بارے میں سوال کیا تھا۔} مسلمانوں کو ایک حکم دینے کے بعد سابقہ امتوں کے واقعات سے سمجھایا کہ تم سے پہلی قوموں نے بھی اپنے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے بے ضرورت سوالات کئے اور جب حضراتِ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے احکام بیان فرما دیئے تو وہ ان احکام کو بجانہ لاسکے۔تو تم سوالات کرنے ہی سے بچو کیونکہ اگر تمہیں تمہارے ہر سوال کا جواب دے دیا گیا تو ہو سکتا ہے کہ کسی سوال کا جواب تمہیں برا لگے۔

بے ضرورت سوالات کرنے کی مذمت:

             احادیث میں بے ضرورت سوالات کرنے کی مذمت بیان کی گئی ہے،اس سے متعلق 3احادیث درج ذیل ہیں ، چنانچہ

(1)…حضرت سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ مسلمانوں میں سب سے بڑ امجرم وہ ہے جس نے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا جو حرام نہیں کی گئی تھی لیکن اس کے سوال کرنے کے باعث حرام کر دی گئی۔ (بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنّۃ، باب ما یکرہ من کثرۃ السؤال۔۔۔ الخ، ۴ / ۵۰۲، الحدیث: ۷۲۸۹)

(2)…حضرت ابو ثعلبہ خُشَنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ نے کچھ حدیں مقرر کی ہیں تو ان سے آگے نہ بڑھو، کچھ فرائض لازم فرمائے ہیں تو انہیں ضائع نہ کرو، کچھ چیزیں حرام کی ہیں تو ان کی حرمت نہ توڑو اورتم پر رحمت فرماتے ہوئے کچھ چیزوں سے بغیر بھولے سکوت فرمایا ہے تو ان کے بارے میں بحث نہ کرو۔(مستدرک، کتاب الاطعمۃ، شان نزول ما احل اللہ فہو حلال، ۵ / ۱۵۷، الحدیث: ۷۱۹۶)

(3)…حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضور ِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ میں تمہیں جس کام سے روکوں اس سے اجتناب کرو اور جس کام کا تمہیں حکم دوں اسے اپنی استطاعت کے مطابق کرو کیونکہ تم سے پہلے لوگ بکثرت سوالات کرنے اور اپنے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔(مسلم، کتاب الحج، باب فرض الحج مرۃ فی العمر، ص۶۹۸، الحدیث: ۴۱۲(۱۳۳۷))

مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآىٕبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍۙ- وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَؕ-وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۱۰۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اللہ نے مقرر نہیں کیا ہے کان چِرا ہوا اور نہ بجار اور نہ وصیلہ اور نہ حامی ہاں کافر لوگ اللہ پر جھوٹا افترا باندھتے ہیں اور ان میں اکثر نرے بے عقل ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ نے بحیرہ اور سائبہ اور وصیلہ اور حام کو مقرر نہیں کیا لیکن کافر لوگ اللہ پر جھوٹا بہتان لگاتے ہیں اور ان میں اکثر بے عقل ہیں۔

{ مَا جَعَلَ اللّٰهُ  : اللہ نے مقرر نہیں کیا۔} زمانۂ جاہلیت میں کفار کا یہ دستور تھا کہ جو اونٹنی پانچ مرتبہ بچے جنتی اور آخری مرتبہ اس کے نر ہوتا تواس کا کان چیر دیتے پھر نہ اس پر سواری کرتے اور نہ اس کو ذبح کرتے اور نہ پانی اور چارے پر سے ہنکاتے، اس کو بَحِیۡرَہ کہتے۔ اور جب سفر درپیش ہوتا یا کوئی بیمار ہوتا تو یہ نذر کرتے کہ اگر میں سفر سے بخیریت واپس آؤں یا تندرست ہوجاؤں تو میری اونٹنی سائِبَہ ہے اور اس اونٹنی سے بھی نفع اُٹھانا بَحِیۡرَہ کی طرح حرام جانتے اور اس کو آزاد چھوڑ دیتے اور بکری جب سات مرتبہ بچے جن دیتی تو اگر ساتواں بچہ نر ہوتا توا س کو مرد کھاتے اور اگر مادہ ہوتا تو بکریوں میں چھوڑ دیتے اور ایسے ہی اگر نر، مادہ دونوں ہوتے تو کہتے کہ یہ اپنے بھائی سے مل گئی، اس کو وَصِیْلَہ کہتے اور جب نراونٹ سے دس مرتبہ اونٹنی کو گابھن کروالیا جاتا تو اس کو چھوڑ دیتے، نہ اس پر سواری کرتے، نہ اس سے کام لیتے اور نہ اس کو چارے پانی سے روکتے، اس کو اَلْحَامِیْ کہتے ۔ (مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ص۳۰۶)

             بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ بحیرہ وہ ہے جس کا دودھ بتوں کے لئے روکتے تھے ،کوئی اس جانور کا دودھ نہ نکالتا اور سائبہ وہ جس کو اپنے بتوں کے لئے چھوڑ دیتے تھے کوئی ان سے کام نہ لیتا۔( بخاری، کتاب المناقب، باب قصۃ خزاعۃ، ۲ / ۴۸۰، الحدیث: ۳۵۲۱، مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب النار یدخلہا الجبارون۔۔۔ الخ، ص۱۵۲۸، الحدیث: ۵۱(۲۸۵۶))

            یہ رسمیں زمانۂ جاہلیت سے ابتدائے عہدِاسلام تک چلی آرہی تھیں اس آیت میں ان کو باطل کیا گیا اور فرمایا کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مقرر نہیں کئے بلکہ کفار اللہ عَزَّوَجَلَّپر جھوٹ باندھتے ہیں کیونکہ اللہ  تعالیٰ نے ان جانوروں کو حرام نہیں کیا اُس کی طرف اِس کی نسبت غلط ہے۔یہ لوگ بیوقوف ہیں کہ  جو اپنے سرداروں کے کہنے سے ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں اور اتنا شعور نہیں رکھتے کہ جو چیز اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسُول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے حرام نہ کی اس کو کوئی حرام نہیں کرسکتا۔

 



Total Pages: 191

Go To