Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

کفار کے دلوں پر مہر لگا دی اور انہیں ہلاک کر دیا اسی طرح آپ کی قوم کے ان کافروں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دیتاہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ لکھ چکا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۲ / ۱۲۳)

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍۚ-وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ(۱۰۲)

ترجمۂ کنزالایمان:   اور ان میں اکثر کو ہم نے قول کا سچا نہ پایا اور ضرور ان میں اکثر کو بے حکم ہی پایا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے ان کے اکثر لوگوں کوعہد پورا کرنے والا نہ پایا اوربیشک ہم نے ان میں اکثر کو نافرمان ہی پایا۔

{ وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ:اور ہم نے ان کے اکثرلوگوں کوعہد پورا کرنے والا نہ پایا۔} اس عہد سے مراد وہ وعدہ اور عہد و پیمان ہے جو اللہ تعالیٰ نے میثاق کے دن ان سے لیا تھا یا مراد یہ ہے کہ جب کبھی کوئی مصیبت آتی تو عہد کرتے کہ یارب! عَزَّوَجَلَّ، اگر تو ہمیں اس سے نجات دے تو ہم ضرور ایمان لائیں گے پھر جب نجات پاتے تو اس عہد سے پھر جاتے اور ایمان نہ لاتے۔ (بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۲ / ۱۵۴، مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ص۳۷۷، ملتقطاً)

مصیبت کے وقت عہد و پیمان اور بعد میں اس کے بر خلاف:

            آیت میں عہد کی جو دوسری تفسیر بیان کی گئی ہے اس کو پیشِ نظر رکھ کر اپنے احوال پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اندر بھی عملی اعتبار سے ایسی کمزوریاں پائی جاتی ہیں کہ کوئی بیمار پڑتا ہے یا مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے عہد و پیمان کرتا ہے کہ اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، ایک مرتبہ مجھے اس مصیبت سے چھٹکارا دیدے ، دوبارہ ساری زندگی تیری فرمانبرداری میں گزاروں گا مگر جیسے ہی وہ مصیبت دور ہوتی ہے تو یہ سب عہد و پیمان پسِ پشت ڈال دئیے جاتے ہیں اور وہی پرانی موج مستی اور غفلت و معصیت کی زندگی لوٹ آتی ہے۔

            یہاں تک حضرت نوح ،حضرت ہود ،حضرت صالح ،حضرت لوط اور حضرت شعیب عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی امتوں کے واقعات بیان فرمائے گئے اب اس کے بعد والی آیتوں سے حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا تذکرہ شروع ہوتا ہے۔

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىٕهٖ فَظَلَمُوْا بِهَاۚ-فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ(۱۰۳)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو انہوں نے ان نشانیوں پر زیادتی کی تو دیکھو کیسا انجام ہوا مفسدوں کا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے ان نشانیوں پر زیادتی کی تو دیکھو فسادیوں کاکیسا انجام ہوا؟

{ ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى:پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ کو بھیجا۔} اس سورت میں جو واقعات مذکور ہیں ان میں سے یہ چھٹا قصہ ہے۔ حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعے کو ما قبل ذکر کئے گئے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات کے مقابلے میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کیونکہ حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات ان انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے معجزات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تھے اور آپ کی قوم کی جہالت بھی دیگر نبیوں کی اقوام کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ (تفسیرکبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۵ / ۳۲۴)

            اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ا س سے پہلی آیات میں جن انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ذکر ہوا ان کے بعد ہم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ان کی صداقت پر دلالت کرنے والی نشانیوں جیسے روشن ہاتھ اور عصا وغیرہ معجزات کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا توانہوں نے ان نشانیوں پر زیادتی کی کیونکہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جو نشانیاں لے کر آئے تھے وہ بالکل صاف واضح اور ظاہر تھیں لیکن پھر بھی فرعون اور اس کے درباریوں نے اقرار کی بجائے انکار ہی کیا تو انہوں نے اقرار کی جگہ انکار اور ایمان کی جگہ کفر کو رکھ کر حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نشانیوں کے ساتھ زیادتی کی تو اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ نگاہِ بصیرت سے دیکھیں کہ فسادیوں کاکیسا انجام ہوا اور ہم نے انہیں کس طرح ہلاک کیا۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۵ / ۳۲۵، خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۲ / ۱۲۳-۱۲۴، ملتقطاً)

حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا مختصرتعارف:

            حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے والد کا نام عمران اور آپ کی والدہ کا نام ا یارخا بھی مذکور ہے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامحضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں۔ حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وفات سے چار سو برس اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے سات سو برس بعد پیدا ہوئے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ایک سو بیس برس عمر پائی۔(البدایہ والنہایہ، ذکر قصۃ موسی الکلیم علیہ الصلاۃ والتسلیم، ۱ / ۳۲۶،۳۲۹، صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۲ / ۶۹۶، ملتقطاً)

            نوٹ:حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زندگی کے اہم واقعات اللہ تعالیٰ نے اس سورت اور دیگر سورتوں میں بیان فرمائے ہیں ان کی تفصیل اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان آیتوں کی تفسیر میں بیان کی جائے گی۔

فرعون کا مختصر تعارف:

            فرعون اصل میں ایک شخص کا نام تھا پھر دورِ جاہلیت میں یہ مصر کے ہر بادشاہ کا لقب بن گیا۔ حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے کے فرعون کا نام ولید بن مصعب بن ریان تھا۔ (صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۲ / ۶۹۶)

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۰۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور موسیٰ نے کہا اے فرعون میں پرور دگا رِ عالم کا رسول ہوں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور موسیٰ نے فرمایا: اے فرعون! میں ربُّ العالمین کا رسول ہوں۔

{ وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ:اور موسیٰ نے فرمایا: اے فرعون!۔}  جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرعون کے پاس تشریف لے گئے تواسے اللہ تعالیٰ کی رَبُوبِیَّت کا اقرار



Total Pages: 191

Go To