Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

زدہ رہنے کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا ’’مجھے اس بات کا خوف ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے میرے بعض ناپسندیدہ اعمال کو دیکھ کر مجھ پر غضب فرمایا اور یہ فرما دیا کہ جاؤ! میں تمہیں نہیں بخشتا تو میرا کیا بنے گا؟ (احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجاء، بیان احوال الصحابۃ والتابعین۔۔۔ الخ، ۴ / ۲۳۱)

            اللہ تعالیٰ ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے اور ہمیں اپنی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْۚ-وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ(۱۰۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کیا وہ جو زمین کے ما لکوں کے بعد اس کے وارث ہوئے انہیں اتنی ہدایت نہ ملی کہ ہم چاہیں تو انہیں ان کے گناہوں پر آفت پہنچائیں اور ہم ان کے دلوں پر مہر کرتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سنتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کیا وہ لوگ جو زمین والوں کے بعد اس کے وارث ہوئے اُنہیں اِس بات نے بھی ہدایت نہ دی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب انہیں پکڑلیں اور ہم ان کے دلوں پر مہرلگادیتے ہیں تووہ کچھ نہیں سنتے۔

{ اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ:اور کیا ان لوگوں کو ہدایت نہ ملی۔} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے گزشتہ امتوں کے کفار کا تفصیلی اور اجمالی حال بیان فرمایا اب اس آیت میں اُن واقعات کو بیان کرنے کی حکمت کا ذکر ہے کہ یہ واقعات ان موجودہ کافروں کی ہدایت کیلئے بیان کئے گئے ہیں تاکہ ان سے یہ عبرت پکڑیں اور ایمان لائیں۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ۵ / ۳۲۳، ملتقطاً)

            آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکینِ مکہ جو قومِ نوح، قومِ ثمود، اور قومِ مدین کے بعد ان علاقوں میں آباد ہوئے ہیں اتنے کم فہم اور نادان ہیں کہ یہ لوگ گزشتہ قوموں پر عذاب کے آثار دیکھ کر اتنی عبرت بھی حاصل نہیں کرتے کہ جن کی سرزمین کا انہیں وارث بنایا گیا اُن کا نافرمانی کے سبب کتنا برا انجام ہوا ؟ کیا ان لوگوں کو اتنی بات بھی سمجھ نہیں آتی کہ جس ربِّ قدیرعَزَّوَجَلَّ نے پچھلی قوموں کو ان کے کرتوتوں کی سزا دی وہ آج انہیں بھی سزا دینے پر قادر ہے۔

{ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ:اور ہم ان کے دلوں پر مہرلگادیتے ہیں۔} اس کا معنی یہ ہے کہ جس کے سامنے اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے راستے واضح فرما دئیے اور گزشتہ امتوں کی مثالیں بھی بیان فرما دیں وہ اس کے بعد بھی اپنے کفر اور سرکشی پر قائم رہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے جس کے سبب وہ کسی حق بات کو قبول کرنے کیلئے سنتا ہی نہیں۔(البحر المحیط، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ۴ / ۳۵۲)

            اس آیت میں نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کے ہر طرح سے انہیں نصیحت کرنے کے باوجود بھی اگریہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو آپ غم نہ کریں ،آپ کی تبلیغ کے مؤثِّر ہونے میں کوئی کمی نہیں ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انہیں کفر و ہٹ دھرمی کی سزا دینے کیلئے ہم نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآىٕهَاۚ-وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِۚ-فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُؕ-كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ(۱۰۱)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ بستیاں ہیں جن کے احوال ہم تمہیں سناتے ہیں اور بیشک ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر آئے تو وہ اس قابل نہ ہوئے کہ وہ اس پر ایمان لاتے جسے پہلے جھٹلاچکے تھے اللہ یونہی چھاپ لگادیتا ہے کافروں کے دلوں پر۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ بستیاں ہیں جن کے احوال ہم تمہیں سناتے ہیں اور بیشک ان کے پاس ان کے رسول روشن دلائل لے کرتشریف لائے تووہ اس قابل نہ ہوئے کہ اس پر ایمان لے آتے جسے پہلے جھٹلا چکے تھے۔ اللہ یونہی کا فروں کے دلوں پرمہر لگادیتا ہے۔

{ تِلْكَ الْقُرٰى:یہ بستیاں ہیں۔}اس آیت میں خطاب حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے ہے اور بستیوں سے وہ پانچ بستیاں مراد ہیں کہ جن کے احوال کا ذکر ما قبل آیات میں گزرا یعنی قومِ نوح،قومِ ہود،قومِ صالح، قومِ لوط اور قومِ شعیب کی بستیاں۔(البحر المحیط، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۴ / ۳۵۳، تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۵ / ۳۲۴، ملتقطاً)

             اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، ہم تمہیں ان بستیوں اور ان میں رہنے والوں کے بارے میں بتاتے ہیں ، ان کے حالات اور ان کے اپنے رسولوں کے ساتھ کئے گئے معاملات کی خبر دیتے ہیں تاکہ اے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ جان لو کہ ہم رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کی ان کے دشمن کفار کے مقابلے میں کیسی مدد فرماتے ہیں اور کفار کو ان کے کفرو عناد اور سرکشی کی سزا میں کس طرح ہلاک کرتے ہیں ، لہٰذا مشرکینِ مکہ کو چاہئے کہ پچھلی قوموں کے حالات سے عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اپنی سرکشی سے باز آجائیں ورنہ ان کا انجام بھی انہی جیساہو گا۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۲ / ۱۲۳)

{ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ:تووہ اس قابل نہ ہوئے کہ اس پر ایمان لے آتے جسے پہلے جھٹلا چکے تھے۔} اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے متعدد اقوال نقل کئے ہیں۔

(1)… حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :اس کا معنی یہ ہے کہ عالمِ ارواح میں میثاق کے دن وہ لوگ جس چیز کو دل سے جھٹلا چکے تھے کہ صرف زبان سے ’’ بَلٰی‘‘ کہہ کر اقرار کر لیا اوردل سے انکار کیا تھا اسے نبی سے سن کر بھی نہ مانے بلکہ اسی انکار پر قائم رہے۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۵ / ۳۲۴)

(2)…امام مجاہد رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر ہم ان لوگوں کوہلاک کرنے اور عذاب کا مُعایَنہ کروانے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے دنیا میں بھیج دیتے تب بھی وہ اس چیز کو نہ مانتے جسے وہ پہلی زندگی میں جھٹلا چکے تھے۔( خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۲ / ۱۲۳)

(3)… نبیوں کے معجزات دیکھنے سے پہلے جس چیز کو جھٹلا چکے تھے اسے معجزات دیکھ کر بھی نہ مانے۔ (تفسیر قرطبی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۴ / ۱۸۴، الجزء السابع)

(4)… انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تشریف آوری پر پہلے دن جس کا انکار کر چکے تھے آخر تک اسے نہ مانے جھٹلاتے ہی رہے۔(مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ص۳۷۷)

{ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ:اللہ یونہی کا فروں کے دلوں پرمہر لگادیتا ہے۔}ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے سابقہ امتوں کے



Total Pages: 191

Go To