Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

ہوجاتی ۔ میں نے اس کی وجہ پوچھی تو ارشاد فرمایا ’’ اے عائشہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا! مجھے یہ خوف ہوا کہ کہیں یہ بادل اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب نہ ہو جو میری امت پر بھیجا گیا ہو۔( شعب الایمان، الحادی عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۱ / ۵۴۶، الحدیث: ۹۹۴)

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۹۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور ڈرتے تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے مگر انہوں نے تو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے کیے پر گرفتار کیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر بستیو ں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے مگر انہوں نے تو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے پکڑلیا۔

{ وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا:اور اگر بستیو ں والے ایمان لاتے اورتقویٰ اختیار کرتے۔} پہلی آیت میں بیان ہوا کہ جب ان قوموں نے نافرمانی اور سرکشی کا راستہ اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا عذاب نازل کیا اور اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ اگر وہ لوگ اطاعت و فرماں برداری کرتے تو اس صورت میں آسمانی اور زمینی برکتیں انہیں نصیب ہوتیں چنانچہ ارشاد فرمایا کہ’’ اگر بستیو ں والے اللہ عَزَّوَجَلَّ، اس کے فرشتوں ،اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان لاتے اورخدا اور رسول کی اطاعت اختیار کرتے اور جس چیز سے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور رسول عَلَیْہِ السَّلَامنے منع فرمایا اس سے باز رہتے تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے اور ہر طرف سے انہیں خیر پہنچتی ،وقت پر نافع اور مفید بارشیں ہوتیں ،زمین سے کھیتی پھل بکثرت پیدا ہوتے، رزق کی فراخی ہوتی، امن و سلامتی رہتی اور آفتوں سے محفوظ رہتے۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۹۶، ۵ / ۳۲۱)

تقویٰ رحمت ِ الہٰی ملنے کاذریعہ ہے:

            اس سے معلوم ہو ا کہ تقویٰ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی رحمتِ الہٰی کا ذریعہ ہے ۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰارشاد فرماتا ہے:

’’ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا ‘‘ (الطلاق:۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے (دنیا و آخرت کی مصیبتوں سے) نکلنے کا راستہ بنادے گا۔

 مصائب کی دوری کے لئے نیک اعمال کرنے جائز ہیں :

            اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دنیاوی مصائب دور کرنے کے لئے نیک اعمال کرنے جائز ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کیلئے عمل کیا جائے تاکہ وہ اپنی رحمت فرماتے ہوئے ہماری حاجت پوری کردے، اسی لئے بارش کیلئے نمازِ اِستِسقاء اور گرہن میں نمازِ کسوف پڑھتے ہیں۔ یہاں ہم ظاہری اور باطنی مصائب کی دوری کے لئے احادیث میں مذکور چند اعمال ذکر کرتے ہیں تاکہ مسلمان ان پر عمل کر کے اپنے مصائب دور کرنے کی کوشش کریں۔

(1)…امُّ المؤمنین حضرت امِّ سلمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا فرماتی ہیں :میں نے سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس مسلمان پر کوئی مصیبت آئے اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ’’ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ ‘‘ پڑھے (اور یہ دعا کرے) ’’اَللّٰہُمَّ اْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْہَا‘‘ا ے اللہ!میری ا س مصیبت پر مجھے اجر عطا فرما اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما ‘‘تو اللہ تعالیٰ اس کو اس سے بہتر بدل عطا فرمائے گا۔ (مسلم، کتاب الجنائز، باب ما یقال عند المصیبۃ، ص ۴۵۷، الحدیث: ۳ (۹۱۸))

(2)…حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ یہ دل ایسے زنگ آلود ہوتے رہتے ہیں جیسے لوہا پانی لگنے سے زنگ آلود ہوجاتا ہے۔ عرض کی گئی: یا رسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، ان دلوں کی صیقل کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا ’’ موت کی زیادہ یاد اور قرآنِ کریم کی تلاوت۔ (شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۲ / ۳۵۲، الحدیث: ۲۰۱۴)

(3)…حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ جو شخص روزانہ رات کے وقت سورہ ٔواقعہ پڑھے تو وہ فاقے سے ہمیشہ محفوظ رہے گا۔( شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی فضائل السور والآیات، ۲ / ۴۹۲، الحدیث: ۲۵۰۰)

(4)…حضرت عطاء بن ابی رباح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’مجھے خبر ملی ہے کہ حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’ جو دن کے شروع میں سورہ ٔیٰسٓ پڑھ لے تو اس کی تمام ضرورتیں پوری ہوں گی۔ (دارمی،کتاب فضائل القرآن، باب فی فضل یٰس، ۲ / ۵۴۹، الحدیث: ۳۴۱۸)

{ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا:مگر انہوں نے تو جھٹلایا۔} یعنی ایمان لانے کی صورت میں توہم انہیں زمینی اور آسمانی برکتوں سے نوازتے لیکن وہ ایمان نہ لائے اور اللہ عَزَّوَجَلَّکے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو جھٹلانے لگے تو ہم نے انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے عذاب میں گرفتار کردیا۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۹۶، ۲ / ۱۲۲)

وسعتِ رزق سعادت بھی ہے اور وبال بھی:

             اس آیت سے ثابت ہوا کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کاشکر گزار بندہ ہوتو رزق میں وسعت اور فراخ دستی سعادت ہے اور جب ناشکرا ہو تو یہ اس کے لئے وبال ہے۔ ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’ وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ‘‘(ابراہیم:۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان فرما دیا کہ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گااور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآىٕمُوْنَؕ(۹۷) اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا بستیوں والے نہیں ڈرتے کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو آئے جب وہ سوتے ہوں۔ یا بستیوں والے نہیں ڈرتے کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آئے جب وہ کھیل رہے ہوں۔

 



Total Pages: 191

Go To