Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

اہلِ مدین پر آنے والے عذاب کی کیفیت:

            اس آیت میں ہے کہ اہلِ مدین کو ’’شدید زلز لے نے اپنی گرفت میں لے لیا۔‘‘ جبکہ سورۂ ہود میں اس طرح ہے :

’’ وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ ‘‘ (ہود:۹۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور ظالموں کو خوفناک چیخ نے پکڑ لیا۔

            تفسیر ابوسعود میں ہے ’’ ممکن ہے کہ زلزلے کی ابتداء اس چیخ سے ہوئی ہو، اس لئے کسی جگہ جیسے سورۂ ہود میں ہلاکت کی نسبت سببِ قریب یعنی خوفناک چیخ کی طرف کی گئی اور دوسری جگہ جیسے اس آیت میں سببِ بعید یعنی زلزلے کی طرف کی گئی۔ (ابو سعود، الاعراف، تحت الآیۃ: ۹۱، ۲ / ۲۷۶)

            حضرت قتادہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اصحابِ اَیکَہ کی طرف بھی مبعوث فرمایا تھا اور اہلِ مدین کی طرف بھی ۔اصحابِ ایکہ توابر سے ہلاک کئے گئے اور اہلِ مدین زلزلہ میں گرفتار ہوئے اور ایک ہولناک آواز سے ہلاک ہوگئے۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۹۱، ۲ / ۱۲۰)

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَاۚۛ-اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ(۹۲)

ترجمۂ کنزالایمان: شعیب کو جھٹلانے والے گویا ان گھروں میں کبھی رہے ہی نہ تھے شعیب کو جھٹلانے والے وہی تباہی میں پڑے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا ایسے ہوگئے گویا ان گھروں میں کبھی رہے ہی نہ تھے۔ شعیب کو جھٹلانے والے ہی نقصان اٹھانے والے ہوئے۔

{ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا:شعیب کو جھٹلانے والے۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے والوں پر جب مسلسل نافرمانی اور سرکشی کی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب آیا تو وہ ہلاکت و بربادی سے دوچار ہو گئے ، ان کے شاندار محلات جہاں زندگی اپنی تمام تر رونقوں کے ساتھ جلوہ گر تھی ایسے ویران ہو گئے کہ وہاں ہر سُو خاک اڑنے لگی اورہلاکت کے بعد ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا یہاں کبھی کوئی آباد ہی نہیں ہوا۔ (تفسیر طبری، الاعراف، تحت الآیۃ: ۹۲، ۶ / ۶، ملتقطاً)

{ كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ: وہی نقصان اٹھانے والے ہوئے۔} حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم کے لوگ اس خوف کی وجہ سے آپ پر ایمان نہیں لاتے تھے کہ اگر انہوں نے ان پر ایمان لا کر ان کی شریعت پر عمل شروع کر دیا تو وہ معاشی بد حالی کی دلدل میں پھنس جائیں گے ،اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تنبیہ فرمائی کہ جس خوف کی وجہ سے وہ قبولِ ایمان سے دور تھے وہ درست ثابت نہ ہوا بلکہ نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلا کہ جنہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّکے نبی پر ایمان لا کر ان کی شریعت کی پیروی کی وہ تو دین و دنیا دونوں میں کامیاب ہو گئے اور جنہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نبی حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اورآپ کی نافرمانی کی ،ان کی دنیا تو برباد ہوئی، اس کے ساتھ آخرت بھی برباد ہو گئی۔ لہٰذاا نقصان تو ان لوگوں نے اٹھایا ہے جو سر کش اور نافرمان تھے نہ کہ انہوں نے جو تابع اور فرماں بردار تھے۔ (مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۹۲، ص۳۷۵، ملخصاً)

اقتصادی اور معاشی بہتری اسلامی احکام پر عمل کرنے میں ہے:

            اہلِ مدین کے حالات میں ان لوگوں کے لئے بہت عبرت ہے کہ جو محض نام نہاد اور بے بنیاد اقتصادی زبوں حالی کے خوف سے شریعتِ اسلامیہ کے واضح احکام میں رد و بدل کرنے کیلئے پیچ و تاب کھاتے نظر آتے ہیں ،ایسے حضرات کو چاہئے کہ مدین والوں کے حالات کا بغور مطالعہ کریں اور اپنی اس روش کو بدل کر صحیح اسلامی سوچ اپنانے کی کوشش کریں اور معاشی بہتری کے لئے اسلام کے دئیے ہوئے اصول و قوانین پر عمل کریں پھر دیکھیں کہ کیسے یہ اقتصادی اور معاشی طور پر مضبوط ہوتے ہیں۔

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْۚ-فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠(۹۳)

ترجمۂ کنزالایمان: تو شعیب نے ان سے منہ پھیرا اور کہا اے میری قوم میں تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچا چکا اور تمہارے بھلے کو نصیحت کی تو کیونکر غم کروں کافروں کا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو شعیب نے ان سے منہ پھیرلیا اور فرمایا، اے میری قوم! بیشک میں نے تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا دئیے اور میں نے تمہاری خیرخواہی کی تو کافر قوم پر میں کیسے غم کروں ؟

{ وَ قَالَ:اورفرمایا۔} جب حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم پر عذاب آیا تو آپ نے ان سے منہ پھیر لیا اور قوم کی ہلاکت کے بعد جب آپ ان کی بے جان نعشوں پر گزرے تو ان سے فرمایا ’’ اے میری قوم! بیشک میں نے تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا دئیے اور میں نے تمہاری خیرخواہی کی لیکن تم کسی طرح ایمان نہ لائے ۔( صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۹۴، ۲ / ۶۹۴، ملخصاً)

مردے سنتے ہیں :

            کفار کی ہلاکت کے بعد حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ان سے جو کلام فرمایا ا س سے معلوم ہو اکہ مردے سنتے ہیں۔ حضرت قتادہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نبی حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو سنایا، بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّکے نبی حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنی قوم کو سنایا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اپنی قوم کو سنایا۔ (تفسیر ابن ابی حاتم، الاعراف، تحت الآیۃ: ۹۳، ۵ / ۱۵۲۴)

            مُردوں کے سننے کی قوت سے متعلق بخاری شریف میں ہے’’ جب ابوجہل وغیرہ کفار کو بدر کے کنویں میں پھینک دیا گیا تو اس وقت رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ان سے خطاب فرمایا ’’ فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ‘‘  توکیا تم نے اس وعدے کو سچا پایا جو تم سے تمہارے رب نے کیا تھا؟حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ ایسے جسموں سے کلام فرما رہے ہیں کہ جن کے اندر روحیں نہیں۔ ارشاد فرمایا ’’وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ مَا اَنْتُمْ بِاَسْمَعَ لِمَا اَقُولُ مِنْہُمْ‘‘اس ذات کی قسم ! جس کے قبضے میں محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ) کی جان ہے جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے زیادہ نہیں سنتے۔ (بخاری، کتاب المغازی، باب قتل ابی جہل، ۳ / ۱۱، الحدیث: ۳۹۷۶)

سابقہ اُمتوں کے احوال بیان کرنے سے مقصود:

            پچھلی امتوں کے احوال اور ان پر آنے والے عذابات کے بیان سے مقصود صرف ان کی داستانیں سنانا نہیں بلکہ مقصودنبی آخر الزّمان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی امت کو جھنجوڑنا ہے۔



Total Pages: 191

Go To