Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

حیوانیت بن گئی اور کسی کا مرتبہِ انسانی سے گر کر حیوانوں میں شامل ہونا عقلی اعتبار سے انتہائی قبیح ہے۔

            چوتھی خباثت یہ ہے کہ لواطت کا عمل ذلت و رسوائی اور آپس میں عداوت اور نفرت پیدا ہونے کا ایک سبب ہے جبکہ شوہر کا اپنی بیوی کے ساتھ جماع کرنا عزت کاذریعہ اور ان میں الفت و محبت بڑھنے کا سبب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً ‘‘ (روم:۲۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کی طرف آرام پاؤ اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھی۔

                اور عقلِ سلیم رکھنے والے کے نزدیک وہ عمل ضرور خبیث ہے جو ذلت و رسوائی اور نفرت و عداوت پیدا ہونے کا سبب بنے۔

            طبی طور پر ا س کی خباثت کے لئے یہی کافی ہے کہ انسان کی قوتِ مُدافعت ختم کر کے اسے انتہائی کَرب کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دینے والا اور ابھی تک لا علاج مرض پھیلنے کا بہت بڑا سبب لواطت ہے اور جن ممالک میں لواطت کو قانونی شکل دے کر عام کرنے کی کوشش کی گئی ہے ان میں دیگر ممالک کے مقابلے میں ایڈز کے مرض میں مبتلا افراد کی تعداد بھی زیادہ ہے۔

             اور ا س کی دوسری طبی خباثت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کے رحم میں منی کو جذب کرنے کی زبردست قوت رکھی ہے اور جب مرد اپنی بیوی کے ساتھ جماع کرتا ہے تو ا س کے جسم کا جو حصہ عورت کے جسم میں جاتا ہے تو رحم اس سے منی کے تمام قطرات جذب کر لیتا ہے جبکہ عورت اور مرد کے پچھلے مقام میں منی جذب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھی گئی اور جب مرد لواطت کا عمل کرتا ہے تو اِس کے بعد لواطت کے عمل کے لئے استعمال کئے گئے جسم کے حصے میں منی کے کچھ قطرات رہ جاتے ہیں اور بعض اوقات ان میں تَعَفُّن پیدا ہو جاتا ہے اور جسم کے اس حصے میں سوزاک وغیرہ مہلک قسم کے امراض پیدا ہو جاتے ہیں اور اس شخص کا جینا دشوار ہوجاتا ہے۔

             نوٹ: حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم کا تفصیلی واقعہ سورۂ حجر آیت51تا77میں مذکور ہے۔

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِؕ-بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ(۸۱)

ترجمۂ کنزالایمان: تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو بلکہ تم لوگ حد سے گزرے ہوئے ہو۔

{ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً:بیشک تم مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو۔} یعنی ان کے ساتھ بدفعلی کرتے ہو اور وہ عورتیں جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہارے لئے حلال کیا ہے انہیں چھوڑتے ہو۔ انسان کو شہوت اس لئے دی گئی کہ نسلِ انسانی باقی رہے اور دنیا کی آبادی ہو اور عورتوں کو شہوت کا محل اور نسل چلانے کا ذریعہ بنایا کہ ان سے معروف طریقے کے مطابق اور جیسے شریعت نے اجازت دی اس طرح اولاد حاصل کی جائے، جب آدمیوں نے عورتوں کو چھوڑ کر ان کا کام مردوں سے لینا چاہا تو وہ حد سے گزر گئے اور انہوں نے اس قوت کے مقصدِ صحیح کو فوت کردیا کیونکہ مرد کو نہ حمل ہوتا ہے اورنہ وہ بچہ جنتا ہے تو اس کے ساتھ مشغول ہونا سوائے شیطانیت کے اور کیا ہے۔ علمائے تاریخ کا بیان ہے کہ قومِ لُوط کی بستیاں نہایت سرسبز و شاداب تھیں اور وہاں غلّے اور پھل بکثرت پیدا ہوتے تھے، زمین کا دوسرا خطہ اس کی مثل نہ تھا۔ اس لئے جا بجا سے لوگ یہاں آتے تھے اور انہیں پریشان کرتے تھے، ایسے وقت میں ابلیس لعین ایک بوڑھے کی صورت میں نمودار ہوا اور ان سے کہنے لگا کہ اگر تم مہمانوں کی اس کثرت سے نجات چاہتے ہو تو جب وہ لوگ آئیں تو ان کے ساتھ بدفعلی کرو اس طرح یہ فعلِ بدانہوں نے شیطان سے سیکھا اور ان میں رائج ہوا۔

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْۚ-اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ(۸۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہی کہنا کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ تو پاکیزگی چاہتے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان کی قوم کا اس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ انہوں نے کہا: ان کو اپنی بستی سے نکال دو۔ یہ لوگ بڑے پاک بنتے پھرتے ہیں۔

{ وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖ:اور اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا۔} حضرت لوطعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سمجھانے پر ان کی قوم کے لوگ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی پیروی کرنے والوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ تو بڑی پاکیزگی چاہتے ہیں۔ یعنی گویا پاکیزگی ان کیلئے باعث ِ اِستہزاء چیز بن گئی اور اس قوم کا ذوق اتنا خراب ہوگیا تھا کہ انہوں نے اس صفت ِمدح کو عیب قرار دیا۔

 اچھے عمل کو برا اور برے عمل کو اچھا سمجھنے کی اوندھی سوچ:

            اس سے معلوم ہوا کہ جب کسی کے دن برے آتے ہیں تو اسے اوندھی سوجھتی ہے کہ اسے اچھی چیزیں بری لگنا اور بری چیزیں اچھی نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ آج کل کے حالات دیکھے جائیں تو ہمارے معاشرے میں بھی لوگوں کی ایک تعداد ایسی ہے جن میں یہ وبا عام نظر آتی ہے اور یہ لوگ جب کسی کو دین کے احکام پر عمل کرتا دیکھتے ہیں تو ان کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے اور ا س خرابی کے باعث داڑھی رکھنے کو برا اور نہ رکھنے کو اچھا سمجھتے ہیں۔ داڑھی والے کو حقارت کی نظر سے اور داڑھی منڈے کو پسند کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ داڑھی والے کے ساتھ رشتہ کرنے کو باعث عار اور بغیر داڑھی والے سے رشتہ کرنے کو قابلِ فخر تصور کرتے ہیں۔ نماز روزے کی پابندی اور سنتوں پر عمل کرنے والے انہیں اپنی نگاہوں میں عجیب نظر آتے اور گانے باجوں ، فلموں ڈراموں میں مشغول لوگ زندگی کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہوتے نظر آتے ہیں۔ عورتوں کا پردہ کرنا فرسودہ عمل اور بے پردہ ہونا جدید دور کا تقاضا سمجھتے ہیں۔ صرف اپنی بیوی کے ساتھ تعلق قائم رکھنے کو تنگ ذہنی اور غیر عورتوں سے ناجائز تعلقات کو روشن خیالی کہتے ہیں۔ اپنی عورتوں کے غیر مردوں سے دور رہنے کو اپنی بے عزتی جبکہ ان کا غیر مردوں سے ملنے اور ان سے تعلقات قائم کرنے کو اپنی عزت تصور کرتے ہیں۔ حرام کمائی کو اپنا حق ا ور ضرورت جبکہ حلال کمائی کواپنی حق تلفی قرار دیتے ہیں۔ امانت و دیانت داری اور سچائی کو بھولا پن جبکہ خیانت، جھوٹ ،دھوکہ اور فریب کاری کو اپنی چالاکی اور مہارت سمجھتے ہیں۔ سرِ دست یہ چند مثالیں پیش کی ہیں ورنہ تھوڑ اسا غور کریں تو اچھے کام کو برا اور برے کام کو اچھا سمجھنے کی ہزاروں مثالیں سامنے آ جائیں گی ۔اے کاش ! مسلمان اپنے رب



Total Pages: 191

Go To