Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

منکر کافر ہے۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی احادیث اور بزرگانِ دین کے آثار میں لواطت کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے، چنانچہ

(1)…حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا :’’ کہ مجھے تم پر قومِ لوط والے عمل کا سب سے زیادہ خوف ہے۔ (ابن ماجہ، کتاب الحدود، باب من عمل عمل قوم لوط، ۳ / ۲۳۰، الحدیث: ۲۵۶۳)

(2)…حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے تین بار ارشاد فرمایا: ’’ لَعَنَ اللہُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوْطٍ‘‘ اس شخص پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو جو قومِ لوط والا عمل کرے۔ (سنن الکبری للنسائی، ابواب التعزیرات والشہود، من عمل عمل قوم لوط، ۴ / ۳۲۲، الحدیث: ۷۳۳۷)

(3)…حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے ،نبیٔ  اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ جس شخص کو قومِ لوط والا عمل کرتے پاؤ تو کرنے والے اور کروانے والے دونوں کو قتل کردو۔ (ابوداود، کتاب الحدود، باب فیمن عمل عمل قوم لوط، ۴ / ۲۱۱، الحدیث: ۴۴۶۲)

(4)… حضرت خزیمہ بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ حق بات ارشاد فرمانے سے حیا نہیں فرماتا ’’ تم عورتوں کے پاخانہ کے مقام میں وطی نہ کرو۔ (ابن ماجہ، کتاب النکاح، باب النہی عن اتیان النساء فی ادبارہن، ۲ / ۴۵۰، الحدیث: ۱۹۲۴)

(5)…حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ ایسے شخص پر نظرِ رحمت نہیں فرماتا جو اپنی عورت کے پیچھے کے مقام میں آئے یعنی وطی کرے۔ (ابن ماجہ، کتاب النکاح، باب النہی عن اتیان النساء فی ادبارہن، ۲ / ۴۴۹، الحدیث: ۱۹۲۳)

(6)…حضرت ابو سعیدصعلوکی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’عنقریب اس امت میں ایسی جماعت پیدا ہو گی جن کو لوطی کہا جائے گا اور ا ن کی تین قسمیں ہیں :ایک وہ جو محض دیکھتے ہیں ، دوسرے وہ جو ہاتھ ملاتے ہیں اور تیسرے وہ جو اس خبیث عمل کا ارتکاب کرتے ہیں۔ (کتابُ الکبائر، الکبیرۃ الحادیۃ عشرۃ، اللواط، ص۶۳-۶۴)

(7)… امیرُ المؤمنین حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ارشاد فرماتے ہیں : ’’جو شخص خود کو لواطت کے لئے پیش کرے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے عورتوں کی شہوت میں مبتلا کردے گا اور اسے قیامت کے دن تک قبر میں مردود شیطان کی صورت میں رکھے گا۔ (کتابُ الکبائر، الکبیرۃ الحادیۃ عشرۃ، فصل فی عقوبۃ من امکن من نفسہ طائعاً، ص۶۶)

(8)…حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ ’’بد فعلی کا مرتکب اگر توبہ کئے بغیر مرجائے تو قبر میںخنزیر کی شکل میں بدل دیا جاتا ہے۔( کتابُ الکبائر، الکبیرۃ الحادیۃ عشرۃ، اللواط، ص۶۳)

(9)… حضرت سیدنا حسن بن ذکوان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں جس کا خلاصہ ہے: ’’ خوبصورت لڑکوں کے ساتھ نہ بیٹھا کرو کیونکہ ان کی صورتیں کنواری عورتوں کی صورتوں جیسی ہوتی ہیں نیز وہ عورتوں سے زیادہ فتنہ میں ڈالنے والے ہیں۔(شعب الایمان، السابع والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۴ / ۳۵۸، روایت نمبر: ۵۳۹۷)

(10)…ایک تابعی بزرگ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’میں نوجوان سالِک (یعنی عابد و زاہد نوجوان )کے ساتھ بے ریش لڑکے کے بیٹھنے کو سات درندوں سے زیادہ خطرناک سمجھتا ہوں۔ (شعب الایمان، السابع والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۴ / ۳۵۸، روایت نمبر: ۵۳۹۶)

(11)…حضرت سیدنا سفیان ثوری  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ (جن کی معرفت، علم، زُہدوتقویٰ اور نیکیوں میں پیش قدمی مشہورو معروف ہے) ایک حمام میں داخل ہوئے، آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس ایک خوبصورت لڑکا آگیا تو آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ’’اسے مجھ سے دور کرو! اسے مجھ سے دور کرو! کیونکہ میں ہر عورت کے ساتھ ایک شیطان دیکھتا ہوں جبکہ ہر لڑکے کے ساتھ دس (10) سے زیادہ شیطان دیکھتا ہوں۔(شعب الایمان، السابع والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۴ / ۳۵۹، روایت نمبر: ۵۴۰۴)

(12)…حضرت امام احمد بن حنبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا، اس کے ساتھ ایک خوبصورت بچہ بھی تھا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پوچھا ’’تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟ اس نے عرض کی:’’یہ میرا بھانجا ہے۔ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا: ’’آئندہ اسے لے کر میرے پاس نہ آنا اور اسے ساتھ لے کر راستے میں نہ چلا کر تاکہ اسے اور تمہیں نہ جاننے والے بدگمانی نہ کریں۔ (کتاب الکبائر، الکبیرۃ الحادیۃ عشرۃ، اللواط، ص۶۵)

لواطت کی عقلی اور طبی خباثتیں :

            لواطت کا عمل عقلی اور طبی دونوں اعتبار سے بھی انتہائی خبیث ہے، عقلی اعتبار سے ا س کی ایک خباثت یہ ہے کہ یہ عمل فطرت کے خلاف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فطری اعتبار سے مرد کو عمل کرنے والا اور عورت کو خاص مقام میں عمل قبول کرنے والا بنایا ہے اور لواطت انسان تو انسان جانوروں کی بھی فطرت کے خلاف ہے کہ جانور بھی شہوت پوری کرنے کے لئے نر کی طرف یا مادہ کے خاص مقام کے علاوہ کی طرف نہیں بڑھتا، اس لئے لواطت کرنے والا اپنی فطرت کے خلاف چل رہا ہے اور فطرت کے خلاف چلنا عقلی اعتبار سے انتہائی قبیح ہے۔

دوسری خباثت یہ ہے کہ ا س کی وجہ سے نسلِ انسانی میں اضافہ رک جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نسلِ انسانی میں اضافے کا یہ طریقہ مقرر فرمایا ہے کہ مرد اور عورت دونوں میں شہوت رکھی اور اس شہوت کی تسکین کے لئے جائز عورت کو ذریعہ بنایا، جب یہ اپنی شہوت پوری کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں عورت حاملہ ہوجاتی اور کچھ عرصے بعد اس کے ہاں ایک انسان کی پیدائش ہوتی ہے اور اس طرح انسانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اب اگر شہوت کو اس کے اصل ذریعے کی بجائے کسی اور ذریعے سے تسکین دی جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ نسلِ انسانی میں اضافہ رک جائے گا اور اس صورت میں انتہائی سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا، جیسے وہ ممالک جن میں لواطت کے عمل کو رواج دیا گیا ہے آج ان کا حال یہ ہو چکا ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے لوگوں کو اپنے ہاں بلوا کر اور انہیں آسائشیں دے کر اپنے ملک کے لوگوں کی تعداد بڑھانے پر مجبور ہیں۔

            تیسری خباثت یہ ہے کہ ا س عمل کی وجہ سے انسانیت ختم ہو جاتی ہے کیونکہ مرد کا عورت سے اپنی شہوت کو پورا کرنا جانوروں کے شہوانی عمل سے مشابہت رکھتا ہے لیکن مرد و عورت کے اس عمل کو صرف اس لئے اچھا قرار دیا گیا ہے کہ وہ اولاد کے حصول کا سبب ہے اور جب کسی ایسے طریقے سے شہوت کو پورا کیا جائے جس میں اولاد حاصل ہونا ممکن نہ ہو تو یہ انسانیت نہ رہی بلکہ نری



Total Pages: 191

Go To