Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

کرتا ہوں۔اس کی قوم کے سردار بولے :بیشک ہم تمہیں کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں۔

{ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا:بیشک ہم نے نوح کو بھیجا۔} اس سے ماقبل آیات میں اللہ تعالیٰ نے  اپنی قدرت اور وحدانیت کے دلائل اور اپنی عجیب و غریب صنعتوں سے متعلق بیان فرمایا، ان سے اللہ تعالیٰ کا واحد اور رب ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ پھر مرنے کے بعد اُٹھنے اور زندہ ہونے کی صحت پر مضبوط ترین دلیل قائم فرمائی ان سب کے بعد بڑی تفصیل سے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات بیان فرمائے کہ وہ بھی اپنی امتوں کوتوحید ورسالت اورعقیدۂ قیامت کی طرف دعوت دیتے رہے، اِس سے یہ معلوم ہوا کہ یہ دعوت کوئی نئی نہیں بلکہ ہمیشہ سے انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام انہی چیزوں کی دعوت دیتے آئے ہیں پھر اس کے ساتھ اس بات کو بھی بار بار دہرایا گیا کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعوت کے انکار کو معمولی نہ سمجھا جائے بلکہ پہلی امتوں کے احوال کو پیشِ نظر رکھا جائے کہ ان میں سے جنہوں نے انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو جھٹلایا اور ان کے بیان کردہ عقیدہ ِتوحیدورسالت اور حشر و نشر کا انکار کیا وہ تباہ و برباد ہوگئے۔ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے واقعات میں سب سے پہلے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ذکر کیا گیا کیونکہ کفار کی طرف بھیجے جانے والے پہلے رسول یہی تھے۔

حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مختصر تعارف:

            حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اسم گرامی یشکر یا عبدُ الغفار ہے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامحضرت ادریس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پڑپوتے تھے۔ آپ کا لقب ’’نوح‘‘ اس لئے ہو اکہ آپ کثرت سے گریہ و زاری کیا کرتے تھے ، چالیس یا پچاس سال کی عمر میں نبوت سے سرفراز فرمائے گئے۔

            حضرت نوحعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو عبادتِ الہٰی کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: اے میری قوم ! ایمان قبول کر کے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرو کیونکہ اس کے سوا کوئی اور ایسا ہے ہی نہیں کہ جس کی عبادت کی جا سکے ، وہی تمہارا معبود ہے اور جس چیز کا میں تمہیں حکم دے رہا ہوں اس میں اگر تم  میری نصیحت قبول نہ کرو گے اور راہِ راست پر نہ آؤ گے تومجھے تم پر بڑے دن یعنی روزِ قیامت یا روز ِطوفان  کے عذاب کا خوف ہے۔

نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت کی زبردست دلیل:

             انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ان تذکروں میں سید ِ عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت کی زبردست دلیل ہے کیونکہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اُمّی تھے، پھر آپ کا ان واقعات کو تفصیلاًبیان فرمانا بالخصوص ایسے ملک میں جہاں اہلِ کتاب کے علماء بکثرت موجود تھے اور سرگرم مخالف بھی تھے ،ذراسی بات پاتے تو بہت شور مچاتے، وہاں حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکا ان واقعات کو بیان فرمانا اور اہلِ کتاب کا ساکت و حیران رہ جانا اس بات کی صریح دلیل ہے کہ آپ نبی ٔ برحق ہیں اور پروردِگار عالم عَزَّوَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر علوم کے دروازے کھول دیئے ہیں۔

            نوٹ: حضرت نوحعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اپنی قوم کو راہِ راست پر آنے کی دعوت دینے اور ان کی قوم پر آنے والے عذاب کا تفصیلی ذکر سورۂ ہود آیت25تا 48 میں بھی مذکور ہے۔

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۶۱)اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۶۲)اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان:کہا اے میری قوم مجھ میں گمراہی کچھ نہیں میں تو ربُّ العالمین کا رسول ہوں۔ تمہیں اپنے رب کی رسالتیں پہنچاتا اور تمہارا بھلا چاہتا اور میں اللہ کی طرف سے وہ علم رکھتا ہوں جو تم نہیں رکھتے۔ اور کیا تمہیں اس کا اچنبھا ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت آئی تم میں کے ایک مرد کی معرفت کہ وہ تمہیں ڈرائے اور تم ڈرو اور کہیں تم پر رحم ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: فرمایا: اے میری قوم !مجھ میں کوئی گمراہی نہیں لیکن میں تو ربُّ العالمین کا رسول ہوں۔میں تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیرخواہی کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے وہ علم رکھتا ہوں جو تم نہیں رکھتے۔ اور کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے تمہیں میں سے ایک مرد کے ذریعے نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور تاکہ تم ڈرواور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

{ قَالَ یٰقَوْمِ:کہا اے میری قوم ۔} قوم کے سرداروں کا جہالت و سَفاہَت سے بھرپور جواب سن کر کمالِ خُلق کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جواب دیا کہ’’ اے میری قوم! مجھ میں کوئی گمراہی کی بات نہیں بلکہ میں تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے تمہاری ہدایت کے لیے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں کیونکہ جب دنیاوی بادشاہ کسی ناتجربہ کار اور جاہل کو اپنا وزیر نہیں بناتا یا کوئی اہم عہدہ نہیں سونپتاتواللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی جو سب بادشاہوں کا بادشاہ ہے وہ کیسے کسی بے وقوف یا کم علم کو منصبِ نبوت سے سرفراز فرما سکتا ہے اور میرا کام تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے پیغامات تم تک پہنچانا اور تمہاری بھلائی چاہنا ہے۔

نبوت اور گمراہی جمع نہیں ہو سکتی:

             آیت نمبر61 سے معلوم ہوا کہ نبوت اور گمراہی دونوں جمع نہیں ہو سکتیں اور کوئی نبی ایک آن کے لئے بھی گمراہ نہیں ہو سکتے ۔ اگر نبی ہی گمراہ ہوں تو پھر انہیں ہدایت کون کرے گا۔

مبلغ کو چاہیے کہ مخاطب کی جہالت پر شفقت و نرمی کا مظاہرہ کرے:

            حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی بکواس اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جواب کی طرف نظر کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نہایت حلیم و کریم بزرگ تھے کہ انتہائی بدتمیزی کے ساتھ دئیے گئے جواب کے مقابلے میں نہایت شفقت و محبت اور خیرخواہی کے ساتھ جواب عطا فرما رہے ہیں اور یہ وہی تعلیم ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو فرمائی تھی۔ چنانچہ فرعون کی طرف بھیجتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایا :

’’فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى‘‘(طہ:۴۴)

 



Total Pages: 191

Go To