Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

اوردنیوی اُمور کا قیام ہوتا ہے، خوفزدہ وہاں پناہ لیتا ہے، ضعیفوں کو وہاں امن ملتا ہے، تاجر وہاں نفع پاتے ہیں اور حج و عمرہ کرنے والے وہاں حاضر ہو کر مناسک ادا کرتے ہیں لہٰذا یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بڑی نعمت ہے۔ یونہی ذی الحجہ جس میں حج کیا جاتا ہے اور ہَدی کے جانور ان سب کے ساتھ بھی دینی اور دنیاوی امور وابستہ ہیں کہ اس کے گوشت سے غریبوں اور امیروں کا گزارہ ہوتا ہے اور اس سے ایک رکنِ اسلامی ادا ہوتا ہے۔

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌؕ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان:جان رکھو کہ اللہ  کا عذاب سخت ہے اور اللہ  بخشنے والا مہربان۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جان رکھو کہ اللہ  سخت عذاب دینے والا بھی ہے اور اللہ  بخشنے والا، مہربان بھی ہے۔

{ اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ : جان رکھو کہ اللہ  سخت عذاب دینے والا بھی ہے۔} ارشاد فرمایا گیا کہ جان رکھو کہ اللہ  عَزَّوَجَلَّ  سخت عذاب دینے والا بھی ہے اور اللہ تعالٰی  بخشنے والا، مہربان بھی ہے،تو حرم اور احرام کی حرمت کا لحاظ رکھو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمتوں کا ذکر فرمانے کے بعد اپنی صفت ’’شَدِیْدُ الْعِقَابِ‘‘ ذکر فرمائی تاکہ خوف و امید سے ایمان کی تکمیل ہو ،اس کے بعد صفت’’غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ‘‘ بیان فرما کر اپنی وسعت ِرحمت کا اظہار فرمایا۔

مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ(۹۹)

ترجمۂ کنزالایمان: رسول پر نہیں مگر حکم پہونچانا اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: رسول پر صرف تبلیغ لازم ہے اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو۔

{ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ:رسول پر صرف تبلیغ لازم ہے۔}ارشاد فرمایا کہ میرے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر صرف تبلیغ لازم ہے تو جب میرے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ حکم پہنچا کر فارغ ہوگئے تو تم پر اطاعت لازم ہوگئی اور حجت قائم ہوگئی اور تمہارے لئے عذر کی گنجائش باقی نہ رہی۔ اس میں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بے نیازی بھی مذکور ہے کہ وہ تمہارے حاجت مند نہیں بلکہ تم ان کے محتاج ہو۔ اگر کوئی بھی ان کی اطاعت نہ کرے تو ان کا کچھ نہ بگڑے گا کیونکہ وہ تبلیغ فرما چکے ،جیسے سورج سے اگر کوئی نو ر نہ لے تو سورج کو کوئی نقصان نہیں بلکہ نقصان اسی کا ہے جو سورج سے نور نہیں لے رہا۔

{ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ:اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو۔}یعنی تمہارے ظاہری اور باطنی احوال میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں ہے لہٰذا جیسے تمہارے اعمال ہوں گے اللہ تعالیٰ ویسی تمہیں جزا دے گا۔

قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۱۰۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرمادو کہ ستھرا اور گندہ برابر نہیں اگرچہ تجھے گندے کی کثرت بھائے تو اللہ سے ڈرتے رہو اے عقل والوکہ تم فلاح پاؤ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرمادو کہ گندا اور پاکیزہ برابر نہیں ہیں اگرچہ گندے لوگوں کی کثرت تمہیں تعجب میں ڈالے تو اے عقل والو! تم اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔

{ قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ: تم فرمادو کہ گندا اور پاکیزہ برابر نہیں ہیں۔}اس آیت میں فرمایا گیا کہ حلال و حرام، نیک و بد،مسلم و کافر اور کھرا کھوٹا ایک درجہ میں نہیں ہوسکتے بلکہ حرام کی جگہ حلال، بد کی جگہ نیک، کافر کی جگہ مسلمان اور کھوٹے کی جگہ کھرا ہی مقبول ہے۔

{ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ:اگرچہ گندے کی کثرت تمہیں تعجب میں ڈالے۔}اس کا معنی یہ ہے کہ دنیا داروں کو مال و دولت کی کثرت اور دنیا کی زیب و زینت بھاتی ہے حالانکہ جو نعمتیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں وہ سب سے اچھی اور سب سے زیادہ باقی رہنے والی ہیں کیونکہ دنیا کی زینت و آرائش اور اس کی نعمتیں ختم ہو جائیں گی جبکہ وہ نعمتیں ہمیشہ باقی رہیں گی جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ۱ / ۵۳۰)

دنیا کی مذمت:

            اس سے معلوم ہو اکہ دنیا کے مال و دولت کی چاہت،ا س کی نعمتوں اور آسائشوں کی خواہشات اور اس کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہونے کی تمنا میں لگے رہنا اور اپنی آخرت کی تیاری سے غافل رہنا انتہائی مذموم ہے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِؕ-ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ‘‘(اٰل عمران:۱۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:لوگوں کے لئے ان کی خواہشات کی محبت کو آراستہ کردیا گیا یعنی عورتوں اور بیٹوں اور سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے ڈھیروں اور نشان لگائے گئے گھوڑوں اورمویشیوں اور کھیتیوں کو( ان کے لئے آراستہ کردیا گیا۔) یہ سب دنیوی زندگی کا سازوسامان ہے اور صرف اللہ کے پاس اچھا ٹھکاناہے۔

اور ارشاد فرماتا ہے:

’’ وَ  مَنْ  یُّرِدْ  ثَوَابَ  الدُّنْیَا  نُؤْتِهٖ  مِنْهَاۚ-وَ  مَنْ  یُّرِدْ  ثَوَابَ  الْاٰخِرَةِ  نُؤْتِهٖ  مِنْهَاؕ-وَ  سَنَجْزِی  الشّٰكِرِیْنَ‘‘(اٰل عمران:۱۴۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور جو شخص دنیا کا انعام چاہتا ہے ہم اسے دنیا کا کچھ انعام دیدیں گے اور جو آخرت کا انعام چاہتا ہے ہم اسے آخرت کا انعام عطافرمائیں گے اورعنقریب ہم شکر ادا کرنے والوں کو صلہ عطا کریں گے۔

 



Total Pages: 191

Go To