Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

خوف اور امید کی حالت میں دعا مانگنی چاہئے:

            اس سے معلو م ہوا کہ دعا اور عبادات میں خوف و امید دونوں ہونے چاہئیں اس سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ جلد قبول ہو گی۔ اسی مفہوم پر مشتمل ایک حدیث بخاری شریف میں ہے چنانچہ حضرت براء بن عازِب  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ جب تم سونے لگو تو نماز جیسا وضو کر لیا کرو، پھر دائیں کروٹ لیٹ کر کہو’’اَللّٰہُمَّ اَسْلَمْتُ وَجْہِیْ اِلَیْکَ وَفَوَّضْتُ اَمْرِیْ اِلَیْکَ وَاَلْجَاْتُ ظَہْرِیْ اِلَیْکَ رَغْبَۃً وَرَہْبَۃً اِلَیْکَ لَا مَلْجَاَ وَلَا مَنْجَاَ مِنْکَ اِلَّا اِلَیْکَ اَللّٰہُمَّ آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِیْ اَنْزَلْتَ وَبِنَبِیِّکَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَ‘‘ ترجمہ:اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیری طرف کر دیا اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا اور تجھ سے رغبت اور خوف رکھتے ہوئے اپنی پیٹھ جھکا دی، تیرے سوا کوئی جائے پناہ اور نجات کی جگہ نہیں۔اے اللہ ! میں تیری کتاب پر ایمان لایاجو تو نے نازل فرمائی اور تیرے نبی پر ایمان لایا جنہیں تو نے بھیجا۔‘‘ (اگررات کو سوتے وقت یہ پڑھو گے تو) اگر اس رات میں مر گئے تو تم فطرت پر ہو گے۔( بخاری، کتاب الوضو ء، باب فضل من بات علی الوضو ء، ۱ / ۱۰۴، الحدیث: ۲۴۷)

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖؕ-حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِؕ-كَذٰلِكَ نُخْرِ جُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ(۵۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہی ہے کہ ہوائیں بھیجتا ہے اس کی رحمت کے آگے مژدہ سناتی یہاں تک کہ جب اٹھا لائیں بھاری بادل ہم نے اسے کسی مردہ شہر کی طرف چلایا پھر اس سے پانی اتارا پھر اس سے طرح طرح کے پھل نکالے اسی طرح ہم مُردوں کو نکالیں گے کہیں تم نصیحت مانو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہی ہے جو ہواؤں کو اس حال میں بھیجتا ہے کہ اس کی رحمت کے آگے آگے خوشخبری دے رہی ہوتی ہیں یہاں تک کہ جب وہ ہوائیں بھاری بادل کو اٹھا لاتی ہیں تو ہم اس بادل کو کسی مردہ شہر کی طرف چلاتے ہیں پھر اس مردہ شہر میں پانی اتارتے ہیں تو اس پانی کے ذریعے ہر طرح کے پھل نکالتے ہیں۔ اسی طرح ہم مُردوں کو نکالیں گے۔ (یہ بیان اس لئے ہے) تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

{ وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ:اور وہی ہے کہ ہوائیں بھیجتا ہے۔}اس سے دو آیات پہلے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے چند دلائل بیان فرمائے گے جیسے آسمان و زمین کی پیدائش، دن اور رات کا ایک دوسرے کے پیچھے آنا، سورج ،چاند اور ستاروں کا مُسَخَّر ہونا، اب اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی عظمت ، قدرت ،وحدانیت اور وقوعِ قیامت پر مزید دلائل بیان فرمائے جا رہے ہیں۔اس آیت کا خلاصہ یہ ہے’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کیسی عظیم قدرت ہے کہ وہ پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے جو اس کی رحمت یعنی بارش آنے کی خوشخبری دے رہی ہوتی ہیں یہاں تک کہ جب وہ ہوائیں سمندر سے بھاری بادل کو اٹھا لاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اس بادل کو کسی مردہ شہر کی طرف چلاتا ہے جس کی ز مین خشک پڑی ہوتی ہے اورسبزے کا نام و نشان نہیں ہوتا پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ اس مردہ زمین پر پانی اتارتا ہے اوراس پانی کے ذریعے وہاں سبزہ پیدا فرمادیتا ہے، وہاں پھل پھول اگتے ہیں ، وہاں غلہ اناج پیدا ہوتا ہے ۔ وہ مردہ زمین بھی زندہ ہوجاتی ہے اور اس کی پیداوار کے ذریعے لوگوں کی زندگی کا سامان بھی مہیا ہوجاتا ہے ۔ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قدرت ہے اور یہی دلیلِ قدرت اس بات کو ماننے پر بھی مجبور کردیتی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو ویرانی کے بعد زندگی عطا فرماتا ہے اور اس کو سرسبز و شاداب فرماتا ہے اور اس میں کھیتی، درخت، پھل پھول پیدا کرتا ہے ایسے ہی مُردوں کو قبروں سے زندہ کرکے اُٹھائے گا، کیونکہ جو خشک لکڑی سے ترو تازہ پھل پیدا کرنے پر قادر ہے اُس سے مُردوں کا زندہ کرنا کیا بعید ہے۔ قدرت کی یہ نشانی دیکھ لینے کے بعد عقلمند، سلیم ُالحَواس کو مُردوں کے زندہ کئے جانے میں کچھ تردد باقی نہیں رہتا۔

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُ جُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖۚ-وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُ جُ اِلَّا نَكِدًاؕ-كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠(۵۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جو اچھی زمین ہے اس کا سبزہ اللہ کے حکم سے نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں نہیں نکلتا مگر تھوڑا بمشکل ہم یونہی طرح طرح سے آیتیں بیان کرتے ہیں ان کے لیے جو احسان مانیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو اچھی زمین ہوتی ہے اس کا سبزہ تواپنے رب کے حکم سے نکل آتا ہے اور جو خراب ہو اس کا سبزہ بڑی مشکل سے تھوڑا سا نکلتا ہے ۔ہم اسی طرح شکر کرنے والے لوگوں کے لئے تفصیل سے آیات بیان کرتے ہیں۔

{ وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ:اور جو اچھی زمین ہوتی ہے ۔}یہ مومن کی مثال ہے کہ جس طرح عمدہ زمین پانی سے نفع پاتی ہے اور اس میں پھول پھل پیدا ہوتے ہیں اسی طرح جب مومن کے دل پر قرآنی انوار کی بارش ہوتی ہے تو وہ اس سے نفع پاتا ہے، ایمان لاتا ہے، طاعات و عبادات سے پھلتا پھولتا ہے۔یونہی یہ مثال فیضانِ نبوت کی بھی ہوسکتی ہے کہ جب نبوی فیضان عام ہوتا ہے اور نورِ نبوت کی بارش برستی ہے تو مومن کا دل اس سے نفع حاصل کرتاہے اور اسے روحانی زندگی مل جاتی ہے اور اُس کے رگ و پے میں نورِ ایمان سرایت کرجاتا ہے اور اعمالِ صالحہ کے پھل پھول کھلنے لگتے ہیں۔

{ وَ الَّذِیْ خَبُثَ:اور جو خراب ہو۔}یہ کافر کی مثال ہے کہ جیسے خراب زمین بارش سے نفع نہیں پاتی ایسے ہی کافر قرآنِ پاک سے مُنْتَفِع نہیں ہوتا اور یونہی جب فیضانِ نبوت کی بارش ہوتی ہے تو کافر کا خبیث دل اُس فیضان سے اسی طرح محروم رہتا ہے جیسے بہترین بارش سے کانٹے دار اور جھاڑ جھنکار والی زمین محروم رہتی ہے۔

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ(۵۹)قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(۶۰)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں بیشک مجھے تم پر بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔ اس کی قوم کے سردار بولے بیشک ہم تمہیں کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں۔

 

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا: اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو ۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔بے شک میں تم پر بڑے دن کے عذاب کا خوف



Total Pages: 191

Go To