Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

نیکی کی توفیق اور برائی سے بچنے کی طاقت نہیں مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کی توفیق سے۔

{ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا:اورانہیں نداکی جائے گی کہ یہ جنت ہے، تمہیں اس کا وارث بنادیا گیا۔} مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ جب جنتی جنت میں داخل ہوں گے تو ایک ندا کرنے والا پکارے گا: تمہارے لئے زندگانی ہے کبھی نہ مرو گے، تمہارے لئے تندرستی ہے کبھی بیمار نہ ہوگے، تمہارے لئے عیش ہے کبھی تنگ حال نہ ہوگے۔( مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب فی دوام نعیم اہل الجنۃ۔۔۔ الخ، ص۱۵۲۱، الحدیث: ۲۲(۲۸۳۷))

            جنت کو دو وجہ سے میراث فرمایا گیا۔ ایک یہ کہ کفار کے حصہ کی جنت بھی وہ ہی لیں گے یعنی کافروں کے ایمان لانے کی صورت میں جو جنتی محلات ان کیلئے تیار تھے وہ ان کے کفر کی وجہ سے اہلِ ایمان کو دیدئیے جائیں گے تو یہ گویا ان کی میراث ہوئی ۔ دوسرے یہ کہ جیسے میراث اپنی محنت و کمائی سے نہیں ملتی اسی طرح جنت کا ملنا بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم سے ہوگا، اپنے اعمال تو ظاہری سبب ہوں گے اور وہ بھی حقیقتاًجنت میں داخلے کا سبب بننے کے قابل نہیں ہوں گے کیونکہ ہمارے اعمال تو ہیں ہی ناقص، یہ تو صرف سابقہ نعمتوں کا شکرانہ بن جائیں یا جہنم سے چھٹکارے کا ذریعہ بن جائیں تو بھی بہت ہے۔ ان کے بھروسے پر جنت کی طمع تو خود فریبی ہے۔

 اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فضل:

            یہاں مفسرین نے ایک بہت پیاری بات ارشاد فرمائی اور وہ یہ کہ جنتی جنت میں داخل ہوں گے تو کہیں گے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ہے جس نے ہمیں ہدایت دی یعنی وہ اپنے عمل کی بات نہیں کریں گے بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل کی بات کریں گے اور اللہ عَزَّوَجَلَّفرمائے گا کہ تمہیں تمہارے اعمال کے سبب اس جنت کا وارث بنادیا گیا۔ گویا بندہ اپنے عمل کو ناچیز اور ہیچ سمجھ کر صرف اللہ کریم کے فضل پر بھروسہ کرتا ہے تواللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے فضل سے اس کے ناقص عمل کو بھی شرفِ قبولیت عطا فرماکر قابلِ ذکر بنادیتا ہے اور فرماتا ہے کہ تمہیں تمہارے اعمال کے سبب جنت دیدی گئی۔

جنت میں داخلے کا سبب:

             یہاں مفسرین نے یہ بحث بھی فرمائی ہے کہ جنت میں داخلے کا سبب کیا ہے،اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا فضل یا ہمارے اعمال۔ تو حقیقت یہی ہے کہ جنت میں داخلے کا سبب تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فضل ہی ہے جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے:

’’ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكَؕ-ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ‘‘(الدخان: ۵۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:تمہارے رب کے فضل سے، یہی بڑی کامیابی ہے۔

            اور یہی مضمون حدیث ِ مبارک میں بھی ہے، چنانچہ بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے عرض کی: یا رسول اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ کو بھی نہیں ؟ ارشاد فرمایا: ’’مجھے بھی نہیں ،مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت میں ڈھانپ لے، پس تم اخلاص کے ساتھ عمل کرو اور میانہ روی اختیار کرو۔ (بخاری، کتاب المرضی، باب تمنی المریض الموت، ۴ / ۱۳، الحدیث: ۵۶۷۳)البتہ بہت سی آیات میں اعمال کو بھی جنت میں داخلے کا سبب قرار دیا گیا ہے تو دونوں طرح کی آیات و احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ جنت میں داخلے کا حقیقی سبب تواللہ عَزَّوَجَلَّ کا فضل ہے لیکن ظاہری سبب نیک اعمال ہیں۔

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّاؕ-قَالُوْا نَعَمْۚ-فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ(۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جنت والوں نے دوزخ والوں کو پکارا کہ ہمیں تو مل گیا جو سچا وعدہ ہم سے ہمارے رب نے کیا تھا تو کیا تم نے بھی پایا جو تمہارے رب نے سچا وعدہ تمہیں دیا تھا بولے ہاں اور بیچ میں منادی نے پکار دیا کہ اللہ کی لعنت ظالموں پر ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جنتی جہنم والوں کو پکار کر کہیں گے کہ ہمارے رب نے جو ہم سے وعدہ فرمایا تھا ہم نے اسے سچا پایا تو کیا تم نے بھی اس وعدے کو سچا پایا جو تم سے تمہارے رب نے کیا تھا؟ وہ کہیں گے: ہاں ،پھر ایک ندا دینے والا ان کے درمیان پکارے گا کہ ظالموں پراللہ کی لعنت ہو۔

{ وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ:اور جنتی جہنم والوں کو پکار کر کہیں گے۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ  جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو جنت والے جہنمیوں کو پکار کر کہیں گے کہ ہمارے رب عَزَّوَجَلَّنے جو ہم سے وعدہ فرمایا تھا اور رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے جو فرمایا تھا کہ ایمان و طاعت پر اجرو ثواب پاؤگے ہم نے تو اسے سچا پایا،کیا تم لوگوں نے بھی اُس وعدے کو سچا پایا جو تم سے رب عَزَّوَجَلَّ نے کفرو نافرمانی پر عذاب کا وعدہ کیا تھا؟ وہ جواب میں کہیں گے: ہاں ، ہم نے بھی اسے سچا پایا۔

قیامت کے دن جنتی مسلمان گنہگار مسلمانوں کو طعنہ نہ دیں گے:

            یہاں دوزخ والوں سے مراد کفار جہنمی ہیں نہ کہ گنہگار مومن، کیونکہ جنتی مسلمان ان گنہگاروں کو طعنہ نہ دیں گے بلکہ ان کی شفاعت کرکے وہاں سے نکالیں گے جیسا کہ حدیثِ پاک میں ارشاد ہوا۔ یہاں آیت میں مسلمانوں کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اُسی وعدے کی تکمیل کا بیان ہے جو قرآن میں مذکور ہے:

’’ رَبَّنَاۤ  اِنَّنَا  سَمِعْنَا  مُنَادِیًا  یُّنَادِیْ  لِلْاِیْمَانِ  اَنْ  اٰمِنُوْا  بِرَبِّكُمْ  فَاٰمَنَّا  ﳓ  رَبَّنَا  فَاغْفِرْ  لَنَا  ذُنُوْبَنَا  وَ  كَفِّرْ  عَنَّا  سَیِّاٰتِنَا  وَ  تَوَفَّنَا  مَعَ  الْاَبْرَارِۚ(۱۹۳) رَبَّنَا  وَ  اٰتِنَا  مَا  وَعَدْتَّنَا  عَلٰى  رُسُلِكَ  وَ  لَا  تُخْزِنَا  یَوْمَ  الْقِیٰمَةِؕ-اِنَّكَ  لَا  تُخْلِفُ  الْمِیْعَادَ(۱۹۴)فَاسْتَجَابَ  لَهُمْ  رَبُّهُمْ  اَنِّیْ  لَاۤ  اُضِیْعُ  عَمَلَ  عَامِلٍ  مِّنْكُمْ  مِّنْ  ذَكَرٍ  اَوْ  اُنْثٰىۚ-بَعْضُكُمْ  مِّنْۢ  بَعْضٍۚ-فَالَّذِیْنَ  هَاجَرُوْا  وَ  اُخْرِجُوْا  مِنْ  دِیَارِهِمْ  وَ  اُوْذُوْا  فِیْ  سَبِیْلِیْ  وَ  قٰتَلُوْا  وَ  قُتِلُوْا  لَاُكَفِّرَنَّ  عَنْهُمْ  سَیِّاٰتِهِمْ  وَ  لَاُدْخِلَنَّهُمْ  جَنّٰتٍ  تَجْرِیْ  مِنْ  تَحْتِهَا  الْاَنْهٰرُۚ-ثَوَابًا  مِّنْ  عِنْدِ  اللّٰهِؕ-وَ  اللّٰهُ  عِنْدَهٗ  حُسْنُ  الثَّوَابِ‘‘(آل عمران:۱۹۳تا۱۹۵)

 



Total Pages: 191

Go To