Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

(3)…  حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو کسی کو مسجِد میں بآوازِ بلند گمشدہ چیز ڈھونڈتے سنے تو کہے ’’اللہ عَزَّوَجَلَّوہ گمشدہ شے تجھے نہ ملائے، کیونکہ مسجدیں اس کام کیلئے نہیں بنائی گئیں (مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، باب النہی عن نشد الضالۃ فی المسجد۔۔۔ الخ، ص ۲۸۴، الحدیث: ۸۹(۵۶۸))۔[1]

قیمتی لباس میں نماز:

            امامِ اعظم ابو حنیفہ حضرت نعمان بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنمازِ تہجد کے لئے بیش قیمت قمیص، پاجامہ، عمامہ اور چادر پہنتے تھے جس کی قیمت ڈیڑھ ہزار درہم تھی، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہر رات تہجد ایسے لباس میں پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ’’ جب ہم لوگوں سے اچھے لباس میں ملتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے اعلیٰ لباس میں ملاقات کیوں نہ کریں۔ (روح البیان، الاعراف، تحت الآیۃ: ۳۱، ۳ / ۱۵۴ملخصاً)

{ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا:اور کھاؤ اور پیو۔} شا نِ نزول: کلبی کا قول ہے کہ بنی عامر زمانۂ حج میں اپنی خوراک بہت ہی کم کر دیتے تھے اور گوشت اور چکنائی تو بالکل کھاتے ہی نہ تھے اور اس کو حج کی تعظیم جانتے تھے۔ مسلمانوں نے انہیں دیکھ کر عرض کیا: یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، ہمیں ایسا کرنے کا زیادہ حق ہے۔ اس پر یہ نازل ہوا (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۳۱، ۲ / ۸۸) کہ کھاؤ اور پیو، گوشت ہو خواہ چکنائی ہو اور اسراف نہ کرو اور وہ (یعنی اسراف) یہ ہے کہ سیر ہوچکنے کے بعد بھی کھاتے رہو یا حرام کی پرواہ نہ کرو اور یہ بھی اسراف ہے کہ جو چیزاللہ تعالیٰ نے حرام نہیں کی اس کو حرام کرلو۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا ’’کھاؤ جو چاہو اور پہنو جو چاہو اور اسراف اور تکبر سے بچتے رہو۔ (بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۳۱، ۲ / ۱۳۱) اس سے معلوم ہوا کہ محض ترک ِ دنیا عبادت نہیں ترک ِگناہ عبادت ہے۔

 قرآن کی آدھی آیت میں پورا علمِ طب:

             خلیفہ ہارون رشید کا ایک عیسائی طبیب علمِ طب میں بہت ماہر تھا، اس نے ایک مرتبہ حضرت علی بن حسین واقد رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے کہا، علم دو طرح کا ہے (1) علمِ ادیان۔ (2) علمِ ابدان۔ اور تم مسلمانوں کی کتاب قرآنِ پاک میں علمِ طب سے متعلق کچھ بھی مذکور نہیں۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اس عیسائی طبیب کو جواب دیا: اللہ تعالیٰ نے ہماری کتاب کی آدھی آیت میں پوری طب کو جمع فرما دیا ہے۔ عیسائی طبیب نے حیران ہو کر پوچھا: وہ کونسی آیت ہے؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے ’’ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا‘‘ کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو۔( تفسیر قرطبی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۳۱، ۴ / ۱۳۹، الجزء السابع)

اشیاء کی حلت و حرمت کااصول:

             آیت میں ا س بات کی دلیل ہے کہ کھانے اور پینے کی تمام چیزیں حلال ہیں سوائے اُن کے جن پر شریعت میں دلیلِ حرمت قائم ہو کیونکہ یہ قاعدہ مقررہ مُسَلَّمَہ ہے کہ تمام اشیاء میں اصل اباحت ہے مگر جس پر شارع نے ممانعت فرمائی ہو اور اس کی حرمت دلیلِ مستقل سے ثابت ہو۔

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَ جَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِؕ-قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ(۳۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ کس نے حرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالی اور پاک رزق تم فرماؤ کہ وہ ایمان والوں کے لئے ہے دنیا میں اور قیامت میں تو خاص انہیں کی ہے ہم یوہیں مفصل آیتیں بیان کرتے ہیں علم والوں کے لئے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: اللہ کی اس زینت کو کس نے حرام کیا جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا فرمائی ہے؟ اور پاکیزہ رزق کو (کس نے حرام کیا؟) تم فرماؤ: یہ دنیا میں ایمان والوں کے لئے ہے، قیامت میں تو خاص انہی کے لئے ہوگا۔ ہم اسی طرح علم والوں کے لئے تفصیل سے آیات بیان کرتے ہیں۔

{ قُلْ مَنْ حَرَّمَ:تم فرماؤ کس نے حرام کیا۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ ان جاہلوں سے فرما دیجئے جو کعبہ معظمہ کا ننگے ہو کر طواف کرتے ہیں کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی اس زینت کو کس نے حرام کیا جو اس نے اپنے بندوں کے لئے اسی لئے پیدا فرمائی کہ وہ اس سے زینت حاصل کریں اور نماز و طواف اور دیگر اوقات میں اسے پہنیں۔

زینت کی دو تفاسیر:

            زینت کی تفسیر میں دو قول ہیں :

(1)…جمہور مفسرین کے نزدیک یہاں زینت سے مراد وہ لباس ہے جو ستر پوشی کے کام آئے۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۳۲، ۲ / ۸۹)

(2)… امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں کہ آیت میں لفظ ’’زینت‘‘ زینت کی تمام اقسام کو شامل ہے اسی میں لباس اور سونا چاندی بھی داخل ہے۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۳۲، ۵ / ۲۳۰)

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس چیز کو شریعت حرام نہ کرے وہ حلال ہے۔ حرمت کے لئے دلیل کی ضرورت ہے جبکہ حلت کے لئے کوئی دلیل خاص ضروری نہیں۔

{ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ:اور پاکیزہ رزق۔} یعنی اس پاکیزہ رزق اور کھانے پینے کی لذیذ چیزوں کوکس نے حرام کیا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے نکالیں۔مسئلہ :آیت اپنے عموم پر ہے اور کھانے کی ہرچیز اس میں داخل ہے کہ جس کی حرمت پر نص وارد نہ ہوئی ہو۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۳۲، ۲ / ۸۹)

آیت’’ قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ ‘‘ کی روشنی میں چند لوگوں کو  نصیحت:

             اس آیتِ مبارکہ کی روشنی میں بہت سے لوگوں کو اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔

 



[1]     مسجدیں پاک صاف اور خوشبودار رکھنے سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا رسالہ’’مسجدیں خوشبودار رکھئے‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔



Total Pages: 191

Go To