Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

اقرار کرے گا۔پھر اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں کے بدلے میں کیا کِیا؟ وہ عرض کرے گا: میں نے علم سیکھا اور سکھایا اور تیرے لئے قرآنِ کریم پڑھا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: تو جھوٹا ہے ،تو نے اس لیے علم سیکھا تاکہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآنِ پاک اس لیے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے اور وہ تجھے کہہ لیا گیا۔ پھر اسے بھی جہنم میں ڈالنے کا حکم ہو گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا پھر ایک مالدار شخص کو لایا جائے گا جسے اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کا مال عطا فرمایا تھا، اسے لا کر نعمتیں یاد دلائی جائیں گی تووہ بھی ان نعمتوں کا اقرار کرے گا ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں کے بدلے کیا کِیا؟ وہ عرض کرے گا: میں نے تیری راہ میں جہاں ضرورت پڑی وہاں خرچ کیا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: تو جھوٹا ہے ،تو نے یہ سخاوت اس لیے کی تھی کہ تجھے سخی کہا جائے اور وہ کہہ لیا گیا۔ پھر اس کے بارے میں جہنم کا حکم ہوگا تو اسے بھی منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (مسلم، کتاب الامارۃ، باب من قاتل للریاء والسمعۃ استحق النار، ص۱۰۵۵، الحدیث: ۱۵۲(۱۹۰۵))

{ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَ:اس نے جیسے تمہیں پیدا کیا ہے ویسے ہی تم پلٹو گے۔} حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی سے بنی آدم میں سے بعض کو مومن اور بعض کو کافر پیدا فرمایا، پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں ویسے ہی لوٹائے گا جیسے ابتداء میں پیدا فرمایا تھا، مومن مومن بن کر اور کافر کافر بن کر۔( خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۹، ۲ / ۸۷)

            اس آیت کی تفسیر میں حضرت محمد بن کعب رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ جسے اللہ تعالیٰ نے ابتداء ہی سے شقی اور بد بخت لوگوں میں سے پیدا کیا ہے وہ قیامت کے دن اہلِ شقاوت سے اٹھے گا چاہے وہ پہلے نیک کام کرتا ہو جیسے ابلیس لعین، اسے اللہ تعالیٰ نے بد بختوں میں سے پیدا کیا تھا، یہ پہلے نیک اعمال کرتا تھا بالآخر کفر کی طرف لوٹ گیا اور جسےاللہ تعالیٰ نے ابتداء ہی سے سعادت مند لوگوں میں سے پیدا کیا وہ قیامت کے دن سعادت مندوں میں سے اٹھے گا اگرچہ پہلے وہ برے کام کرتا رہا ہو، جیسے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے کے جادو گر، یہ پہلے فرعون کے تابع تھے لیکن بعد میں فرعون کو چھوڑ کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لے آئے۔ (بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۹، ۲ / ۱۳۰) اور اس آیت کی ایک تفسیر یہ کی گئی ہے کہ’’ جس طرح انسان ماں کے پیٹ سے ننگے پاؤں ، ننگے بدن اور ختنہ کے بغیر پیدا ہوا تھا قیامت کے دن بھی اسی طرح ننگے پاؤں ، ننگے بدن اور ختنہ کے بغیر اٹھے گا۔ (تفسیرات احمدیہ، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۹، ص۴۱۴)

            حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’تم قیامت میں ننگے پاؤں ، ننگے بدن اور ختنہ کے بغیر اٹھائے جاؤ گے۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب قول اللہ تعالی: واتخذ اللہ ابراہیم خلیلاً،  ۲ / ۴۲۰، الحدیث: ۳۳۴۹)

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُؕ-اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ(۳۰)

ترجمۂ کنزالایمان: ایک فرقے کو راہ دکھائی اور ایک فرقے کی گمراہی ثابت ہوئی انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو والی بنایا اور سمجھتے یہ ہیں کہ وہ راہ پر ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ایک گروہ کو ہدایت دی اور ایک فرقے پرگمراہی ثابت ہوگئی، انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنالیا ہے اور سمجھتے یہ ہیں کہ یہ ہدایت یافتہ ہیں۔

{ فَرِیْقًا هَدٰى:ایک گروہ کو ہدایت دی۔} یعنی تمام لوگ ایمان نہ لائیں گے۔ کچھ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ایمان و معرفت کی ہدایت دی اور انہیں طاعت و عبادت کی توفیق دی۔ ان کے بالمقابلکچھ لوگ ایسے ہیں جو گمراہ ہوئے اور یہ کفار ہیں ، انہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّکو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنالیا ہے۔ شیطانوں کو دوست بنانے کا مطلب یہ ہے کہ اُن کی اطاعت کی، اُن کے کہے پر چلے، اُن کے حکم سے کفرو معاصی کو اختیار کیا اور اس کے باوجود یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت یافتہ ہیں۔ عمومی گمراہی سے بدتر گمراہی یہ ہوتی ہے کہ آدمی گمراہ ہونے کے باوجود خود کو ہدایت یافتہ سمجھے۔

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا ۚ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠(۳۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اے آدم کی اولاد اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو بیشک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اے آدم کی اولاد! ہر نمازکے وقت اپنی زینت لے لو اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔

{ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ:اپنی زینت لے لو۔} یعنی نماز کے وقت صرف سترِ عورت کیلئے کفایت کرنے والا لباس ہی نہ پہنو بلکہ اس کے ساتھ وہ لباس زینت والا بھی ہو یعنی عمدہ لباس میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور حاضری دو۔ اور ایک قول یہ ہے کہ خوشبو لگانا زینت میں داخل ہے یعنی نماز کیلئے ان چیزوں کا بھی اہتمام رکھو۔  سُنت یہ ہے کہ آدمی بہتر ہیئت کے ساتھ نماز کے لئے حاضر ہو کیونکہ نماز میں رب عَزَّوَجَلَّ سے مناجات ہے تو اس کے لئے زینت کرنا اور عطر لگانا مستحب ہے جیسا کہ سترِ عورت اور طہارت واجب ہے۔ شا نِ نزول: حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’پہلے عورت بیتُ اللہ کا برہنہ ہو کر طواف کرتی تھی اور یہ کہتی تھی کہ کوئی مجھے ایک کپڑا دے گا جسے میں اپنی شرمگاہ پر ڈال لوں ، آج بعض یا کُل کھل جائے گا اور جو کھل جائے گا میں اسے کبھی حلال نہیں کروں گی، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ (مسلم،کتاب التفسیر، باب فی قولہ تعالی: خذوا زینتکم عند کل مسجد، ص۱۶۱۴، الحدیث: ۲۵(۳۰۲۸))

آیت’’ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ‘‘ سے معلوم ہونے والے احکام:

            اس آیت میں ستر چھپانے اور کپڑے پہننے کا حکم دیا گیا اور اس میں دلیل ہے کہ سترِعورت نماز، طواف بلکہ ہر حال میں واجب ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز جہاں تک ہو سکے اچھے لباس میں پڑھے اور مسجد میں اچھی حالت میں آئے۔ بدبو دار کپڑے ،بدبو دار منہ لے کر مسجد میں نہ آئے۔ ایسے ہی ننگا مسجد میں داخل نہ ہو۔

مسجدیں پاک صاف رکھنے سے متعلق 3 احادیث:

(1)…  حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو مسجد سے اذیت کی چیز نکالے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔ (ابن ماجہ، کتاب المساجد والجماعات، باب تطہیر المساجد وتطییبہا، ۱ / ۴۱۹، الحدیث: ۷۵۷)

(2)… حضرت و اثلہ بن اسقعرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مساجد کو بچوں اور پاگلوں ، خرید و فروخت اور جھگڑے ، آواز بلند کرنے ،حدود قائم کرنے اور تلوار کھینچنے سے بچاؤ۔ (ابن ماجہ، کتاب المساجد والجماعات، باب ما یکرہ فی المساجد، ۱ / ۴۱۵، الحدیث: ۷۵۰)

 



Total Pages: 191

Go To