Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

مقابلہ و جنگ کرنے اور اسے (خود سے) دور کرنے میں مشغول ہوگئے تو تم تنگ آ جاؤ گے اور تمہارا قیمتی وقت ضائع ہو جائے گا اور بالآخر وہ تم پر غالب آ جائے گا اور تمہیں زخمی و ناکارہ بنا دے گا ا س لئے اس کے مالک ہی کی طرف متوجہ ہونا پڑے گا اور اسی کی پناہ لینی ہو گی تاکہ وہ شیطان کو تم سے دور کر دے اور یہ تمہارے لئے شیطان کے ساتھ جنگ اور مقابلہ کرنے سے بہتر ہے۔

(2)…شیطان سے مقابلہ کرنے، اسے دفع دور کرنے اور ا س کی تردید و مخالفت کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔

میں (امام غزالی) کہتا ہوں :میرے نزدیک ا س کا جامع اور بہترین طریقہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا دونوں طریقوں کو بروئے کار لایا جائے لہٰذا سب سے پہلے شیطان مردود کی شرارتوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لی جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کا حکم فرمایا ہے اوراللہ تعالیٰ ہمیں شیطان لعین سے محفوظ رکھنے کے لئے کافی ہے۔ اس کے بعد بھی اگر تم یہ محسوس کرو کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ لینے کے باوجود شیطان تم پر غالب آنے کی کوشش کر رہا ہے اور تمہارا پیچھا نہیں چھوڑ رہا تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ تمہارا امتحان لینا چاہتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے مجاہدے اور عبادت میں تمہاری قوت کی سچائی و صفائی دیکھے اور تمہارے صبر کی جانچ فرمائے۔ جیساکہ کافروں کو ہم پر مسلط فرمایا حالانکہ اللہ تعالیٰ کفار کے عزائم اور ان کی شر انگیزیوں کو ہمارے جہاد کئے بغیر ملیا میٹ کر دینے پر قادر ہے لیکن وہ انہیں صفحہ ہستی سے ختم نہیں فرماتا بلکہ ہمیں ان کے خلاف جہاد کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ جہاد، صبر ،گناہوں سے چھٹکارا اور شہادت سے ہمیں بھی کچھ حصہ مل جائے اور ہم اس امتحان میں کامیاب و کامران ہو جائیں تو اسی طرح ہمیں شیطان سے بھی انتہائی جاں فشانی کے ساتھ مقابلہ اور جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، پھر ہمارے علماءِ کرام فرماتے ہیں کہ شیطان سے مقابلہ کرنے اور اس پر غلبہ حاصل کرنے کے تین طریقے ہیں :

(1)…تم شیطان کے مکر و فریب اور اس کی حیلہ سازیوں سے ہوشیار ہو جاؤ کیونکہ جب تمہیں اس کی حیلہ سازیوں کا علم ہو گا تو وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچاسکے گا، جس طرح چور کو جب معلوم ہو جاتا ہے کہ مالک مکان کو میرے آنے کا علم ہو گیا ہے تو وہ بھاگ جاتا ہے۔

(2)…جب شیطان تمہیں گمراہیوں کی طرف بلائے تو تم اسے رد کر دو اور تمہارا دل قطعاً ا س کی طرف متوجہ نہ ہو اور نہ تم ا س کی پیروی کرو کیونکہ شیطان لعین ایک بھونکنے والے کتے کی طرح ہے، اگر تم اسے چھیڑو گے تو وہ تمہاری طرف تیزی کے ساتھ لپکے گا اور تمہیں زخمی کر دے گا اور اگر تم ا س سے کنارہ کشی اختیار کر لو گے تو وہ خاموش رہے گا۔

(3)…اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ ذکر کرتے رہو اور ہمہ وقت خودکو اللہ تعالیٰ کی یاد میں مصروف رکھو (منہاج العابدین، العقبۃ الثالثۃ، العائق الثالث: الشیطان، ص۵۵-۵۶)۔ [1]

کیا انسان جنوں کو دیکھ سکتے ہیں ؟:

            اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ایسا علم و اِدراک دیا ہے کہ وہ انسانوں کو دیکھتے ہیں اور انسانوں کو ایسا ادراک نہیں ملا کہ وہ ہر وقت جنوں کو دیکھ سکیں البتہ بعض اوقات انسان بھی جنات کو دیکھ لیتے ہیں۔

مخلوق کے لئے وسیع علم و قدرت ماننا شرک نہیں :

            اس آیتِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہے کہ شیطان کا علم اور اس کی قدرت بہت وسیع ہے کہ ہر زبان میں ہرجگہ ، ہر آدمی کو وسوسے ڈالنے کی طاقت رکھتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اس قدر وسیع علم و قدرت ماننا شرک نہیں بلکہ قرآن سے ثابت ہے لیکن ان لوگوں پر  افسوس ہے جو شیطان کی وسعت ِعلم کو تو فوراً مان لیتے ہیں لیکن حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے لئے ایسا وسیع علم ماننے کو شرک قرار دیتے ہیں۔

{ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ:بیشک ہم نے شیطانوں کو ایمان نہ لانے والوں کا دوست بنا دیا ہے۔} یعنی شیطان بظاہر کفار کا دوست ہے اور کفار دل سے شیطان کے دوست ہیں ورنہ شیطان درحقیقت کفار کا بھی دوست نہیں وہ تو ہر انسان کا دشمن ہے کہ سب کو اپنے ساتھ جہنم میں لیجانے کی کوشش کرنا اس کا مطلوب و مراد ہے۔

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَاؕ-قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِؕ-اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۲۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب کوئی بے حیائی کریں تو کہتے ہیں ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو پایا اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا تو فرماؤ بیشک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا کیا اللہ پر وہ بات لگاتے ہو جس کی تمہیں خبر نہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب کوئی بے حیائی کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کواسی پر پایا تھا اوراللہ نے (بھی) ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔ (اے حبیب!) تم فرماؤ: بیشک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم اللہ پر وہ بات کہتے ہو جس کی تمہیں خبر نہیں ؟

{ وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً:اور جب کوئی بے حیائی کریں۔} ’’ فٰحِشَۃً ‘‘یعنی بے حیائی کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت مجاہد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم فرماتے ہیں : اس سے مراد زمانۂ جاہلیت کے مرد و عورت کا ننگے ہو کر کعبہ معظمہ کا طواف کرنا ہے۔ حضرت عطاء رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا قول ہے کہ بے حیائی سے مراد شرک ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ہر قبیح فعل اور تمام صغیرہ کبیرہ گناہ اس میں داخل ہیں اگرچہ یہ آیت خاص ننگے ہو کر طواف کرنے کے بارے میں آئی ہے۔ جب کفار کی ایسی بے حیائی کے کاموں پر اُن کی مذمت کی گئی تو اس پر اُنہوں نے اپنے قبیح افعال کے دو عذر بیان کئے، ایک تویہ کہ ُانہوں نے اپنے باپ دادا کو یہی فعل کرتے پایا لہٰذا اُن کی اتباع میں یہ بھی کرتے ہیں۔ اس عذر کا بار بار قرآن میں رد کردیا گیا کہ یہ اتباع تو جاہل وبدکار کی اتباع ہوئی اور یہ کسی صاحبِ عقل کے نزدیک جائز نہیں۔ اتباع تو اہلِ علم و تقویٰ کی کی جاتی ہے نہ کہ جاہل گمراہ کی۔ ان کادُوسرا عذر یہ تھا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں ان افعال کا حکم دیا ہے۔ یہ محض افتراء و بہتان تھا چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کارد فرماتا ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، تم جواب میں فرماؤ: بیشک اللہ عَزَّوَجَلَّ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم اللہ عَزَّوَجَلَّ پر وہ بات کہتے ہو جس کی تمہیں خبر نہیں ؟ ‘‘اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بے حیائی کا نہیں بلکہ ان چیزوں کا حکم دیا ہے جو بعد والی آیت میں مذکور ہیں۔

 



[1]    شیطان کے مکر وفریب اوراس کے ہتھیاروں کے بارے میں جاننے کے لئے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کتاب’’ شیطان کے بعض ہتھیار‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ )کا مطالعہ فرمائیں۔



Total Pages: 191

Go To