Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے پسند فرمایا اور منیٰ کے بازار میں ایک پائجامہ خریدا بھی تھا لیکن یہ ثابت نہیں کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے پائجامہ پہنا ہو۔ (سیرت مصطفٰی، شمائل وخصائل، ص۵۸۱)

سفیدلباس کی فضلیت:

             حضرت سَمُرہ بن جُندُب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’سفید کپڑے پہنو کہ وہ زیادہ پاک اور ستھرے ہیں اور انہیں میں اپنے مردے کفناؤ۔ (ترمذی، کتاب الادب، باب ما جاء فی لبس البیاض، ۴ / ۳۷۰، الحدیث: ۲۸۱۹)

عام اور نیالباس پہنتے وقت کی دعائیں :

(1)…حضرت معاذ بن انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،  تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’جو شخص کپڑا پہنے اور یہ پڑھے: ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ ھٰذَا وَرَزَقَـنِیْہِ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِّنِّی وَلَا قُـوَّۃٍ ‘‘ (ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے مجھے یہ (لباس) پہنایا اور میری طاقت و قوت کے بغیر مجھے یہ عطا فرمایا) تو اُس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ (مستدرک، کتاب اللباس، الدعاء عند فراغ الطعام، ۵ / ۲۷۰، الحدیث: ۷۴۸۶)

(2)…حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ جب نیا کپڑا پہنتے تو اُس کا نام لیتے عمامہ یا قمیص یا چادر، پھر یہ دعا پڑھتے: ’’اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کَمَا  کَسَوْتَنِیْہِ اَسْأَ لُکَ خَیْرَہٗ  وَخَیْرَ مَا صُنِعَ لَـہٗ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّہٖ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَـہٗ‘‘ (ترجمہ:اے اللہ تیرا شکر ہے جیسے تو نے مجھے یہ (کپڑا) پہنایا ویسے ہی میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس مقصد کے لئے یہ بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شر اور جس مقصد کے لئے یہ بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں )(شرح السنۃ للبغوی، کتاب اللباس، باب ما یقول اذا لبس ثوباً جدیداً، ۶ / ۱۷۲، الحدیث: ۳۰۰۵)

لباس کی عمدہ تشریح:

            امام راغب اصفہانی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے لباس کے لغوی معنیٰ بیان کرتے ہوئے بڑی عمدہ تشریح فرمائی ہے چنانچہ لکھتے ہیں کہ ’’ہر وہ چیز جو انسان کی بری اور ناپسندیدہ چیز کو چھپا لے اسے لباس کہتے ہیں شوہر اپنی بیوی اور بیوی اپنے شوہر کو بری چیزوں سے چھپا لیتی ہے، وہ ایک دوسرے کی پارسائی کی حفاظت کرتے ہیں اور پارسائی کے خلاف چیزوں سے ایک دوسرے کے لئے رکاوٹ ہوتے ہیں اس لئے انہیں ایک دوسرے کا لباس فرمایا ہے:

’’ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ ‘‘(البقرہ:۱۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔

            لباس سے انسان کی زینت ہوتی ہے، اسی اعتبار سے فرمایا ہے ’’ لِبَاسُ التَّقْوٰى ‘‘ (تقویٰ کا معنی ہے برے عقائد اور برے اعمال کو ترک کر دینا اور پاکیزہ سیرت اپنانا، جس طرح کپڑوں کا لباس انسان کو سردی، گرمی اور برسات کے موسموں کی شدت سے محفوظ رکھتا ہے اسی طرح تقویٰ کا لباس انسان کو اُخروی عذاب سے بچاتا ہے۔)(مفردات امام راغب، کتاب اللام، ص۷۳۴-۷۳۵ ملخصاً)

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَ جَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَاؕ-اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْؕ-اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۲۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اے آدم کی اولاد خبردار تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈالے جیسا تمہارے ماں باپ کو بہشت سے نکالا اتروا دیئے ان کے لباس کہ ان کی شرم کی چیزیں انہیں نظر پڑیں بیشک وہ اور اس کا کنبہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں کہ تم انہیں نہیں دیکھتے بیشک ہم نے شیطانوں کو ان کا دوست کیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے آدم کی اولاد! تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈالے جیسے اس نے تمہارے ماں باپ کوجنت سے نکال دیا، ان دونوں سے ان کے لباس اتروا دئیے تاکہ انہیں ان کی شرم کی چیزیں دکھا دے۔ بیشک وہ خود اور اس کا قبیلہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے ۔بیشک ہم نے شیطانوں کو ایمان نہ لانے والوں کا دوست بنا دیا ہے۔

{ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ:اے آدم کی اولاد!} شیطان کی فریب کاری اور حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ اس کی دشمنی وعداوت کا بیان فرما کر بنی آدم کو مُتَنَبّہ اور ہوشیار کیا جارہا ہے کہ وہ شیطان کے وسوسے ،اغواء اور اس کی مکاریوں سے بچتے رہیں۔ جو حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ ایسی فریب کاری کرچکا ہے وہ اُن کی اولاد کے ساتھ کب درگزر کرنے والا ہے۔ اس میں مومن، کافر، ولی، عالم، پرہیز گار سب سے خطاب ہے، کوئی اپنے آپ کو ابلیس سے محفوظ نہ جانے چنانچہاللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’اے آدم کی اولاد! تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈالے جیسے اس نے تمہارے ماں باپ کوجنت سے نکال دیا، ان دونوں سے ان کے لباس اتروا دئیے تاکہ انہیں ان کی شرم کی چیزیں دکھا دے۔

{ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ:بیشک وہ خود تمہیں دیکھتا ہے۔} یعنی شیطان اور اس کی ذریت سارے جہان کے لوگوں کو دیکھتے ہیں جبکہ لوگ انہیں نہیں دیکھتے۔ جہاں کسی نے کسی جگہ اچھے کام کا ارادہ کیا، اُسے اُس کی نیت کی خبر ہو گئی اور فوراً بہکادیا۔

شیطان سے مقابلہ کرنے اور اسے مغلوب کرنے کے طریقے:

            یاد رہے کہ جو دشمن تمہیں دیکھ رہا ہے اور تم اسے نہیں دیکھ رہے ا س سے اللہ تعالیٰ کے بچائے بغیر خلاصی نہیں ہو سکتی جیساکہ حضرت ذوالنون رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ شیطان ایسا ہے کہ وہ تمہیں دیکھتا ہے اور تم اُسے نہیں دیکھ سکتے لیکن اللہ تعالیٰ تو اسے دیکھتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتا تو تم اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ سے مدد چاہو۔ (روح البیان، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۷، ۳ / ۱۵۰)

            لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنی عقل سے کام لیتے ہوئے اس کے نقصان سے بہت زیادہ ڈرے اور ہر وقت اس سے مقابلے کے لئے تیار رہے۔

            امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’ صوفیاءِ کرام کے نزدیک شیطان سے جنگ کرنے اور اسے مغلوب کرنے کے دو طریقے ہیں :

(1)… شیطان کے مکرو فریب سے بچنے کے لئے صرف اللہ تعالیٰ کی پناہ لی جائے، اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں کیونکہ شیطان ایک ایسا کتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تم پر مُسلَّط فرمادیا ہے، اگر تم ا س سے



Total Pages: 191

Go To