Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

منع کیا گیا تو جان لو کہ اس سے ہمارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا کوئی نقصان نہیں کیونکہ ہمارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر تو صرف واضح طور پرتبلیغ فرمادینا لازم ہے، بلکہ اس میں تمہارا اپنا نقصان ہے کہ تم اپنے اعراض کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب کے مستحق ٹھہرو گے۔ (خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۲، ۱ / ۵۲۵، مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۲، ص۳۰۲، ملتقطاً)

لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠(۹۳)

ترجمۂ کنزالایمان:جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ان پر کچھ گناہ نہیں ہے جو کچھ انہوں نے چکھا جب کہ ڈریں اور ایمان رکھیں اور نیکیاں کریں پھر ڈریں اور ایمان رکھیں پھر ڈریں اور نیک رہیں اور اللہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ان پر کھانے میں کوئی گناہ نہیں جب کہ ڈریں اور ایمان رکھیں اور اچھے عمل کریں پھر ڈریں اور ایمان رکھیں پھر ڈریں اور نیکیاں کریں اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔

{ لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ :  جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ان پرکوئی گناہ نہیں۔} یہ آیتِ مبارکہ اُن صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے حق میں نازل ہوئی جو شراب حرام کئے جانے سے پہلے وفات پاچکے تھے اور چونکہ شراب حرام نہ تھی تو وہ پی لیا کرتے تھے۔ جب اُن کے بعد شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو اُن کی فکر ہوئی کہ اُن سے شراب کے متعلق پوچھ گچھ ہوگی یا نہیں ؟( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ المائدۃ، ۵ / ۳۸، الحدیث: ۳۰۶۲) نیز جوصحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ دیگر شہروں میں موجود ہیں اور انہیں اس بات کا علم ابھی نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے شراب حرام قرار دے دی ہے ،اگر وہ اِس لاعلمی کے کچھ عرصہ میں شراب پی لیں تو ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اُن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ حرمت کا حکم نازل ہونے سے پہلے جن نیک ایمانداروں نے کچھ کھایا پیا وہ گنہگار نہیں ، اسی طرح جنہیں حرمت کا حکم نازل ہو جانے کا علم نہیں ان پر بھی حکم کی معلومات ہونے سے پہلے شراب پی لینے کی صورت میں کچھ گناہ نہیں۔

            اِس آیتِ مبارکہ میں لفظ ’’اتَّقَوْا‘‘جس کے معنیٰ ڈرنے اور پرہیز کرنے کے ہیں ، تین مرتبہ آیا ہے: پہلے سے مراد شرک سے بچنا، دوسرے سے مراد تمام حرام کاموں اور گناہوں سے بچنا اور تیسرے سے مراد شبہات کا ترک کر دینا ہے۔(مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۳، ص۳۰۲)

            بعض مفسرین نے فرمایا کہ پہلے سے مراد تمام حرام چیزوں سے بچنا اور دوسرے سے اُس پر قائم رہنا اور تیسرے سے مراد وحی کے نازل ہونے کے زمانے میں یا اُس کے بعد جو چیزیں منع کی جائیں اُن کو چھوڑ دینا ہے۔(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۳، ۱ / ۵۲۵، مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۳، ص۳۰۳، جمل، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۳، ۲ / ۲۷۳)

            بعض مفسرین نے یہ معنیٰ بیان کیا کہ پہلے بھی گناہوں سے بچتے رہے ہوں اور اب بھی بچتے رہیں اور آئندہ بھی بچتے رہیں۔(تفسیرکبیر، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۳، ۴ / ۴۲۷)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُهٗۤ اَیْدِیْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُهٗ بِالْغَیْبِۚ-فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۹۴)

 ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو ضرور اللہ تمہیں آزمائے گا ایسے بعض شکار سے جس تک تمہارے ہاتھ اور نیزے پہونچیں کہ اللہ پہچان کرا دے ان کی جو اس سے بن دیکھے ڈرتے ہیں پھر اس کے بعد جو حد سے بڑھے اس کے لئے دردناک سزا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! ضرور اللہ ان شکاروں کے ذریعے جن تک تمہارے ہاتھ اور نیزے پہنچ سکیں گے تمہارا امتحان کرے گا تاکہ اللہ ان لوگوں کی پہچان کرادے جو اس سے بن دیکھے ڈرتے ہیں پھر اس (ممانعت) کے بعد جو حد سے بڑھے تواس کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

{ لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ:ضرور اللہ تمہیں آزمائے گا۔} 6 ہجری جس میں حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا، اس سال مسلمان حالت ِ احرام میں تھے۔اُس حالت میں وہ اِس آزمائش میں ڈالے گئے کہ شکار کئے جانے والے جانور اور پرندے بڑی کثرت سے آئے اور اُن کی سواریوں پر چھا گئے۔ اتنی کثرت تھی کہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکیلئے انہیں ہتھیار سے شکار کرلینا بلکہ ہاتھ سے پکڑ لینا بالکل اختیا رمیں تھا، اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۴، ۱ / ۵۲۵)لیکن صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمحکمِ الہٰی کی پابندی میں ثابت قدم رہے اور حالت ِ احرام میں شکار نہ کیا۔ اس سے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی عظمت بھی ظاہر ہوئی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی گناہ کے اسباب و مواقع جس قدر کثرت سے موجود ہوں ان سے بچنے میں اتنا ہی زیادہ ثواب ہے، جیسے نوجوان کو تقویٰ و پرہیزگاری اور پارسائی کا ثواب بوڑھے کی بَنِسبت زیادہ ہے۔ یونہی جو برے لوگوں کے درمیان بھی نیک رہے وہ نیکوں کے درمیان نیک رہنے والے سے بہتر ہے۔ حضرت سیدنا یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام اور زلیخا کا واقعہ بھی اِس بات کی قوی دلیل ہے لیکن یہاں یہ یاد رہے کہ اِن باتوں کا یہ مطلب نہیں کہ برے دوستوں کی صحبت میں رہ کریا گناہ کی جگہ جاکر نیک بننے کی کوشش کرے تاکہ زیادہ بڑا متقی بنے بلکہ حتی الامکان ایسی صحبت اور مقام سے بچنا ہی چاہیے کہ زیادہ تقویٰ کی امید پر کہیں اصل ہی سے نہ جاتے رہیں۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌؕ-وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖؕ-عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَؕ-وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ(۹۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو شکار نہ مارو جب تم احرام میں ہواور تم میں جو اسے قصداً قتل کرے تو اس کا بدلہ یہ ہے کہ ویسا ہی جانور مویشی سے دے تم میں کے دو ثقہ آدمی اس کا حکم کریں یہ قربانی ہو کعبہ کو پہونچتی یا کفارہ دے چند مسکینوں کا کھانا یا اس کے برابر روزے کہ اپنے کام کا وبال چکھے اللہ نے معاف کیا جو ہو گزرا اور جو اَب کرے گا اللہاس سے بدلہ لے گا اور اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! حالت ِاحرام میں شکار کو قتل نہ کرو اور تم میں جو اسے قصداً قتل کرے تو اس کا بدلہ یہ ہے کہ مویشیوں میں سے اسی طرح کا وہ جانور دیدے جس کے شکار کی مثل ہونے کا تم میں سے دومعتبر آدمی فیصلہ کریں ، یہ کعبہ کو پہنچتی ہوئی قربانی ہو یا چند مسکینوں کا کھانا کفارے میں دے یا اس کے برابر روزے تاکہ وہ اپنے کام کا وبال چکھے۔ اللہ نے پہلے جو کچھ گزرا اسے معاف فرمادیا اور



Total Pages: 191

Go To