Book Name:Imamay kay Fazail

ہیں کہ ٹوپی انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلام اور صالحین رَحِمَہُمُ  اللّٰہ  المُبِیْن کے لباس کا حصہ ہے۔  یہ سر کی حفاظت کرتی اور عمامہ کوسر پر روکتی ہے اور ٹوپی پہننا سنّت ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ سر سے متصل ہو، اُٹھی ہوئی نہ ہو، مگر گرمی یا حبس وغیرہ سے بچاؤ کے لئے اُٹھی ہوئی ٹوپی پہننا یا اس میں سوراخ کرنا جائز ہے۔  (فیض القدیر، حرف الکاف ، باب ’’کان‘‘ وھی الشمائل الشریفۃ، ۵/ ۳۱۴، تحت الحدیث : ۷۱۶۸ ملخصًا)

مصطفٰی کی سادگی پہ لاکھوں سلام

             حضرت علامہ ابوعبد اللّٰہ  محمد بن محمد بن محمد مالکی المعروف ابنُ الحاج  عَلَیہ رَحمَۃُ   اللّٰہ  الوَہَّاب  فرماتے ہیں :  نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم لباس کے بارے میں تکلف نہ فرماتے بلکہ جو آسانی سے میسر ہوتا اسے ہی شرف عطا فرماتے ، آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم کبھی عمامہ و ٹوپی اور چادر مبارک سجائے کاشانۂ اقدس سے تشریف لاتے ، کبھی عمامہ و ٹوپی میں ، کبھی صرف ٹوپی مبارک میں تو کبھی کبھار یونہی بغیر عمامہ و ٹوپی کے تشریف لے آتے۔  (المدخل ، فصل فی اللباس، ۱/ ۱۱۲)

صحابۂ کرام، تابعین عظام کی مبارک ٹوپیاں

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  صحابۂ کرام و تابعینِ عُظَّام رِضْوَانُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیھِم اَجمَعِین بھی کئی رنگ اور مختلف بناوٹ کی ٹوپیاں زیبِ سر فرمایا کرتے تھے چنانچہ پہلے صحابۂ کرام اور پھر تابعینِ عظام رِضْوَانُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیھِم اَجمَعِین کی مبارک ٹوپیوں کا بالترتیب ذکر کیا جاتا ہے چنانچہ

 (1)امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  میں نے رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم کو فرماتے سنا :  اَلشُّہَدَاءُ اَرْبَعَۃٌ یعنی شہید چار قسم کے ہیں ۔  ایک وہ کامل مؤمن جو دشمن سے لڑے اور  اللّٰہ  تعالٰی سے کیے ہوئے وعدے کو سچ کر دکھائے یہاں تک کہ وہ شہید ہو جائے ، یہ وہ شخص ہے کہ قیامت کے دن لوگ اس کی طرف نظریں اٹھا کر اس طرح دیکھیں گے وَ رَفَعَ رَاْسَہٗ حَتّٰی وَقَعَتْ قَلَنْسُوَتُہٗ  یعنی اور اس کے ساتھ ہی اپنا سر اٹھایا حتی کہ آپ کی ٹوپی گر گئی، راوی کہتے ہیں میں نہیں جانتا کہ اس سے حضرت سیّدنا  عمر فاروق رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کی ٹوپی مراد ہے یانبیٔ پاک صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ واٰلہٖ وَسَلَّم کی ٹوپی ۔  (ترمذی ، کتاب فضائل الجہاد، باب ماجاء فی فضل الشھداء عند اللّٰہ ، ۳/ ۲۴۱، حدیث : ۱۶۵۰)

        اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ حضرت سیّدنا عمر فاروق رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ بھی ٹوپی پہنتے تھے کیونکہ اگرآپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ ٹوپی نہ پہنتے ہوتے تو راوی کو قطعی طور شبہ نہ ہوتا، راوی کا شبہ میں پڑ جانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت سیّدنا عمر فاروق رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ بھی ٹوپی پہنا کرتے تھے۔  

 (2)حضرت سیّدنا یزید بن حارث فَزَارِی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْبَارِی فرماتے ہیں :  رَاَیْتُ عَلَی عَلِیٍّ قَلَنْسُوَۃً بَیْضَائَ مِصْرِیَّۃً یعنی میں نے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجہَہُ الکَرِیم کو سفید مصری ٹوپی پہنے دیکھا۔  (طبقات ابن سعد، طبقات البدریین من المہاجرین الخ، ذکرقلنسوۃعلی بن ابی طالب الخ ، ۳/ ۲۲)  

 (3)حضرت سیّدنا  عَبَّاد بن ابو سلیمان  رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  رَاَیْتُ عَلٰی اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَلَنْسُوَۃً بَیْضَائَ یعنی میں نے حضرت سیّدنا انس بن مالک  رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ کو سفید ٹوپی پہنے ہوئے دیکھا۔  (طبقات ابن سعد، تسمیۃ من نزل البصرۃ من اصحاب رسول  اللّٰہ  الخ، ۷/ ۱۸)

(4)سیّدنا خالد بن ولید کی مبارک ٹوپی

        جنگِ یَرمُوک کے بارہویں دن حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کا مقابلہ ایک رومی سردار بطریق نسطور سے ہوا، دونوں کے درمیان جنگ جاری تھی کہ اچانک سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کا گھوڑا بدکا اور زمین پر گرگیا جس سے آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ بھی زمین پر گرگئے، آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کی وہ مبارک ٹوپی بھی گرگئی جسے آپ ہروقت اپنے ساتھ رکھا کرتے تھے، حیرانی کی بات یہ ہے کہ جیسے ہی وہ ٹوپی گری آپ کو اپنی جان کی نہیں بلکہ اس ٹوپی کی فکر لگ گئی اور آپ نے بآواز بلند پکارا :  قَلَنْسُوَتِیْ رَحِمَکُمُ  اللّٰہ  یعنی  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ تم لوگوں پر رحم فرمائے ، ہے کوئی جو میری ٹوپی مجھے تھما دے۔  چنانچہ آپ کی قوم میں سے ایک شخص گیا اور آپ کی ٹوپی تلاش کرکے آپ کو تھما دی، جیسے ہی آپ نے وہ ٹوپی پہنی تو ایسے لگا جیسے آپ کو نئی طاقت مل گئی ہو، پھر آپ نے اس سردار پر اپنی تلوار کا ایسا وار کیا کہ اس کے جسم کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ رومیوں نے جب اس کا یہ حشر دیکھا تو سب کا سانس رُک گیا اور وہ میدانِ جنگ چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔  (فتوح الشام، الشعار، ۱/ ۲۱۰)

سیدنا خالد بن ولید کا مبارک عقیدہ :

        جب حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ لشکر میں واپس آئے تو اُن سے پوچھا گیا کہ حضرت جب میدان جنگ میں ہرطرف تلواریں چل رہی تھیں ، اس وقت آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو اپنی ٹوپی کی فکر لگی ہوئی تھی، اس کی کیا وجہ تھی؟ آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر حضور نبی کریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیمصَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حلق کروایا تو میں نے آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک بالوں میں سے چند بال مبارک اپنے پاس رکھ لیے۔  سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا :  مَا تَصْنَعُ بِہٰوُلَائِ  یَا خَالِدُ یعنی اے خالد! تم ان بالوں کا کیا کرو گے؟میں نے عرض کی :  اَتَبَرَّکُ بِہَا یَا رَسُوْلَ  اللّٰہ  وَاسْتَعِیْنُ بِہَا عَلَی الْقِتَالِ قِتَالَ اَعْدَائِیْ یعنی یَارَسُوْلَ  اللّٰہ ! میں آپ کے ان مبارک گیسؤوں سے تبرک حاصل کروں گا اور جنگوں میں اپنے دشمنوں کے قتال پر ان سے مدد طلب کروں گا۔  یہ سن کر رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  لَا تَزَالُ مَنْصُوْراً مَا دَامَتْ مَعَکَ یعنی اے خالد! جب تک یہ بال تمہارے پاس رہیں گے ان کے وسیلے سے ہمیشہ تمہاری مدد کی جاتی رہے گی۔ سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : فَجَعَلْتُہَا  فِیْ مُقَدَّمَۃِ قَلَنْسُوَتِیْ فَلَمْ اَلْقِ جَمْعًا قَطُّ اِلَّا اِنْہَزَمُوْا بِبَرَکَۃِ رَسُوْلِ  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیْہِ وَسَلَّم یعنی پھر میں نے ان مبارک گیسؤوں کو اپنی ٹوپی کے اگلے حصے میں محفوظ کرلیا اور میں جب بھی اپنے دشمنوں سے مقابلے کے لیے جاتاہوں تو  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی برکت سے میرے دشمنوں کو شکست وذلت سے دوچار فرماتا ہے۔  (فتوح الشام، الشعار، ۱/ ۲۱۰)

علم وحکمت کے مدنی پھول :

٭میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیّدنا خالد بن ولید رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کتنے واضح الفاظ میں اپنا مبارک عقیدہ بیان کررہے ہیں کہ میں ان مبارک گیسؤوں سے تبرک اور مدد حاصل کروں گا۔  معلوم ہوا حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ  کا یہ عقیدہ تھا کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک گیسؤوں سے تبرک اور مدد حاصل کرنا دونوں جائز ہیں ۔  

 



Total Pages: 101

Go To