Book Name:Imamay kay Fazail

ایک اور سوال’’مرد رنگین پگڑی باندھ کر نماز پڑھتے ہیں یا کُرتاپہنتے ہیں ان کو لازم ہے کہ پاک کرکے نماز پڑھیں ؟

        الجواب : نہیں مگر جب کہ ناپاک رنگ میں رنگے ہوں ۔ وَ اللّٰہ  تَعَالٰی اَعْلَم (فتاویٰ مصطفویہ ، ص ۱۷۱ )

ٹوپی کی شرعی حیثیت

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  چونکہ نبیٔ اکرمصَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم اور صحابہ کرام و تابعینِ عظام رِضْوَانُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلیھِم اَجمَعِیْن کا عمامہ باندھنے کا معمول تھا اور ہمارے پیارے پیارے آقا ، مدینے والے مصطفی صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم نے ٹوپیوں پر ہی عمامے باندھنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے جیسا کہ حضرت  سیّدنا رُکانہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ’’ میری اُمت ہمیشہ فطرت پر رہے گی جب تک وہ ٹوپیوں پر عمامے باندھے گی۔  ‘‘(کنز العمال، کتاب المعیشۃ والعادات ، فرع فی العمائم، الجز :  ۱۵، ۸/ ۱۳۳، حدیث : ۴۱۱۴۰)  اس لئے مناسب ہے کہ ان حضراتِ قُدسیہ کی مبارک ٹوپیوں کا ذکرِ خیر بھی کیا جائے تاکہ ہم اس معاملے میں بھی ان کی اِتِّباع کر کے ثوابِ آخرت کے حقدار بن سکیں ۔  

نبیٔ کریم کی مبارک ٹوپیاں

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  نبی ٔ کریم ، رء وف رحیم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا ٹوپی مبارک پہننا ثابت ہے جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے :  وَلَا بَأْسَ بِلُبْسِ الْقَلَانِسِ وَقَد صَحَّ اَ نَّہُ صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیہ وَاٰلِہ وَسَلَّم کَانَ یَلْبَسُہَا یعنی ٹوپیاں پہننے میں کوئی حرج نہیں اور بے شک صحیح (روایت ) ہے کہ حضور صَلَّی  اللّٰہ  تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ٹوپی مبارک پہنی ہے ۔  (فتاویٰ عالمگیری، کتاب الکراہیۃ، الباب التاسع فی اللبس ما یکرہ من ذلک الخ ، ۵/ ۳۳۰) بلکہ  سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کئی طرح کی ٹوپیاں زیبِ سر فرمایا کرتے تھے چنانچہ

        حضرت سیّدنا ابوہریرہ  رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ بیان فرماتے ہیں :  رَاَیْتُ رَسُولَ  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم وَعَلَیْہِ قَلَنسُوَۃٌ بَیضَائُ شَامِیَۃ یعنی میں نے رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم کو اس حال میں دیکھا کہ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم سفید شامی ٹوپی زیبِ سر فرمائے ہوئے تھے۔  (اخلاق النبی و آدابہ ، ذکر قلنسوتہ صَلَّی  اللّٰہ  تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم، ص ۶۹، حدیث : ۳۰۳)

        اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہَا بیان فرماتی ہیں : اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کَانَ یَلبَسُ مِنَ الْقَلَانِسِ فِیْ السَّفَرِ ذَوَاتَ الْآذَانِ ، وَفِی الحَضَرِ المُشَمِّرَۃُ ، یعنی اَلشَّامِیَۃُ یعنی نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم سفر میں کانوں والی ٹوپی پہنتے تھے اور حَضَر یعنی حالتِ اقامت میں شامی ٹوپی زیبِ سر فرماتے تھے۔  

(اخلاق النبی و آدابہ ، ذکر قلنسوتہ صَلَّی  اللّٰہ  تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم، ص ۷۰، حدیث : ۳۰۴)

        حضرت علّامہ عبد الرء وف مناوی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی اس حدیث کے متعلق حافظ عراقی کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ٹوپیوں سے متعلق منقول روایات میں سب سے عمدہ سندوالی روایت وہ (مذکورہ روایت) ہے جسے ابو الشیخ (حافظ عبد  اللّٰہ  بن محمد اَصبَہَانی ) نے حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہَا سے روایت کیا ہے۔  (فیض القدیر شرح جامع الصغیر، ۵/ ۳۱۴، تحت الحدیث : ۷۱۶۷)     

        حضرت سیّدنا ابن عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُما بیان فرماتے ہیں :  کَانَ لِرَسُولِ  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم ثَلَاثُ قَلَانِسَ :  قَلَنْسُوَۃٌ بَیْضَائُ مُضَرَّبَۃٌ وَقَلَنْسُوَۃٌ بُرْدُحَبِرَۃ وَقَلَنْسُوَۃٌ ذَاتَ آذَانٍ یَلْبَسُھَا فِی السَّفَر وَرُبَّمَا وَضَعَھَا بَیْنَ یَدَیْہِ اِذَا صَلّٰی یعنی رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم کے پاس تین قسم کی ٹوپیاں تھیں ۔  سفید کڑھائی والی ٹوپی ، سبز دھاری دار ٹوپی اور کانوں والی ٹوپی جسے سفر میں زیبِ سر فرماتے، بسا اوقات آپ اس ٹوپی کو اپنے سامنے رکھ کر نماز ادا فرماتے تھے۔  (اخلاق النبی و آدابہ ، ذکر قلنسوتہ صَلَّی  اللّٰہ  علیہ وسلَّم، ص۷۰، حدیث : ۳۰۵)

       امام محمد بن یوسف شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی نے نقل فرمایا کہ قَلَنْسُوَۃٌ بَیْضَائُ مُضَرَّبَۃٌ کی بجائے قَلَنْسُوَۃٌ بَیْضَاءُ مِصْرِیَّۃٌ یعنی سفید مصری ٹوپی تھی۔

    (سبل الھدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ الخ، الباب الثالث فی قلنسوتہ صَلَّی  اللّٰہ  علیہ وسلَّم، ۷/ ۲۸۴)

        حضرت سیّدنا  جریر بن عثمان رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ سے مروی ہے کہ میں حضرت سیّدنا  عبد  اللّٰہ  بن بُسر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ سے ملا تو میں نے کہا کہ مجھے کوئی حدیث سنائیں تو آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ نے فرمایا :  رَاَیْتُ رَسُولَ  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم وَلَہٗ قَلَنْسُوَۃٌطَوِیْلَۃٌ وَقَلَنْسُوَۃٌ لَہَا اُذُنَانِ وَقَلَنْسُوَۃٌ لَاطِیَّۃٌ یعنی میں نے رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس حال میں دیکھا کہ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس لمبی ٹوپی، کانوں والی ٹوپی اور سر سے چمٹی ہوئی ٹوپی تھی۔  (اخلاق النبی و آدابہ، ذکر قلنسوتہ صَلَّی  اللّٰہ  علیہ وسلَّم، ص۷۰، حدیث : ۳۰۶)

       حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُما سے روایت ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سفید ٹوپی پہنتے تھے۔  (شعب الایمان ، باب فی الملابس الخ، فصل فی العمائم، ۵/ ۱۷۵، حدیث : ۶۲۵۹، مجمع الزوائد، کتاب اللباس، باب فی القلنسوۃ ، ۵/ ۲۱۱، حدیث : ۸۵۰۵)

        حضرت سیّدنا ابن عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُما سے مروی ہے :  کَانَ یَلْبَسُ القَلَانِسَ تَحتَ العَمَائِمِ وَبِغَیْرِ الْعَمَائِمِ وَ یَلْبَسُ العَمَائِم بِغَیرِالقَلَانِسَ وَ کَانَ یَلْبَسُ القَلَانِسَ الیَمَانِیَۃ وَھُنَّ الْبِیْضُ الْمُضَرَّبَۃ وَیَلْبَسَ ذَوَاتَ الآذَانِ فِیْ الْحَرْبِ وَکـَانَ رُبَّمَا نَزَعَ َقَلَنْسُوَتَہ فَجَعَلَھَا سُتْرَۃً بَیْنَ یَدَیْہِ وَھُوَ یُصَلِّی یعنی رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عمامہ شریف کے نیچے ٹوپی پہنتے تھے اور عمامہ کے بغیر ٹوپی اور ٹوپی کے بغیر عمامہ شریف بھی پہنتے تھے اور آپصَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم سفید کڑھائی والی یمنی ٹوپی پہنتے تھے اور جنگ میں کانوں والی ٹوپی پہنتے تھے، بعض اوقات اپنی ٹوپی اتار کر اسے سترہ بنا کر نماز پڑھتے تھے۔  (کنز العمال، کتاب الشمائل، قسم الاقوال، الجز : ۷، ۴/ ۴۶، حدیث : ۱۸۲۸۲)

سرکار کی ٹوپی کے متعلق اہم وضاحت

        حضرت علّامہ عبد الرء وف مناوی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی اس حدیث کے تحت نقل فرماتے ہیں :  ظاہر ہے کہ سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بغیر عمامہ کے ٹوپی گھر میں ہی پہنتے ہوں گے اور جب لوگوں کے پاس تشریف لاتے تو عمامہ شریف میں آتے ہوں گے۔  اور حدیث کے اس حصے’’ فَجَعَلَھَا سُتْرَۃً بَیْنَ یَدَیْہِ وَھُوَ یُصَلِّی‘‘(یعنی سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم بعض اوقات اپنی ٹوپی اتار کر اسے سترہ بنا کر نماز پڑھتے تھے) کے تحت لکھتے ہیں :  ظاہر یہ ہے کہ ایسا آپ اس وقت فرماتے جب سترہ کے لئے کوئی اور چیز میسر نہ ہوتی ، یا بیانِ جواز کے لئے ایسا فرماتے تھے ۔  بعض شوافع کہتے ہیں کہ اس حدیث سے اور ماقبل حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ سر سے چمٹی ہوئی، اٹھی ہوئی، دھاری دار ٹوپی خواہ عمامہ کے نیچے پہنیں یا بغیر عمامہ کے پہنیں سب احادیث میں وارد ہے۔  ابن عربی فرماتے



Total Pages: 101

Go To