Book Name:Imamay kay Fazail

        عرض : عمامہ کے دونوں سِرے کامْدَار(یعنی سونے یا چاندی کے کام والے) ہوں تو کیا حکم ہے ؟

        ارشاد : اس میں راجح یہ ہے کہ اگر چار انگل سے زائد ہے تو ممنوع ہے۔  (درمختار و ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی اللبس، ۹/ ۵۸۱ ، ملفوظات اعلیٰ حضرت ، ص ۳۲۵ )

عرض : ٹوپی یا کپڑے وغیرہ میں سَچَّا (یعنی خالص سونے یاچاندی کا )کام ہو تو کیا حکم ہے؟

        ارشاد : اگر چار اُنگل تک ہے تو حرج نہیں اور اگر چند بوٹِیاں (یعنی پھول ، پتی وغیرہ) اور ہر ایک چار انگل سے زیادہ نہیں اور دُور سے دیکھنے میں فَصْل (یعنی الگ الگ) معلوم ہوتا ہو جب بھی کوئی حرج نہیں اگرچہ جمع کرنے سے چار انگل سے زیادہ ہو جائیں ہاں اگر بوٹی چار انگل سے زیاد ہ ہے یا مُغَرَّق (یعنی سونے چاندی سے لِپا ہوا) ہے کہ دور سے فَصْل (یعنی الگ الگ) نہ معلوم ہوتا ہو تو ناجائز۔

 (ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی اللبس، ۹/ ۵۸۲ ملخصاً ، ملفوظات اعلیٰ حضرت ، ص ۳۲۶)

باعمامہ مقتدی اور بے عمامہ امام

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر مقتدی نے عمامہ باندھ رکھا ہو اور امام صاحب صرف ٹوپی پہنے ہوئے ہوں تو مقتدی کی نماز میں کوئی کراہت نہیں چنانچہ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلَیہِ رَحمَۃُ الرَّحمٰن نے اسی سوال (کہ اگر مقتدی عمامہ باندھے ہوں اور امام فقط ٹوپی پہنے تو نماز مکروہ ہوگی یا نہیں ؟) کے جواب میں ارشاد فرمایا :  اس میں شک نہیں کہ نماز عمامہ کے ساتھ نماز بے عمامہ سے افضل، کہ وہ (عمامہ) اَسبابِ تَجَمُّل (یعنی خوبصورتی کا سبب) ہے ہی اور یہاں (نماز میں ) تَجَمُّل محبوب اور مقامِ ادب کے مناسب، اس لئے تلاوت ِقرآن کے وقت تَعَمُّم (یعنی عمامہ باندھنا) مَندُوب ہوا (جیساکہ فتاویٰ قاضی خان میں ہے) اور نماز میں کہ گویا دربارِ عظیمُ الشان حضرت مَلَکُ السَّمٰوٰتِ وَالاَرض جَلَّ جَلَا لُہٗ کی حاضری ہے، رِعایتِ آداب بہ نسبت تلاوت کے اہم، اور امام کہ سردار و مُطاعِ قوم ہے اُس کے ساتھ اَحَق واَلیَق (زیادہ لائق ہے )، لہٰذا نظافتِ ثوب (کپڑوں کا صاف ستھرا ہونا)و پاکیزگیٔ لباس وجوہ تقدیمِ اِستحقاقِ امامت سے قرار پائی (جیسا کہ دُرمختار میں ہے) مگر بایں ہمہ صورتِ مُستفَسَرہ میں صرف ترکِ اولیٰ ہوا تو اُس سے کراہت لازم نہیں آتی تاوقتیکہ اس کا ثبوت کسی خاص دلیلِ شرعی سے نہ ہو ورنہ نمازِ چاشت و اِشراق وغیرہما ہر مستحب کا ترک مکروہ ٹھہرے اور یہ صحیح نہیں ۔

 (فتاویٰ رضویہ ، ۶/ ۶۳۱)

        اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن نے ایسے ہی ایک اور سوال (کہ امام کے سر پر دستار نہ ہو اور مقتدی کے سر پر دستار ہو تو کسی کی نماز میں کچھ خلل آتا ہے یا نہیں ؟ اور اگر کچھ خلل آتا ہے تو امام کے یا مقتدی کے؟ اور اگر خلل ہے تو کس قسم کا خلل ہے؟) کے جواب میں جو ارشاد فرمایا اس کا خلاصہ یوں ہے کہ :  کسی کی نماز میں کچھ خَلَل نہیں ، عمامہ مستحباتِ نماز سے ہے اور ترکِ مستحب سے خَلَل درکنار کراہت بھی نہیں آتی اس لئے کہ عمامہ باندھنا سُنَنِ زَوائِد (سنّت غیرِ مؤکدہ )میں سے ہے اور سُنَنِ زَوائِد کا حکم مستحب والا ہوتا ہے۔  دُرِّمُخْتار میں ہے :  نماز کے آداب ہیں جن کا ترک اِسائَ ت و عِتاب لازم نہیں کرتا مثلاً سُنَنِ زوائد کا ترک، لیکن ان کا بجا لانا افضل ہے۔  (درمختار، آخر باب صفۃ الصلٰوۃ، ۱/ ۷۳، فتاویٰ رضویہ ، ۷/ ۳۹۴)

        خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ مفتی محمد عمرالدین قادری ہزاروی  عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی کا خاص اسی مسئلے پر نہایت مُدَلَّل فتویٰ بنام ’’اِزَالَۃُ المَلَامَۃِ عَنِ الاِمَامَۃِ بِغَیرِ العِمَامَۃ‘‘ بھی ہے جس پر دیگر علماء و مَشاہِیر کی تَصدِیقات کے ساتھ ساتھ سیّدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن کی تصدیق بھی موجود ہے چنانچہ اعلیٰ حضرت  عَلَیہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں :  ’’فِی الوَاقع بے عمامہ کے صرف ٹوپی سے امامت مُوجبِ کراہت نہیں اگرچہ عمامہ اَحسن و افضل ہے، ہاں بالکل بَرہَنَہ سر نماز مکروہ ہے وہ بھی جبکہ براہِ کَسَل (سستی)ہو اور اگر بہ نیتِ تَذَلُّلْ (عاجزی) ہے تو وہی افضل ہے۔  

(ازالۃ الملامۃ عن الامامۃ بغیر العمامۃ ، ص ۱۰)

عمامے کے متعلق علمائے اہلسنّت کے فتاوی

        مفتی محمدامجد علی اعظمی عَلَیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی سے عمامہ شریف کے متعلق پوچھے گئے دو سوالات بمع جوابات ملاحظہ فرمائیے چنانچہ

(1)سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام صاحب نماز کے وقت عمامہ نہیں باندھتے عذر فرماتے ہیں کہ میرا سر گھومتا ہے اور مقتدیوں میں ایک صاحب(عمامہ ) باندھتے ہیں ۔ ایسی حالت میں نماز صحیح ہے یا مکروہ ۔

الجواب :  اگر مقتدی کے سر پر عمامہ ہے امام کے(سر پر ) نہیں تو اسکی وجہ سے نماز میں کوئی کراہت نہیں اور مقتدی کو نماز باعمامہ کا ثواب ملے گا۔ (فتاویٰ امجدیہ ، ۱/ ۱۹۴)

(2)سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ پیش امام کو ٹوپی پہن کر امامت کرنا حرام ہے یا مکروہِ تحریمی یا مکروہِ تنزیہی اور امام کے لئے کسی مخصوص ٹوپی کی ضرورت ہے یا ہر ٹوپی کا ایک حکم ہے؟۔  

الجواب : صرف ٹوپی پہن کر امامت کرنا نہ حرام ہے نہ مکروہِ تحریمی نہ مکروہِ تنزیہی البتہ ٹوپی پر عمامہ باندھنا زیادہ ثواب ہے اور جو نماز عمامہ کے ساتھ پڑھی جائے وہ اس نماز سے افضل ہے جو بغیر عمامہ پڑھی گئی اور اس حکم میں امام و مقتدی دونوں کا ایک حکم ہے ، امام کے لئے عمامہ کی خصوصیت نہیں ، نہ یہ کہ امام کے لئے زیادہ  تاکید ہو مقتدیوں کے لئے کم ۔ ہر قسم کی ٹوپی جائز ہے مگر جو ٹوپی کفار و فساق کی علامت ہو اس کو نہ پہننا چاہئے۔  (فتاویٰ امجدیہ ، ۱/ ۱۹۸)

عمامہ پر گوٹا لگوانے کا حکم

       مفتیٔ اعظم ہند علامہ ابو البرکات مصطفیٰ رضا خانعَلیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ایک سوال ’’جس پگڑی میں گوٹا([1]) لگا ہو اس کو باندھ کر نماز پڑھنا درست ہے ؟ کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرتے ہیں ۔  

        الجواب :  جائز ہے جب کہ گوٹا  چار انگل سے کم ہو اور سچا ہو جھوٹے سے نماز مکروہ ہو گی ۔  

 



1       سونے چاندی اور ریشم کے تاروں سے بنا ہوا فیتا یا زری کی تیار کی ہوئی گوٹ یا کناری جو عموماً عورتوں کے لباس پر زینت اور خوش نمائی کے لیے ٹانکی جاتی ہے اس کا عرض آدھ انچ سے لے کر بالشت بھر بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ ہے۔



Total Pages: 101

Go To