Book Name:Imamay kay Fazail

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جن حضرات کے لئے کفن میں عمامے کی شرعاً اجازت ذکر کی گئی ہے انہیں عمامہ یوں باندھنا چاہئے کہ عمامے کا شملہ چہرے پر رکھاجائے جیسا کہ حضرت سیّدنا نافع رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ فرماتے ہیں :  کَانَ ابْنُ عُمَرَ یُسْدِلُ طَرَفَ الْعِمَامَۃِ عَلَی وَجْہِ الْمَیِّتیعنی حضرت سیّدناابن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُما عمامے کا شملہ میت کے چہرے پر رکھتے تھے اور پھر اسے میّت کی ٹھوڑی کے نیچے سے گھماتے ہوئے اس کے سر پر اچھی طرح لپیٹ دیتے، پھر اس کے دوسرے کنارے کو بھی میت کے چہرے پر ڈال دیتے۔  راوی فرماتے ہیں ہم نے امام عبد الرزاق عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْوَہّابْ سے پوچھا، یہ کیسے؟ تو انہوں نے ارشاد فرمایا :  میں نے حضرت سیّدنا مَعْمَر رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کو اس طرح کرتے دیکھاہے کہ وہ عمامے کا ایک کنارہ میّت کے چہرے پر رکھتے اور پھر اسے حلق کی   

جانب سے گھماتے ہوئے میّت کے سر پر عمامہ شریف باندھ دیتے اور آخر میں سرکی طرف سے لاتے ہوئے اس کا دوسرا کنارہ میّت کی پیشانی پر لاتے اور جو کچھ بچ جاتا اُسے اس کے چہرے پر ڈال دیتے۔(مصنف عبدالرزاق، باب الکفن، ۳/ ۲۶۶، حدیث : ۶۲۰۹)

        فتاویٰ ہِندیہ میں ہے :  وَیُجْعَلُ ذَنَبُہَا عَلٰی وَجْہِہِ بِخِلَافِ حَالِ الْحَیَاۃِ کَذَا فی الْجَوْہَرَۃِ النَّیِّرَۃِ یعنی عمامہ شریف کے شملے کو بخلاف حالتِ زندگی کے میت کے چہرے پر رکھا جائے گا، ایسے ہی جوہرہ نیّرہ میں لکھا ہے۔  (فتاوٰی ہندیہ، کتاب الصلاۃ ، الباب الحادی والعشرون، الفصل الثالث فی التکفین ۱/ ۱۶۰)     

مزارات پر عمامے رکھنا

        عَارِف بِ اللّٰہ  ، نَاصِحُ الْاُمَّہ حضرت علامہ مولانا امام عَبدُالغَنِی بِن اِسمَاعِیل نَابُلُسِی حَنَفِی عَلَیہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْغَنِی فرماتے ہیں :  ’’اگر چادریں چڑھانے اور عمامے و کپڑے وغیرہ رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کی نظر میں ان (مزارات والے اولیائے کرام) کی عزَّت وعظمت پیدا ہو، لوگ انہیں عام آدمی نہ جانیں ، یہاں خشوع و خضوع حاصل ہو اور غافل زائرین کے دِلوں میں ان کا اَدب واِحترام پیدا ہو، کیونکہ ان کے دل مزارات میں موجود اَولیائے کرام رَحِمَہُمُ  اللّٰہ  السَّلام (کا مقام نہ جاننے کے سبب ان ) کی بارگاہ میں حاضری دینے اوران کا اَدب واِحترام کرنے سے خالی ہوتے ہیں ، اَولیائے کرام رَحِمَہُمُ  اللّٰہ  السَّلام کی مقدس اَرواح ان کے مزارات کے پاس جلوہ اَفروز ہوتی ہیں ۔  لہٰذا چادریں چڑھانا اور عمامے وغیرہ رکھنا بالکل جائز ہے، اور اس سے منع نہیں کرناچاہئے([1])،     

کیونکہ اَعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر ایک کے لئے اسی کا بدلہ ہے جو اس نے نیت کی، اگرچہ یہ ایسی بدعت ہے جس پر ہمارے اَسلاف کا عمل نہ تھا۔  ‘‘ لیکن یہ بات ویسے ہی جائز ہے جیسے فقہائے کرام رَحِمہُمُ  اللّٰہ  السَّلام ’’کتاب الحج‘‘ میں فرماتے ہیں :  ’’حج کرنے والاطوافِ وَدَاع کے بعداُلٹے پاؤں چلتا ہوا مسجد حرام سے نکلے کیونکہ یہ بیت  اللّٰہ  شریف زَادَھَا  اللّٰہ  شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا کی تعظیم وتکریم ہے۔ ‘‘ اور ’’منہج السالک‘‘ میں ہے :  ’’طوافِ وَدَاع کے بعد لوگوں کا اُلٹے پاؤں واپس لوٹنا نہ تو سنّت ہے اور نہ ہی اس بارے میں کو ئی واضح حدیث ہے ۔  اس کے باوجود بزرگانِ دین ایسا کیا کرتے تھے ۔ ‘‘

(کشف النور عن اصحاب القبور، ص۱۴، الفتاوٰی تنقیح الحامدیۃ ، وضع الستور…الخ ، ۲/ ۳۵۷)

عمامے کا کفن ! مگر کس کا…؟

        حضرت سیّدنا معاذ بن عبد اللّٰہ  بن معمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں :  ایک مرتبہ میں امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عثمانِ غنی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے یہ واقعہ سنایا۔  اے امیر المؤمنین ! میں ایک صحرا میں جا رہا تھا کہ َدراِیں اَثنا گرد و غبار کے دو بگولے  مختلف سمتوں سے آتے دکھائی دئیے۔  یہ اچانک ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے اور باہم ایسے ٹکرائے جیسے لڑ رہے ہوں ۔  تھوڑی دیر بعد وہ جدا ہوئے (اور اپنی اپنی راہ کو چل دئیے ) ان میں سے ایک بگولہ پہلے سے چھوٹا ہو چکا تھا، چنانچہ میں آگے بڑھااور ان کی لڑائی والی جگہ پر پہنچا۔  وہاں کچھ ایسے مردہ سانپ پڑے تھے جنہیں میں نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔  ان میں سے کسی سے مشک کی خوشبو پھوٹ رہی تھی ۔  میں نے انہیں الٹ پلٹ کر دیکھنا شروع کر دیا کہ ان میں کس سے خوشبوپھوٹ رہی ہے، تو میں نے دیکھا وہ خوشبو ایک زرد رنگ والے باریک سانپ سے آرہی تھی۔  مجھے یقین ہو گیا ہو نہ ہو اس میں ضرور کوئی بھلائی ہے کہ اس سے ہی خوشبو آ رہی ہے ۔  چنانچہ میں نے اسے اپنے عمامے میں لپیٹ کر دفن کر دیا۔  پھر میں روانہ ہو گیا تو اچانک کسی نے مجھے آواز دی’’ اے بندہ ٔ خد ا! تو نے کیا کیا ہے؟ ‘‘ حالانکہ وہاں مجھے کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔  میں نے (اس نظر نہ آنے والے منادی کو) سارا ماجرا سنا دیا۔  اس نے کہا :  تم نے بہت اچھا کیا۔  یہ بگولے جنوں کے دو قبیلے بنی شعیبان اور بنی اقیس تھے جنکی باہم لڑائی ہوئی جسے تم نے دیکھا۔  جس سانپ کو تم نے دفن کیا ہے یہ شہید ہے کیونکہ یہ ان جنوں میں سے تھا جنہوں نے نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے وحی سننے کا شرف حاصل کیا تھا۔  حضرت سیّدنا عثمانِ غنی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا اگر تم سچے ہو تو تم نے بڑا عجیب منظر دیکھا ہے اور اگر تم جھوٹے ہو تو کذب بیانی کا گناہ تم پر ہے۔  (دلائل النبوۃ ، الجز الثانی ، الفصل السابع عشر، باب ما روی فی جمعہم الصدقات الخ، ۱/ ۲۱۴، حدیث : ۲۵۶)     

چادر اوڑھ کر نماز پڑھنا چاہیں تو؟

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر چادر اوڑھ کر نماز پڑھنا چاہیں تو چادر عمامے یا ٹوپی کے اوپر سے اوڑھئے۔  سیّدنا اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت شاہ احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن نقل فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم فرماتے ہیں : ’’لَایَنظُرُ  اللّٰہ  اِلٰی قَومٍ لَایَجعَلُونَ عَمَائِمَھُم تَحتَ رِدَائِھِم یَعنِی فِی الصَّلٰوۃِ‘‘ یعنی  اللّٰہ  تعالٰی اُس قوم کی طرف نظرِرحمت نہیں فرماتا جونماز  میں اپنے عمامے اپنی چادروں کے نیچے نہیں کرتے۔  و اللّٰہ  تعالٰی اعلم(فردوس الاخبار، ۵/ ۱۴۶، حدیث : ۷۷۷۳، فتاوی رضویہ ، ۷/ ۲۹۹)

نماز میں عمامہ شریف پر چادر اوڑھ لینا یقینا سعادت مندی ہے، البتہ جو چادر کے بِغیر نماز ادا کرتا ہے اُس پر بھی کوئی الزام نہیں ۔ البتہ نماز میں سر سے نیچے چادر اوڑھنا مکروہ تنزیہی ہے۔  

(۱)نماز میں سِمٹی ہوئی چادر کو مفلر کی طرح سر اور کانوں پر لپیٹ لینے کے بجائے پھیلا کر سر پر اوڑھئے نیز اس کا ایک سِرا مَثلاً دائیں کندھے کی طرف والا بائیں کندھے پر ڈال لیجئے، بلکہ چاہیں تو اس



1      سیدی اعلیٰ حضرت عَلَیہِ رَحمَۃُ رَبِّ العِزَّت فرماتے ہیں:’’اور جب چادر موجود ہو اور وہ ہُنُوز(ابھی)پرانی یا خراب نہ ہوئی کہ بدلنے کی حاجت ہو تو بیکار چادر چڑھانا فضول ہے۔بلکہ جودام اس میں صرف کریں ولی اللّٰہ کی روح مبارک کو اِیصالِ ثواب کے لئے محتاج کو دیں۔ ہاں جہاں معمول ہو کہ چڑھائی ہوئی چادر جب حاجت سے زائد ہو، خدام، مساکین حاجت مند لے لیتے ہیں اور اس نیت سے ڈالے تو مضایقہ نہیںکہ یہ بھی تصدق ہو گیا۔‘‘ (احکامِ شریعت ، حصہ اول ، ص۸۹)



Total Pages: 101

Go To