Book Name:Imamay kay Fazail

آنکھوں میں اس مردہ راہبہ کو شیشے کی مانند دیکھا۔  تو علامہ نابُلُسی رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا :  تیری زوجہ کا والد دنیا کے متعلق دھوکے میں مبتلا ہے۔  تو خواب دیکھنے والے نے کہا :  جی ہاں معاملہ ایسا ہی ہے۔  اس واقعے کو ابھی چند روز ہی گزرے تھے کہ اس عورت کا باپ فوت ہو گیا۔  (تعطیرالانام ، باب العین ، ص۲۵۴)

عمامے کے متفرق مسائل

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ذیل میں بَحرُالعُلُوم حضرت علامہ مفتی عبدالمنان اعظمی عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی سے عمامہ شریف کے متعلق پوچھے گئے سوالات مع جوابات ذکر کئے گئے ہیں

(سوال) عمامہ باندھ کر سفر کرنا، دوکان پر بیٹھنا، خرید و فروخت کرنا کیسا ہے؟

(جواب) عمامہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عمومی سنّت ہے۔  توسفر حضر اور کاروبار کی حالت میں ہر وقت باندھنا سنّت ہے، البتہ حالتِ نماز میں اس کی خصوصیت زیادہ ہے کہ اس حالت میں ثواب بہت زیادہ ہے۔  

(سوال) صرف ٹوپی پہننا سنّت ہے یا نہیں ؟

(جواب) بزازیہ میں ہے ’’ لَا بَأسَ بِلُبسِ القَلَانِیسِ وَ قَد صَحَّ اَ نَّہٗ صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَلبَسُھَا‘‘ٹوپی پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں اور حدیثِ صحیح سے ثابت ہے کہ حضورِ اَقدَس صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ٹوپی پہنتے تھے۔ (فتاویٰ بحرالعلوم، ۵/ ۴۱۲)

عورتوں کا عمامہ باندھنا کیسا؟

        عورتوں کا عمامہ باندھنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ مردوں کے ساتھ خاص ہے اس میں مردوں سے مشابہت پائی جاتی ہے چنانچہ حضرت سیّدنا ابوہریرہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ روایت فرماتے ہیں :  لَعَنَ رَسُولُ  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ یَلْبَسُ لِبْسَۃَ الْمَرْاَۃِ وَالْمَرْاَۃَ تَلْبَسُ لِبْسَۃَ الرَّجُلِ یعنی رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَالِہٖ وَسَلَّمْ نے عورتوں جیسا لباس پہننے والے مرد اور مردوں جیسا لباس پہننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے ۔  اس مسئلے کے بارے میں میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلَیہِ رَحمَۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں :  زَنانِ عرب جو اوڑھنی اوڑھتیں حفاظت کے لئے سرپرپیچ دے لیتیں اس پر ارشاد ہوا کہ ایک پیچ دیں دو نہ ہوں کہ عمامہ سے مشابہت نہ ہو۔  عورت کو مرد، مرد کو عورت سے تَشَبُّہ حرام ہے۔  امام احمد وابوداؤد وحاکم نے بَسندِ حسن اُمُّ المومنین اُمِّ سلمہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہَا سے روایت کی :  اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَیْہَا وَہِیَ تَخْتَمِرُ فَقَالَ لَیَّۃً لَا لَیَّتَیْنِ نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَسَلَّم سیّدہ اُمِّ سلمہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہَا کے ہاں تشریف لے گئے تو (کیادیکھا) کہ وہ اوڑھنی اوڑھ رہی ہیں تو ارشاد فرمایا :  سرپر صرف ایک پیچ دو ، دو(۲)پیچ نہ ہوں ۔  (ابوداؤد، کتاب اللباس، باب فی الاختمار، ۴/ ۸۸، حدیث : ۴۱۱۵) تیسیر شرح جامع صغیر میں ہے :  حَذراً مِنَ التَّشَبُّہِ بِالمُتَعَمِّمِینَ اس خطرہ سے کہ کہیں پگڑی باندھنے والے مردوں سے مشابہت نہ ہو جائے۔  (التیسیر شرح جامع الصغیر، حرف اللام، ۲/ ۳۳۵) دیکھو تمام زَنانہ لباس دفعِ تَشَبُّہ (مشابہت دور کرنے )کے لئے کافی نہ ہوا صرف دوپٹہ کے سر پر دو پیچ مُورِثِ تَشَبُّہ (مشابہت پیدا کرنے والے ) ہوئے۔  (فتاویٰ رضویہ ، ۲۴/ ۵۳۶)  

مَیِّت کو عمامہ باندھنا

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! میت کو عمامہ پہنانے کے متعلق حکمِ شرعی جاننے کے لئے دعوتِ اسلامی کے قائم کردہ’’ دارالافتاء اہلسنّت ‘‘کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیے : چنانچہ

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ میت کو عمامہ شریف پہنا کر دفن کرنے کا کیا حکم ہے ؟سائل :  محمد ساجد عطاری

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

الجواب بعون الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

        مرد کے کفنِ سنّت میں تین کپڑے ہیں ، لفافہ، ازار اور قمیص، عمامہ کفن سنّت میں شامل نہیں ، تاہم متاخرین علماء کرام نے علماء و مشائخ کو عمامہ کے ساتھ دفن کرنے کو جائز و  مُسْتَحْسَن فرمایا ہے، لیکن عام لوگوں کو عمامہ شریف پہنا کر دفنانا مکرو ہ تنزیہی ہی ہے۔

        سنن بیہقی میں ہے : عَنْ نَافِعٍ قَالَ : اِنَّ اِبْنًا لِعَبْدِ  اللّٰہ  بْنِِ عُمَرَ مَات فَکَفَّنَہُ اِبْنُ عُمَرَ فِی خَمْسَۃِ اَثْوَابٍ عِمَامَۃٍ وَقَمِیصٍ وَثَلَاثِ لَفَائِفَ‘‘ سید نانافع رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  ابن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے صاحبزادے کا انتقال ہوا تو آپ نے اسے پانچ کپڑوں میں کفن دیا، عمامہ ، قمیص ، تین چادریں ۔  

(السنن الکبریٰ للبیھقی ، کتاب الجنائز، باب جواز التکفین فی القمیص الخ، ۳/  ۵۶۵، حدیث : ۶۶۸۹)

        حضرت علا مہ احمد بن محمدالطحطاوی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ حاشیہ طحطاوی میں فرماتے ہیں : ’’ تُکْرَہُ العِمَامَۃُ لِاَنَّھَا لَمْ تَکُنْ فِیْ کَفَنِ رَسُوْلِ  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیْہِ وَ سَلَّم وَعَلَّلَھَا فِی الْبَدَائِع لِاَنَّھَا لَوْ فُعِلَتْ لَصَارَالکَفَنُ شَفْعًا وَالسَّنَۃُ اَنْ یَّکُوْنَ وِتْرًا وَاسْتَحْسَنَھَا بَعْضُھُمْ وَھُمْ مُتَاَ خِّرُوْنَ وَخَصَّہٗ فِیْ الظَّہِیْرِیۃِ بِالْعُلَمَاءِ وَالْاَشْرَافِ دُوْنَ الْاَوْسَاطِ یعنی (کفن میں )عمامہ ہونا مکروہ ہے اس لئے کہ یہ رسول  اللّٰہ صَلَّی  اللّٰہ   عَلَیْہِ وَسَلَّم کے کفن مبا رک میں نہ تھااور بدائع الصنائع میں اس کی یہ وجہ بیا ن کی گئی ہے کہ اگر کفن میں عما مہ ہو تو وہ جُفت ہو جائے گا اور سنّت طا ق ہونا ہے ۔ اور بعض متا خرین ائمہ کرام نے اسے مُسْتَحْسَن قرار دیا ہے ظَہِیرِیہ میں ہے کہ یہ مُسْتَحْسَن ہو نا علما ء واشراف کیلئے ہے نہ کہ عوام کیلئے ۔ ‘‘ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، کتاب الصلاۃ ، باب احکام الجنائز، ص ۵۷۷)

            طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے :  ’’فَالسُّنَّۃُ ھِیَ الثَّلَاثُ وَمُخَالَفَتُھَا تَکْرَہُ تَنْزِیْہًا‘‘ یعنی مرد کے لئے کفن میں سنّت تین کپڑے ہیں اس کی مخالفت مکروہِ تنزیہی ہے ۔

 (حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار، کتاب الصلٰوۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ۱/ ۳۶۹)

        صدر الشر یعہ ، بد رالطر یقہ مفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ فتا وی امجد یہ میں فر ما تے ہیں :  ’’کفن میں عما مہ ہو نا علما ء و مشا ئخ کیلئے جا ئز ، عوام کیلئے مکروہ ہے ۔ ‘‘ (فتا وی امجدیہ ، ۱/ ۳۶۷)

و اللّٰہ  اعلم ورسولہ عزوجل و صلی  اللّٰہ  تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم

میت کے عمامہ کا شملہ کہاں رکھا جائے؟

 



Total Pages: 101

Go To