Book Name:Imamay kay Fazail

قدر طعام کہاں سے مہیا فرمایا ہے؟ فرمایا :  ’’اُس قیمتی جبے کوبیچ کر ضروری اشیاء خریدی ہیں ۔ ‘‘ یہ سن کر وہ شخص چیخ اٹھا کہ میں نے اس فقیر کو اَہلُ  اللّٰہ  سمجھا تھا مگر یہ تومَکّار ثابت ہوا، ایسے تبرکات کی قدر اس نے نہ پہچانی۔  آپ نے فرمایا :  ’’چپ رہو جو چیز تبرک تھی وہ میں نے محفوظ کر لی ہے اور جو سامانِ امتحان تھا ہم نے اسے بیچ کردعوتِ شکرانہ کا انتظام کر ڈالا۔ ‘‘ یہ سن کر وہ شخص مُتَنَبِّہ ہو گیا اور اس نے تمام اہلِ مجلس پر ساری حقیقت حال کھول دی جس پر سب نے کہا کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تبرک اپنے مستحق تک پہنچ گیا۔  (فتاویٰ رضویہ ، ۲۱/ ۴۰۹)

تحفۂ مُرشِد کی اہمیت

        دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’آدابِ مرشد کامل‘‘ کے صفحہ 66پر ہے : ’’مشائخِ کِبار رَحِمہُمُ  اللّٰہ  السَّلام نے فرمایا کہ جب مرشِد اپنے مرید کو کوئی کپڑا، عمامہ ، ٹوپی یا مِسواک مبارَک عطا فرمائے تو یہ ُدرُست نہیں کہ وہ اس کو کسی دُنیوی چیز کے بدلے میں بیچ ڈالے ۔  کیونکہ بسا اوقات مرشِد اس چیز میں مرید کے لئے کامل لوگوں کے اخلاص (یعنی خُصوصی فُیوض وبَرَکات) ڈال کر اس کے سِپُرد کرتے ہیں ۔  (آدابِ مرشد کامل ، ص ۶۶)

ولی  اللّٰہ  کے عمامے کی برکت

        خلیفہ محمد اِرادۃُ  اللّٰہ  بدایونی (عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی) حضرت سیّد شاہ آل احمد اچھے میاں مارہروی (عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی) کے مرید تھے جو ہمہ وقت اسی فکر میں رہتے تھے کہ خداوند  تَعَالٰی  ایک بیٹا عطا فرمائے ؟ ایک مرتبہ حضور صاحبُ البرکات کے عرس میں اپنے مرشد کے رو برو کھڑے تھے ، دریائے سخاوت ِ عرفانی جوش پر تھا ارشاد فرمایا :  اِرادۃُ  اللّٰہ  کیا چاہتے ہو ؟انھوں نے عرض کیا کہ غلام کو کوئی فاتحہ خواں نہیں ہے ، حضرت نے فرمایا :  ربّ کریم ہمارے اِرادۃُ  اللّٰہ   کو فرزند دیدے ، اس کے بعد فرمایا :  خلیفہ! پہلے بیٹے کا نام کریم بخش رکھنا، دوسرے کا رحیم بخش رکھنا اور تیسرے کا الہٰی بخش رکھنا۔  خلیفہ موصوف قدموں پر گر پڑے اور عرض کرنے لگے کہ حضور مجھ کو امید نہیں تو حضرت نے اپنے سرِ مبارک کا کلاہ عطا فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ خدا کی ذات سے مجھ کو امید ہے ، خلیفہ اِرادۃُ  اللّٰہ  واپس ہوئے جلد ہی خدا کی قدرت ظاہر ہوئی بعدمدت معمول کے بیٹا پیدا ہوا، خلیفہ نے اس کا نام کریم بخش رکھا ، یہاں تک کہ تین سالوں میں تین بچے پیدا ہوئے اور تینوں کا نام حضرت کے بموجب رکھا، بعنایتِ الہٰی تینوں بیٹے جوان و عاقل ہوئے ، دو بیٹوں نے اپنا آبائی پیشہ اختیار کیا اور کریم بخش نے علومِ مُرَوَّجَہ سے فراغت کے ’’کریم اللغات‘‘ نامی کتاب تصنیف فرمائی۔

 (تذکرہ مشائخ قادریہ رضویہ ، ص ۳۶۳)

عمامے کا احترام کیجئے

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بلاشبہ عمامہ شریف ادائے سنّت کا ذریعہ ہے اس لئے ہمیں اس کے ادب و احترام کا خیال رکھنا چاہئے ، ہر ایسے کام سے مکمل اِجتِناب کرنا چاہئے جو عمامہ شریف کی طرف انگلیاں اُٹھنے کا سبب بنے۔  شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالیَہ مِسواک کے متعلق فرماتے ہیں کہ جب ناقابلِ اِستعمال ہوجائے تو پھینک مت دیجئے کہ یہ آلۂ ادائے سنّت ہے، کسی جگہ اِحتیاط سے رکھ دیجئے یا دَفن کردیجئے یا پتھر وغیرہ وزن باندھ کر سمندر میں ڈبود یجئے ۔  (163 مدنی پھول، ص ۳۵)  عمامہ شریف کے متعلق بھی ہمیں انہی باتوں کا خیال رکھنا چاہئے کہ یہ بھی آلۂ ادائے سنّت ہے۔  

٭عارف ب اللّٰہ  علامہ فَقِیرُ اللّٰہ  علوی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی (مُتَوَفّٰی ۱۱۹۵ھ) جو کہ شیخ الاسلام علامہ محمد ہاشم ٹھٹھوی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی کے شاگرد اور زبردست عالم و صوفی بزرگ ہیں فرماتے ہیں :  بیت الخلاء میں مُعَظَّم اشیاء جیسے عمامہ شریف ، مسواک اور کنگھی(ان کی تعظیم کی وجہ سے)نہ لے کر جانا مستحب ہے ۔   (قطب الارشاد، ص ۱۶۵)

        شیخِ طریقت امیرِ اہلِسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی  دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالیَہ کا بھی معمول ہے کہ عمامہ اتار کر مگر سر ڈھانپ کر بیت الخلاء جاتے ہیں ۔  

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رہے عمامے سمیت بیتُ الخلاء جانا کوئی گناہ کا کام نہیں ہے جیسا کہ بَحرُالعُلُوم حضرت علامہ مفتی عبدالمنان اعظمی  عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں :  پیشاب یا پاخانہ کے لیے ننگے سر جانا منع ہے، تو ٹوپی، عمامہ جو بھی پہنے ہو استنجا کے لیے جا سکتا ہے۔  (فتاویٰ بحر العلوم، ۵/ ۴۱۲)

٭عمامہ کو جب پھر سے باندھنا ہو تو اسے اتار کر زمین پر پھینک نہ دے، بلکہ جس طرح لپیٹا ہے اُسی طرح اُودھیڑا (کھولا) جائے۔  (بہار شریعت ، ۳/ ۴۱۹)

٭پاجامہ کا تکیہ نہ بنائے کہ یہ ادب کے خلاف ہے اور عمامہ کا بھی تکیہ نہ بنائے۔ (بہارشریعت، ۳/ ۶۶۰)

        حضرت علامہ سیّد محمد امین ابن عابدین شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی نِسیان کا سبب بننے والی اشیا ء کو ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’شلواریاعمامے کو تکیہ بنانے سے نسیان (بھول جانے کی بیماری )پیدا ہوتی ہے۔ ‘‘ (رد المحتار، کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر، مطلب ست تورث النسیان، ۱/ ۴۲۸)

٭ملِک العلماء علامہ ظفرالدین بہاری عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کے حوالے سے ذکر فرماتے ہیں کہ سر کے نیچے عمامہ یا مصلیٰ یا پائجامہ رکھنا ممنوع کہ عمامہ و مصلیٰ رکھنے سے عمامہ اور مصلیٰ کی اور پائجامہ رکھنے سے سر کی بے حرمتی ہے۔  نیز عمامہ کے شملہ سے ناک یا منہ پونچھنا نہ چاہیے۔  (حیاتِ اعلیٰ حضرت، ۳/ ۹۰)

٭کھانا کھانے کے بعد عمامہ شریف سے ہاتھ صاف نہیں کرنے چاہئیں ، چنانچہ امامِ اہلسنّت شاہ احمد رضا خانعَلیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں :  (کھانا کھانے کے بعد ہاتھ پونچھنا) پہننے کے کپڑوں اور عمامہ سے ناجائز اسی لئے ہے کہ پونچھنے سے وہ خراب ہو جائیں گے اور مال کو خراب کرنا جائز نہیں نیز عدمِ جواز اس صورت میں ہے جب کھانے میں چکنائی یا ایسی بو ہو جو کپڑے میں ناپسند ہوتی ہے اگرچہ کھانے میں پسندیدہ ہو ورنہ بظاہر اس سے کوئی مَانِع نہیں ۔  (فتاویٰ رضویہ ، جز الف ، ۱/ ۳۳۵، ملتقطاً)

٭عمامہ شریف کے شملے سے منہ صاف نہیں کرنا چاہئے کہ یہ ادب کے خلاف ہے۔  (مسلمانن جو تاج، ص۱۰۵)

٭شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ اپنی مشہور تالیف ’’کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب‘‘ صفحہ



Total Pages: 101

Go To