Book Name:Imamay kay Fazail

نہ ہوتے اور مجھ پر قرضہ نہ ہوتا تو میں خود محمد (صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو قتل کرتا۔  وَہَب حیران ہو تے ہوئے بولا آپ یہ بات کیسے کہہ رہے ہیں ؟ تو حضور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پھر وہی ارشاد فرمایا۔  وَہَب بولا :  آپ ہمیں زمین والوں کی خبریں دیتے تو ہم آپ کو جھٹلایا کرتے تھے حالانکہ میں آپ کو آسمانی خبریں دیتے دیکھ رہا ہوں ۔  میں گواہی دیتا ہوں  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کے سچے رسول ہیں ۔  (اسلام قبول کر لینے کے بعد) وَہَب بن عُمیر نے عرض کی :  یَارَسُوْلَ  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے اپنا عمامہ شریف عطا فرما دیجئے ۔  توآپ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا مبارک عمامہ عطا فرما دیا۔  پھر حضرت وَہَب رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ مکہ شریف آ گئے۔  حضرت سیّدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  جب وَہَب حالتِ کفر میں یہاں آیا تھا تو میرے نزدیک ایک خنزیر سے بھی بدتر تھا اور اب قبولِ اِسلام کے بعد یہی وَہَب بن عمیر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ مجھے میری سگی اَولاد سے بھی زیادہ محبوب ہیں ۔(معجم کبیر، باب العین ، عمیر بن وھب ، ۱۵/ ۶۲، حدیث : ۱۲۰)

شاہ فضل رحمن کی اعلٰی حضرت پر کمالِ شفقت

        مَلِکُ العُلَمَاء ، حضرت علامہ ظفرالدین بہاری عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی نقل فرماتے ہیں :  مَدَّاحُ الحبیب مولوی جمیل الرحمن خان صاحب (رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ) نے دربار فضائل میں ذکر کیا کہ ۱۲۹۳ھ ماہ مبارک رمضان شریف میں کہ اعلیٰ حضرت کی عمر شریف ۲۱ سال کی تھی، حضرت مولانا شاہ فضل رحمن([1]) صاحب (رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ) سے ملنے تشریف لے گئے۔  ایک جگہ قیام فرما کر اپنے دو ہمراہیوں کو حضرت کی خدمت میں بھیجا اور تاکید فرمائی کہ صرف اتنا کہنا، ایک شخص بریلی سے آیا ہے، حضور سے ملنا چاہتا ہے۔  انہوں نے جا کر کہا۔  حضرت مولانا رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا :  وہ یہاں کیوں آئے ہیں ، ان کے دادا اتنے بڑے عالم ، ان کے والد اتنے بڑے عالم، اور وہ خود عالم، فقیر کے پاس کیا دَھرا ہے؟ پھر نرم ہو کر بکمالِ لطف فرمایا :  تشریف لائیں ۔  بعدِ ملاقات اعلیٰ حضرت نے مجلسِ میلاد شریف کے متعلق حضرت مولانا رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ سے استفسار (یعنی سوال) کیا۔  ارشا د فرمایا :  تم عالم ہو، پہلے تم بتاؤ۔  اعلیٰ حضرت نے فرمایا :  میں مستحب جانتا ہوں ۔  فرمایا :  اب لوگ اسے بدعتِ حَسَنَہ کہتے ہیں اور میں سنّت جانتا ہوں ۔  صحابہ (کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) جو جہاد کو جاتے تھے تو کیا کہتے تھے یہی نہ کہ مکہ میں نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پیدا ہوئے ہیں ،  اللّٰہ  تعالٰی نے ان پر قرآن اتارا، انہوں نے یہ معجزے دکھائے،  اللّٰہ  تعالٰی نے ان کو یہ فضائل دیے، اور مجلسِ میلاد میں کیا ہوتا ہے؟یہی بیان ہوتے ہیں جو صحابہ (کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) اُس مجمع میں بیان کرتے تھے، فرق اتنا ہے کہ تم اپنی مجلس میں لڑوا (لڈو) باٹتے ہو اور صحابہ اپنا موڑ (سر) باٹتے تھے۔  حضرت مولانا رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے اعلیٰ حضرت کو بکمالِ شفقت و محبت تین دن تک مہمان رکھا۔  ۲۹ ماہ مبارک کو رخصت کیا، جب عید سر پر آگئی۔  وقتِ رخصت فرشِ مسجد کے کنارے تک تشریف لائے۔  اعلیٰ حضرت (رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ) نے درخواست کی کہ مجھے کچھ نصیحت فرمائیے۔  فرمایا :  تکفیر میں جلدی نہ کرنا۔  اعلیٰ حضرت (رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ) نے دل میں خیال کیا کہ میں تو اُس کو کافر کہتا ہوں جو حضورِ اقدس (صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی شانِ اقدس میں گستاخی کرتے ہیں ، یہ خیال آتے ہی معاً مولانا رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا :  ہاں جو کوئی ادنیٰ حرف گستاخی کا شانِ اقدس میں بکے ضرور کافر کہنا، بے شک کافر ہے۔  پھر اعلیٰ حضرت سے فرمایا :  ہمارا جی چاہتا ہے کہ اپنے موڑ کی ٹپیا (سر کی ٹوپی) تمہارے موڑ پر دَھردیں ، اور تمہارے موڑ کی ٹپیا اپنے موڑ (سر) پر رکھ لیں ۔  اعلیٰ حضرت نے براہِ ادب سر جھکا دیا، مولانا نے اعلیٰ حضرت کی کُلاہ مبارک اپنے سر پر رکھ لی، اور اپنی کُلاہ مُقَدَّس اعلیٰ حضرت کے سر مبارک پر رکھ دی جو بطورِ تبرک اب تک محفوظ ہے۔  (حیاتِ اعلیٰ حضرت، ۳ / ۲۶۲)

خلیفۂ اعلٰی حضرت کی اعلٰی حضرت سے محبت

        خلیفہ ٔ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ سیّد سلیمان اشرف بہاری عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت شاہ احمد رضا خان عَلیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے بے حد محبت فرماتے تھے نہ صرف عقائد و نظریات میں آپ کی اِتباع فرماتے بلکہ ’’لباس اور وضع قطع میں بھی اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ العِزَّت کا ہی تتبّع فرماتے ، یہاں تک کہ عمامہ شریف بھی اسی انداز کا رکھتے جیسا کہ امامِ اہلسنّت شاہ احمد رضا خان عَلیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن استعمال فرماتے تھے۔ ‘‘ (علمائے اہلِ سنّت کی بصیرت و قیادت، ص ۳۹۷ بتصرف )

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی چاہیے کہ کسی  اللّٰہ  والے کو اپنا آئیڈیل بنا لیں اور اس کی سیرت کو اپنا کر دنیا و آخرت کی بھلائیوں کے حقدار بن جائیں جیسا کہ شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ فرماتے ہیں کہ میری آئیڈیل شخصیت امامِ اہلسنّت ، اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضا خان عَلیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ہیں ۔  

غوثِ اعظم کی کُلاہ مبارک

        اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہْلِسُنّت، مُجَدِّدِدین و مِلَّت، حامیِٔ سنّت حضرتِ علامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ شریف میں ایک واقعہ نقل فرماتے ہیں :  حرمین شریفین میں ایک ایسا شخص مقیم تھا جسے حضرت غوث الاعظم (عَلَیہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْاَکْرَم) کی کلاہ (یعنی عمامہ) مبارک تبرکاً سلسلہ وار اپنے آباء و اجدادسے ملی ہوئی تھی جس کی برکت سے وہ شخص حرمین شریفین کے نواح میں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور شہرت کی بلندیوں پر فائز تھا ایک رات حضرت غوثُ الاعظم (عَلَیہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْاَکْرَم) کو اپنے سامنے موجود پایا جو فرما رہے تھے کہ’’یہ کلاہ خلیفہ ابوالقاسم اکبرآبادی (عَلَیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْھَادِی) تک پہنچا دو۔ ‘‘ حضرت غوث ِاعظم (عَلَیہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْاَکْرَم) کا یہ فرمان سن کر اس شخص کے دل میں آیاکہ اس بزرگ کی تخصیص لازماً کوئی سبب رکھتی ہے، چنانچہ امتحان کی نیت سے کلاہ مبارک کے ساتھ ایک قیمتی جبہ بھی شامل کرلیا اور پوچھ گچھ کرتے حضرت خلیفہ(رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعالٰی عَلَیہ) کی خدمت میں جا پہنچا اور ان سے کہا کہ یہ دونوں تبرک حضرت غوثِ اعظم (عَلَیہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْاَکْرَم) کے ہیں اور انھوں نے مجھے خواب میں حکم دیا ہے کہ یہ تبرکات ابوالقاسم اکبرآبادی (عَلَیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْھَادِی) کو دے دو! یہ کہہ کر تبرکات ان کے سامنے رکھ دیے۔  خلیفہ ابوالقاسم (رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعالٰی عَلَیہ) نے تبرکات قبول فرما کر انتہائی مَسَرَّت کا اظہار کیا۔  اس شخص نے کہا :  ’’یہ تبرک ایک بہت بڑے بزرگ کی طرف سے عطا ہوئے ہیں لہٰذا اس شکریے میں ایک بڑی دعوت کا انتظام کر کے رؤسائے شہر کو مدعو کیجئے۔ ‘‘ حضرت خلیفہ (رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ) نے فرمایا :  ’’کل تشریف لانا ہم کافی سارا طعام تیار کرائیں گے آپ جس جس کو چاہیں بلا لیجئے۔  دوسرے روز علی الصباح وہ درویش رؤسائے شہرکے ساتھ آیا دعوت تناول کی اور فاتحہ پڑھی۔  فراغت کے بعد لوگوں نے پوچھا کہ آپ تو متوکل ہیں ظاہری سامان کچھ بھی نہیں رکھتے، اس



1       حضرت مولانا شاہ فضل رحمن گنج مرادآبادی عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِی زبردست عاشقِ رسول اور بلند پایہ صوفی بزرگ تھے ۔ حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی آپ ہی کے خلیفہ مجاز ہیں۔



Total Pages: 101

Go To