Book Name:Imamay kay Fazail

خَزّ (اون اور ریشم سے بُنے ہوئے کپڑے) کا سیاہ عمامہ عطا فرمایا تھا، انہوں نے اس کو محفوظ رکھا تھاا ور اس پر فخر کیا کرتے تھے، چنانچہ ایک بار بخارا میں خچر پر سوار ہوکر نکلے تو عمامہ دکھا کر کہا : یہ مجھے رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عنایت فرمایا تھا۔  (ابوداؤد، کتاب اللباس، باب ماجاء فی الخز، ۴/ ۶۴، حدیث : ۴۰۳۸)

 (2) حضرت سیّدنا حارِثہ بن خِذَام رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ایک مرتبہ شکار کیا اور نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں پیش کیا تو آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قبول فرما کر اس میں سے کچھ تناول فرمایا اور حضرت سیّدنا حارثہ بن خِذَام رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو ایک عَدَنی عمامہ شریف پہنایا۔  (اسدالغابہ، باب الحاء ، حارثہ بن خزام ، ۱/ ۵۱۹، رقم : ۹۸۹)

 (3)حضرت سیّدنا حازِم بن حَرام رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ٔاکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں اُردَن میں کیا ہوا شکار لے کر حاضر ہوا اور آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں پیش کیا تو رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قبول فرمایا اور مجھے عَدَنی عمامہ پہنایا اور فرمایا :  ’’تمہارا نام کیا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کی حازِم۔  ارشاد فرمایا :  بلکہ تم تو مُطعِم ہو۔  (الاصابۃ، حرف الحاء ، حازم بن حرام الجذامی ، ۲/ ۳، رقم : ۱۵۴۰) عَدَن یمن کا علاقہ ہے اسی کی جانب نسبت کر کے عدنی عمامہ کہا گیا ہے ، کیونکہ یہاں کا کپڑا مشہور ہے۔  

 (4)حضرت سیّدنا سعد رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  میں نے بخارا میں ایک شخص (جو کہ حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن خازم رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ تھے) کو سفید خچر پر سوار خَزّ (اون اور ریشم سے بُنے ہوئے کپڑے) کا سیاہ عمامہ شریف باندھے دیکھا ۔  انہوں نے فرمایا یہ عمامہ مجھے رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پہنایا ہے۔ (تاریخ کبیر، باب السین، سعد الرازی، ۴/ ۷۲، رقم : ۱۹۸۳)

عطائے رسول سے برکتیں لینا

        حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن خازِم رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس ایک سیاہ عمامہ تھا جسے آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ  جمعوں ، عیدین اور جنگوں میں باندھا کرتے تھے۔  جس جنگ میں فتح یاب ہوتے تو تبرکاً باندھتے اور فرماتے :  یہ عمامہ مجھے رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سجایا تھا۔  (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، عبد اللّٰہ  بن خازم، ۴/ ۶۱، رقم : ۴۶۶۰)

سخاوت کا انوکھا انداز

        حضرت سیّدنا امام تاج الدین سُبکی عَلَیْہ َرحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی فرماتے ہیں کہ سلطان العلماء ، عِزُّ الدین حضرت سیّدنا عزیزالدین بن عبد السلام سُلَمی عَلَیْہ َرحْمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی باوجود غربت کے خوب صدقہ و خیرات فرمایا کرتے تھے ، اگر کوئی سائل آتا اور آپ کے پاس اسے دینے کے لئے کچھ نہ ہوتا تو اپنے عمامے شریف کا ہی کچھ حصہ کاٹ کر عنایت فرما دیتے۔

  (طبقات الشافعیۃ للسبکی، الطبقۃ السادسۃ فیمن توفی بین الستمائۃ والسبعمائۃ، ۸/ ۲۱۴)

سیّد زادے کو عمامہ پیش کر دیا

       حضرت سیِّدنا شیخ زکریا رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ایک مرید بیان کرتے ہیں کہ ایک روز ایک سیّد زادے ہمارے پیر صاحب کے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے : یَاسَیِّدی رات میرا عمامہ کچھ لوگوں نے چھین لیا، برائے کرم مجھے عمامہ خریدنے کے لیے کچھ پیسے عنایت فرمادیجیے۔  پیر صاحب نے خیر خواہی فرماتے ہوئے انہیں کچھ رقم پیش فرمائی۔  جسے ان سیّد صاحب نے واپس لوٹا دیا ، پیر صاحب نے قبول بھی فرمالیا۔  سیّد صاحب کے ساتھ اپنے شیخ کے یہ معاملات دیکھ کر میں نے ان سے اِستِفسار کیا :  حضور! عمامہ شریف کے لئے اتنی تھوڑی سی رقم؟ اس پر پیر صاحب نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کی موجودگی میں کسی پر صدقہ اور احسان کرنا گناہ ہے (جبکہ اس میں دکھاوا اور ریاکاری ہو) اور  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ مجھ سے (اور تمام لوگوں سے) ایسے صدقے کو پسند فرماتا ہے جو لوگوں سے چھپا کر دیا جائے بس اسی وجہ سے میں اپنے تَصَدُّق کو کسی بندے پر ظاہر نہیں کرتا، ہاں اگر وہ کسی ایسے وقت میں تشریف لاتے کہ جب میرے پاس کوئی موجود نہ ہوتا تو میں ا نہیں عمامے کے پیسے یا اس سے بھی زائد دیتا ان کے جَدِّ اَمْجَد  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وجہ سے۔  اسی مرید کا بیان ہے کہ بعد میں جب میری ان سیِّد زادے سے ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں اپنے پیر صاحب کی ساری بات بتائی۔  میری بات سن کر انہوں نے ارشاد فرمایا :  رات ہی آپ کے پیر صاحب نے مجھے تحفۃً عمامہ شریف بھیجا ہے جو ابھی میرے سر پر ہے۔ (العھود المحمدیہ، قسم المامورات، ۱/ ۷۰)

بزرگوں سے بطورِ برکت عمامہ لینا

       حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک  رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  وَہَب بن عُمیر نامی کافر جنگِ اُحد میں زخمی ہو گیا وہ میدانِ جنگ میں ہی تھا کہ اس کے پاس سے ایک انصاری کا گزر ہوا۔  وَہَب نے اسے پہچان کر بے دردی سے شہید کر دیا۔  رات کے وقت جب اسے سردی نے آ گھیر ا تو یہ مکہ آ پہنچا۔  جہاں اس نے صَفوان بن اُمَیَّہ سے خفیہ ملاقات کی ۔  وَہَب نے کہا :  اگر میرے اوپر قرضہ نہ ہوتا اور بیوی بچوں کے ضائع ہونے کا خدشہ دامن گیر نہ ہوتا تو (مَعَاذَ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ) میں خود جا کر محمد (صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو قتل کر کے آتا۔  صَفوان نے پوچھا تم یہ کام کیسے کرو گے؟ تووَہَب نے کہا میں بہترین گھڑسوار ہوں ان تک پہنچ جاؤں گا اور غفلت میں پا کر انہیں قتل کر دوں گا اور واپس آجاؤں گا مجھ تک کوئی نہ پہنچ سکے گا۔  صَفوان بن اُمَیَّہ نے وہب کے یہ جذبات دیکھے تو اُس نے موقع غنیمت جانا اور کہا :  تو اپنے قرضے اور بچوں کی فکر مت کر ، تیرا قرضہ میرے ذمہ رہا، تیرے بال بچے میرے بچوں کے ساتھ رہیں گے، اُن کی ذمہ داری میں لیتا ہوں ۔  صَفوان بن اُمَیَّہ نے اپنی تلوار تیز کرنے کے بعد زہر آلود کرکے وَہَب بن عُمیر کو تھما دی اور وہ مدینہ طیبہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ وہ یہاں صرف نبی ٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو شہید کرنے کے ارادے سے آیا تھا جب وہ پہنچا اُسی وقت امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم  رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کی نظر وَہَب بن عُمیر پر پڑ گئی اُسے دیکھ کر آپ  رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی کمالِ فراست کے ذریعے جان لیا کہ معاملہ خطرناک ہے ، آپ  رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے فرمایا کہ میں نے وَہَب کو ادھر آتے دیکھا ہے وہ ایک دھوکے باز شخص ہے آپ لوگ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس پہنچیں اور اِس کے شرسے حفاظت کریں تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے گرد گھیرا ڈال لیا۔  وَہَب نبی ٔاکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس پہنچا اور زمانہ جاہلیت کا سلام کرتے ہوئے بولا :  اَنْعِم صَبَاحاً یَامُحَمَّد یعنی اے محمد (صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نعمتوں میں صبح کرتے رہو۔  آپ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  قَدْ اَبدَلَنَا  اللّٰہ  خَیراً مِنْھا یعنی  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے ہمیں اس سے بہتر سلام سے نوازا ہے۔  اس نے کہا میرا آپ سے ایک معاہدہ ہے اس کے بارے میں بات کریں ، یقیناً آپ قابلِ تعریف ہیں ۔  آپ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  یہ بتاؤ تم یہاں کیسے آئے ہو؟ وہ بولا اس قیدی کا فدیہ دینے آیا ہوں جو آپ کے پاس ہے۔  حضورصَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  تو پھر یہ تلوار کیسی ہے؟ وہ کہنے لگا :  ہم نے اسے بدر میں اٹھایا تھا مگر کامیابی حاصل نہ ہوئی۔  دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غیب کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :  تو وہ کیا تھا جو تو نے صَفوان سے کہا تھا کہ اگر میرے بیوی بچے



Total Pages: 101

Go To