Book Name:Imamay kay Fazail

نے تمہیں حضرت سیّدنا ابوعبیدہ کے نام جو خط دیا تھا ، وہ کہاں ہے ؟ تو حضرت سیّدنا عامر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ نے جواب دیا کہ وہ خط ابھی تک میرے عمامہ کے شملے میں پوشیدہ ہے۔  (فتوح الشام، ۱/ ۲۳ ملخصاً)

٭حضرت سیّدنا سَہَل بن حنظلہ انصاری رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیّدنا عُیَینَہ بن حصنرَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ اور حضرت سیّدنا اَقرَع بن حابِس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ نے رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کسی چیز کے بارے میں سوا ل کیا۔  آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیّدنا امیرمعاویہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ کو حکم دیا کہ ان کے لئے لکھ دیں چنانچہ اُنہوں نے لکھ دیا تو رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس پر مُہر ثَبت فرمائی اور تحریر ان کے حوالے فرما دی۔  عُیَینَہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ نے عرض کی :  اس تحریر میں کیاہے؟ تو رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  جس بات کا تم نے تقاضا کیا تھا، وہ اس تحریر میں ہے۔  پس اُنہوں نے اسے قبول کیا اور اپنے عمامہ میں باندھ لیا۔  (مسند احمد، باب مسند الشامیین ، حدیث سہل بن حنظلیہ، ۶/ ۱۹۵، حدیث : ۱۷۶۴۲)     

قرض کی ادائیگی کا واقعہ

       حضرت سیّدنا محمد بن یحییٰ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ سے روایت ہے کہ حضرت سیّدنا اِبنِ اَبی حَدرَد اَسلمیرَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ پر ایک یہودی کا چار درہم قرض تھا۔  اس نے نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے شکایت کردی ۔  نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہودی کا قرضہ ادا کرنے کا حکم دیا صحابی نے عرض کی :  یارسول  اللّٰہ ! خدا کی قسم میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔  نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  اس کا حق ادا کرو۔  حضرت سیّدنا اِبنِ اَبی حَدرَد رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ نے عرض کی :  میں نے اس سے کہا تھا کہ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمیں خیبر کی طرف جہاد کے لئے روانہ فرمانے والے ہیں ، مجھے امید ہے کہ میں وہاں سے ملنے والی غنیمت سے قرض اتار دوں گا۔  نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تیسری بار پھر ارشاد فرمایا :  اس کا حق ادا کرو۔  راوی فرماتے ہیں کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب تین بار کسی بات کا حکم ارشاد فرما دیتے تو پھر دوبارہ نہ فرماتے تھے۔  چنانچہ حضرت سیّدنا اِبنِ اَبی حَدرَد رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ بازار گئے اور اپنے سر سے عمامہ اُتارکر اس کو تہبند کی جگہ باندھ لیا اور پھر دھاری دار چادرجو کہ تہبندکی جگہ باندھ رکھی تھی اُتاری اور یہودی سے فرمایا اسے چار درہم میں خرید لے، تو اس نے چار درہم میں خرید لی۔  ایک بوڑھی عورت آپ کے پاس سے

 گزری اور کہا اے رسول  اللّٰہ  کے صحابی آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ آپ نے سارا واقعہ اسے سنا دیا۔  اس بوڑھی عورت نے اپنی چادر اتاری اور آپ کی جانب اچھالتے ہوئے کہا :  ’’اپنی چادر کے بدلے میں یہ چادر لے لو۔ ‘‘ (مسند احمد، باب مسند مکیین ، حدیث أبی حدرد الأسلمی ۵/ ۲۷۷، حدیث : ۱۵۳۸۹)

اس روایت سے ہمیں مندرجہ ذیل مدنی پھول ملتے ہیں :  

( 1) اسلام حقوق کی ادائیگی کے معاملے میں کس قدر اہتمام کا حکم فرماتا ہے ۔  

(2)صحابیٔ رسول نے عمامے کو سخت مجبوری کے باعث تہبند بنایا تھا۔  

( 3) بغیر کسی صحیح مجبوری کے عمامے کو تہبند بنانا درست نہیں ۔  غالباً اسی وجہ سے بڑھیا نے صحابیٔ رسول کے اس فعل پر تعجب سے سوال کیاتھا۔  

( 4)نبیٔ اکر م، نورِمجسم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم کی تعمیل کا صلہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے اُسی وقت عطا فرما دیا۔  

( 5)ہمیں بھی سنّت پر عمل کرنے میں حیلے بہانوں سے کام نہیں لینا چاہئے۔  

( 6) آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کی چادر کی قیمت عمامے سے زیادہ تھی غالباً اسی لئے عمامہ کے بجائے چادر بیچنے کے لئے دی۔  

عمامے شریف پر سجدہ

        حضرتسیّدنا ہشام رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیّدنا حسن بصری عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں :  نبی مکرم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صحابۂ کرام عَلَیہِمُ الرِّضْوَان جب سجدہ کرتے تو ان کے ہاتھ کپڑوں میں ہوتے اور وہ (گرمی اور تپش سے بچنے کے لئے) اپنے عمامہ پر سجدہ کرتے تھے۔  

(مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الصّلاۃ، باب فی الرجل یسجد ویداہ فی ثوبہ، ۲/ ۴۹۷، حدیث : ۲۷۵۴)

        حضرت سیّدنا امام حسن بَصری عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی فرماتے ہیں :  کَانَ الْقَومُ یَسجُدُونَ عَلَی الْعِمَامَۃِ وَالقَلَنْسُوَۃِ وَیَدَاہُ فِی کُمِّہ یعنی صحابۂ کرام عَلَیہِمُ الرِّضْوَان عمامہ اور ٹوپی پر سجدہ کیا کرتے تھے اور ان کے دونوں ہاتھ آستینوں میں ہوتے تھے۔ (بخاری، کتاب الصلاۃ، باب السجود علی الثوب فی شدۃ الحر، ۱/ ۱۵۳)

        شارح بخاری حضرت مفتی شریف الحق امجدی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی اس کے تحت فرماتے ہیں کہ ’’سخت سردی اور سخت گرمی میں اس کی اجازت ہے‘‘۔  (نزہۃ القاری، ۲/ ۱۰۰)

        حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے  فرماتے ہیں :  جب ہم نبیٔ پاک صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے نمازِ ظہر پڑھتے تو گرمی سے بچنے کے لیے اپنے کپڑوں پر سجدہ کرتے تھے۔  (بخاری، کتاب مواقیت الصلاۃ، باب وقت الظہر عند الزوال، ۱/ ۲۰۰، حدیث : ۵۴۲)     

        اس حدیثِ پاک کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں کہ یہ گرمی فرش کی ہوتی تھی نہ کہ وقت کی، سرکار (صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ظہر ٹھنڈی کرکے پڑھتے تھے مگر فرش تَپا ہوتا تھا جیسے کہ اب بھی حرمین شریفین میں دیکھا جاتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ نمازی اپنے پہنے ہوئے کپڑے پر ضرورۃً سجدہ کرسکتا ہے، یہی امام صاحب کا قول ہے۔  (مراٰۃ المناجیح ، ۱/ ۳۷۹)

        مندرجہ بالا روایات میں بھی نبیٔ پاک ، صاحبِ لولاک صَلَّی  اللّٰہ  تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ کے اصحاب عَلَیہِمُ الرِّضْوَان کا عماموں پر سجدہ کرنے کا ذکر ہے ، یہ عمل سردی یا گرمی کی شدت کے وقت کیا جاتا تھا جیسا کہ اُستاذُالمُحَدِّثِین حضرت علامہ مفتی وصی احمد مُحدِّث سُورَتی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی  عمامہ شریف کے متعلق اپنی تَصنِیفِ لطیف ’’کَشفُ الغَمَامَہ عَن سُنِّیَّۃِ العِمَامَہ‘‘ صفحہ 18 پر فرماتے ہیں :  ’’یہ سجدہ کرنا حضورِ اقدس صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا عمامے کے پیچ پر بیانِ جواز کے لئے تھا یا بوجہ کسی ضرورت تپشِ زمین وغیرہ کے تھا ورنہ ہمارے حق میں بِلا کسی ضرورت کے عمامہ کے پیچ پر سجدہ کرنا مکروہ ہے چنانچہ کتبِ فقہ میں مُبَرہَن (دلیل سے ثابت) ہو چکا ہے۔  اس واسطے حضورِ اَقدَس صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک صحابی کو عمامہ کے پیچ پر سجدہ کرتے دیکھا آپ



Total Pages: 101

Go To