Book Name:Imamay kay Fazail

        جنگ اور زلزلوں کے دھماکوں کی فلک شگاف آوازوں یا طوفانی بادو باراں کی کڑک سے کانوں کو صدموں سے بچانے کے لئے عمامہ کااستعمال نہایت مفید رہتاہے۔ ہوائی حملوں سے بچاؤ کیلئے منہ کے بل لیٹ کر سر اور چہرے کو ڈھانپنے کے احکام دیئے جاتے ہیں ۔  اگر سر پرعمامہ شریف سجا رہے تو ہم ان تمام خطرات سے بیک وقت بچ سکتے ہیں ۔  

بالوں کی حفاظت

       ایک مشہور روسی ماہر نے بالوں کے گرنے کے اسباب کے متعلق لکھا کہ عورتوں کااوڑھنی(یعنی دوپٹے) اور مردوں کا عمامے یا ٹوپی کے بغیرننگے سر چلنا بالوں کے لئے ضرر رساں ہے۔ ننگے سر رہنے کی صورت میں بالوں پر براہ راست پڑنے والی سورج کی گرمی اور سردی کے اثرات نہ صرف بالوں بلکہ پورے چہرے اور دماغ کو بھی متأثر کرتے ہیں ۔  جس کے باعث صحت بھی متأثر ہو سکتی ہے۔

عِمامہ باندھنا مایوسی کا عِلاج ہے

        شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کے سنّتوں بھرے بیان کے تحریری گُلدستے ’’خودکشی کا علاج ‘‘میں منقول ہے :  سرکارِ مدینہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مبارَک سنّت عِمامہ شریف باندھنا ذِہنی دباؤ سے نَجات پانے اور اپنے اندر حِلم و قُوّتِ برداشت بڑھا نے کا بہترین طریقہ ہے ۔  چُنانچِہ حدیث شریف میں ہے :  ’’عِمامہ باندھو تمہارا حِلم بڑھے گا۔ ‘‘ (مستدرک حاکم، کتاب اللباس، ۵/ ۲۷۲، حدیث : ۷۴۸۸)     

عِمامہ اور سائنس

        جدید سائنسی تحقیق کے مطابق مستقِل طور پر عِمامہ شریف سجا نے والا خوش نصیب مسلمان فالج اور خون کی وجہ سے جنم لینے والی بعض بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے کیونکہ عِمامہ شریف سجانے کی بَرَکت سے دِماغ کی طرف جانے والی خون کی بڑی بڑی نالیوں میں خون کا دباؤ صِرف ضَرورت کی حد تک رَہتا ہے اور غیر ضَروری خون دِماغ تک نہیں پہنچ پاتا لہٰذا امریکہ میں فالج کے عِلاج کیلئے عِمامہ نُما’’ماسک‘‘ (MASK)بنایا گیا ہے۔  (خود کشی کا علاج ، ص۶۵)

اُن کا دیوانہ عِمامہ اور زُلف ورِیش میں

واہ دیکھو تو سہی لگتا ہے کتنا شاندار

نفسیاتی امراض کا علاج

       ایک ماہرِ نفسیات ڈاکٹر کا بیان ہے کہ جب میں اعلیٰ تعلیم کی ڈگری کے لئے بیرونِ ملک گیا تو وہاں میں نے دیکھا کہ نفسیاتی امراض سے بچانے کے لئے پگڑی (عمامہ ) نما ایک کپڑاسر پر باندھا جاتا تھا۔  میں نے دیکھا تو حیران ہو گیا کہ یہ تو وہی عمامہ شریف ہے کہ جسے سجانے کا ہمارے پیارے آقاصَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حکم ارشاد فرمایا ہے۔ ماہرین وہ عمامہ نما کپڑا اس لئے باندھتے تھے کہ اس سے آدمی کے اندر مسائل حل کرنے کی قوت اور مصائب کے برداشت کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے اور آدمی بے شمار نفسیاتی امراض سے بچ جاتا ہے۔      

عمامے کے دنیوی فوائد احادیث کی روشنی میں

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَحادیث و روایات میں جہاں عمامہ شریف کے فضائل بیان کیے گئے ہیں وہیں بعض روایات ایسی بھی ہیں کہ جن سے عمامہ شریف کے دنیوی فوائد کا بھی پتہ چلتاہے ذیل میں ایسی ہی چند روایات ذکر کی گئی ہیں چنانچہ

عمامہ سے پنڈلی باندھ لی

       ضرورت کے وقت عمامے سے دیگر اَہم ضروریاتِ زندگی بھی پوری کی جاسکتی ہیں جیسا کہ بخاری شریف میں حضرت سیّدنا بَراء بن عازِب رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ سے ایک طویل حدیث مروی ہے کہ جس میں ابورافع یہودی (جو کہ نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاسخت دشمن تھا۔  یہ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اذیت پہنچاتا اور مسلمانوں کے دشمنوں کی مدد کرتا تھا) کے قتل کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جسے حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عَتِیک انصاری رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ نے واصلِ جہنم کر دیا تھا۔  آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ واپسی پر سیڑھیوں سے اُترتے ہوئے گر پڑے جس سے آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ کی پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔  پس آپ نے اپنے عمامہ سے پنڈلی کو باندھ لیا۔  (بخاری ، کتاب المغازی، باب قتل ابی رافع عبد  اللّٰہ  بن أبی الحقیق، ۳/ ۳۱، حدیث : ۴۰۳۹، مختصراً) اس حدیث سے واضح ہوا کہ صحابۂ کرام عَلَیہِمُ الرِّضوَان عموماً  اپنے سروں پر عمامہ شریف باندھتے تھے۔  

عمامہ شریف بطور پٹی

       اگر کبھی زخم وغیرہ لگ جائے تو پٹی نہ ہونے کی صورت میں عمامہ شریف بھی کام میں لایا جا سکتا ہے جیسا کہ حضرت سیّدنا جُوَیْرِیَہ بِنْ قُدَامَہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدنا عمرِفاروق رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ کو جب زخمی کر دیا گیا تو ہم آپ کے پاس حاضر ہوئے (تو اس وقت آپ کی حالت یہ تھی کہ ) وَقَدْ عَصَبَ بَطْنَہُ بِعِمَامَۃٍ سَوْدَائَ وَالدَّمُ یَسِیلُ اور آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ نے سیاہ عمامہ اپنے پیٹ کے گرد زخم پر لپیٹ رکھا تھا اور خون بہہ رہا تھا ۔(مسند احمد، مسند عمر بن الخطاب، ۱/ ۱۱۴، حدیث : ۳۶۲)

٭حضرت سیّدنا ابو حذیفہ اسحاق بن بشر رَضِی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدنا اَبان بن سعید بن عاص رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ کو ایک زہر آلود تیر لگ گیا۔  تیر نکال کر آپ نے زخم پر اپناعمامہ شریف باندھ لیا۔  ( تاریخ ابن عساکر، ۶/ ۱۳۸، واللفظ لہ، فتوح الشام، ۱/ ۶۵)

خط عمامے میں

       حضرت سیّدنا خالد بن ولید رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ نے حضرت سیّدنا عامر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ کو ایک خط دے کر حضرت سیّدنا ابوعُبَیدہ بن جراح رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ تک پہنچانے کا حکم دیا ۔  راستے میں حضرت سیّدنا عامر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ کو دھوکے سے ایک چرواہے نے قید کر لیا۔  حضرت سیّدنا خالد بن ولید رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ نے وہاں پہنچ کر حضرت سیّدنا عامر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ کو آزاد کروایااور پوچھا کہ میں



Total Pages: 101

Go To