Book Name:Imamay kay Fazail

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ العِزَّت کو اپنے مشائخِ کرام قُدِّسَت اَسرَارُھُم کے ساتھ جو شَغَف تھا، بیان سے باہر ہے۔  اسی لیے جب ذرا بھی موقع ملتا مشائخِ کرام کا تذکرہ فرمادیتے تھے۔  ۱۳۱۵ھ میں اردو میں دو قصیدے تحریر فرمائے۔  ایک تَاجُ الفُحُول، مُحِبُّ الرَّسُول حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب بدایونی قُدِّسَ سِرُّہُ العَزِیز کی مدح وصفت میں ۔  جس کا نام تاریخی، چراغ انس، (۱۳۱۵ھ) رکھا۔  اس کا مطلع یہ ہے۔  

اے امام الہدیٰ محب رسول     دین کے مقتدیٰ محب رسول

        دوسرا قصیدہ حضرت سیّدنا سید شاہ ابوالحسین احمد نوری میاں صاحب قُدِّسَ سِرُّہُ  کی مدح و ثناء میں اس کا تاریخی نام، مشرقستان قدس (۱۳۱۵ھ) رکھا۔   

  اس کا مطلع یہ ہے

ماہ سیما ہے احمد نوری      مہر جلوہ ہے احمد نوری

اور مقطع یہ ہے

کیوں رضا تم ملول ہوتے ہو     ہاں تمہارا ہے احمد نوری

اس قصیدہ کو اِستماع فرما کر (یعنی سُن کر) حضرت ممدوح (حضرت نوری میاں قُدِّسَ سِرُّہ) نے اعلیٰ حضرت قُدِّسَت اَسرَارُھُمَا کو ایک نہایت ہی نفیس معطر و معنبر عمامہ عطا فرمایا اور اپنے دستِ اقدس سے اعلیٰ حضرت کے سر پر باندھا۔  (حیاتِ اعلیٰ حضرت، ۳/ ۵۶)

اعلٰی حضرت نے دستار بندی فرمائی

           اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت عَلَیہِ رَحْمَۃُ رَبِّ اْلعِزَّت کی بارگاہ میں ایک بار کسی نے مفتی محمد بُرھان الحق جَبَل پوری  رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کے لکھے ہوئے نعتیہ کلام کے چند اشعار پڑھے تواعلیٰ حضرت عَلَیہِ رَحْمَۃُ رَبِّ اْلعِزَّت نے فرمایا کہ یہ اشعار بُرھان میاں نے لکھے ہیں ؟ ماشآء  اللّٰہ  ، بَارَکَ  اللّٰہ  ۔  پھر فرمایا ، میں غور کر رہا تھا کہ جامی (قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامی) کے طرز پر کس نے طبع آزمائی کی ہے ؟ کہاں ہیں برھان میاں ؟ بُرھانِ ملت دار الافتاء میں بیٹھے تھے حکم سن کر حاضرِ بارگاہ ہوئے ، سامنے دیکھ کر سرکار ِ اعلیٰ حضرت عَلَیہِ رَحْمَۃُ رَبِّ اْلعِزَّت نے ارشاد فرمایا ’’حضرت سیّدنا حسّان بن ثابت اَنصاری  رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے حضورِ اکرم صَلَّی  اللّٰہ   تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے نعت شریف پیش کرنے کی اجازت چاہی ، حضور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے منبر پر کھڑے ہو کر سنانے کی اجازت دی ، نعت شریف کو بہت پسند فرمایا ، جسمِ اقدس پر شامی چادر تھی اتار کر حضرت سیّدنا حسّان  رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ کے جسم پر اُڑھادی ۔  فقیر کیا حاضر کرے ؟‘‘ اتنا فرما کر اپنا عمامہ شریف اتار کر حضرت برھانِ ملّت کے جھکے ہوئے سر کو سرفراز فرما کر دعائے درازئی عمر و ترقیٔ علم و عمل وثبات و استقامت فرمائی ۔  سرکار اعلیٰ حضرت عَلَیہِ رَحْمَۃُ رَبِّ اْلعِزَّت کا عطا کردہ عمامہ شریف آج بھی تبرکات میں محفوظ ہے اور عید میلاد النبی صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم و جلوس غوثیہ قادریہ میں تقریر کے دوران صاحبِ سجادہ دَامَ ظِلُّہ اسے زیبِ سر کرتے ہیں ۔ (برھانِ ملت کی حیات و خدمات ، ص، ۱۱۴)

شیر بیشۂ سنّت کو عمامہ عطا فرمایا

        مناظرِ اعظم ہند، شیر بیشۂ سنّت حضرت علامہ مولانا ابوالفتح حشمت علی خان عَلَیہ رَحمَۃُ اللّٰہ  الرَّحمٰن نے ہلدوانی کے مناظرہ سے واپسی پر اپنے شیخِ کامل امام احمد رضا فاضل بریلوی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی کی بارگاہ میں حاضری دی اور پوری تفصیل سے مناظرہ کی کیفیت سنائی تو امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی  اپنے شیر کے اس جرأت اور فتح مندانہ قدم کو دیکھ کر بہت مسرور ہوئے، اور خوشی کا اظہار فرمایا، نیز اپنا عمامہ مبارک حضرت شیر بیشۂ سنّت کے سر پر رکھ دیا اپنا جبّہ شریف عطا فرمایا اور پانچ روپے نقد عطا فرمائے نیز غیظ المنافقین اور ابوالفتح کے بے نظیرلامثال خطابات عطا فرمائے۔  

(مفتی اعظم اور ان کے خلفاء ، ص ۳۳۳ ، سوانح شیر بیشۂ سنّت، ص۴۳ ملخصاً)

اعلٰی حضرت نے اپنا عمامہ عطا فرما دیا

        حضرت علامہ شاہ محمد حبیب  اللّٰہ  قادری میرٹھی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی  کو امامِ اہلسنّت اعلیٰ حضرت عَلَیہ رَحمَۃُرَبِّ العِزَّت نے نہ صرف خلافت سے نوازا بلکہ اپنا عمامہ شریف بھی عطا فرمایا وہ بھی اس شان سے کہ عیدالاضحی کے دن علمائے کرام کے جمِ غفیر میں اعلیٰ حضرت عَلَیہ رَحمَۃُرَبِّ العِزَّت نے آپ کو قریب بلا کر فرمایا :  ’’مولانا ! دل چاہتا ہے کہ فقیر اپنے سر کا مُستَعمَل (استعمال شدہ) عمامہ آپ کو دے ، اور یہ فرما کر اپنا عمامہ شریف ان کے سر پر باندھ دیا اور اجازت و خلافت عطا فرمائی۔(فیضانِ اعلیٰ حضرت، ص ۶۷۲)

مفتیٔ اعظم ہند کے لئے عمامہ

       مفتیٔ اعظم ہند (حضرتِ علّامہ مصطفی رضا خان عَلیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن) کی ولادت پر سَیِّدُا لمَشائِخ حضرت سیدشاہ ابوالحسین احمد نوری قُدِّسَ سِرُّہُ نے امام احمد رضا قُدِّسَ سِرُّہُ کو مبارک باد دی اور جب عمر مبارک چھ ماہ ہوئی تو ان کے متعلق ارشاد فرمایا :  ’’یہ بچہ مادر زاد ولی ہے ، یہ بچہ طویل عمر پائے گا اور دینِ اسلام کی خوب خدمت کرے گا، مخلوق کو اس کی ذات سے بہت فیض پہنچے گا۔ ‘‘ پھر سَیِّدُالمَشائِخ حضرت سید شاہ ابوالحسین احمد نوری قُدِّسَ سِرُّہُ  نے امام احمد رضا خان عَلیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکے نورِ نظر لختِ جگر اور مستقبل کے ’’مفتی ٔاعظم ہند‘‘کو داخلِ سلسلہ فرما لیا۔  حضرت سیّدالمشائخ نے تمام سلاسل اور مشاغل کی اجازت و خلافت عطا فرمائی اور اپنا خرقہ، عمامہ عطا فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا :  ’’ اب تک مجھ کو مشائخِ کرام سے جو کچھ ملا وہ سب اس بچے کو دیتا ہوں ۔ ‘‘(تجلیات امام احمد رضا، ص۴۱ملخصاً)

 سیّدنا قُطبِ مدینہ نے عمامہ عطا فرمایا

        قُطبِ مدینہ حضرت مولانا ضیاء الدین احمد مدنی رضوی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نے ۱۳۹۵ ھ میں حسّانُ الہند قاری محمد امانت رسول رضوی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی کو اجازت عطا فرمائی، اس کے ساتھ بہت سے انعام و اکرام اور عمامہ، کلاہ عربی، جبہ اور رومال بھی عنایت فرمایا۔   (مفتی اعظم اور ان کے خلفاء ، ص ۲۰۹)

 احسن العلماء نے دستار بندی فرمائی

 



Total Pages: 101

Go To