Book Name:Imamay kay Fazail

(1)مدینے کے تاجدار، صاحبِ عمامۂ خوشبودار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے جب حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم کو یمن کی جانب روانہ فرمایا تو انہیں جھنڈا عطا فرمایا اور اپنے مبارک ہاتھوں سے ان کے سر پر عمامہ شریف باندھا۔  (طبقات ابن سعد، سریۃ علی بن ابی طالب الی الیمن الخ ، ۲/ ۱۲۸)

       حضرت علامہ محمد بن یوسف شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی یہی روایت قدرے تفصیل سے بیان فرماتے ہیں چنانچہ لکھتے ہیں :  نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم کے لئے جھنڈا تیار فرمایا ، آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کا عمامہ لیا اسے تہہ کیا اور اسے نیزے کے سرے پر رکھ دیا اور سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم  کو عطا فرما دیا پھر اپنے مبارک ہاتھوں سے انہیں عمامہ شریف باندھا جس کے تین پیچ تھے  ۔  آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے دو شملے ایک ہاتھ کی مقدار حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم کے سامنے کی جانب اور ایک بالشت کی مقدار شملہ ان کی پشت پر لٹکا دیا۔  (سبل الہدی والرشاد، جماع ابواب سرایاہ وبعوثہ الخ، الباب الثانی و السبعون فی سریۃ علی الخ، ۶/ ۲۳۸ ملخصاً)

 (2)حضرت علامہ محمد بن سعد عَلَیہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الاَحَد نقل فرماتے ہیں کہ غزوۂ خندق کے موقع پر جب عمرو بن عبدِوُد نے صحابۂ کرام عَلَیہمُ الرِّضوَان کو مقابلے کے لئے پکارا تو حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم آگے بڑھے اور عرض کی یارسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم میں اس سے مقابلہ کروں گا۔  تو رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے انہیں اپنی تلوار عطا فرمائی اور اپنے مبارک ہاتھوں سے ان کے سر پر عمامہ شریف باندھ کر دُعا کی یا اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ علی کی مدد فرما۔  چنانچہ حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم نے اسے پلک جھپکتے ہی واصلِ جہنم کر دیا۔

 (طبقات ابن سعد، غزوۃ رسول  اللّٰہ  الخندق الخ ، ۲/ ۵۲)

 (3)امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم سے روایت ہے کہ نبیٔ کریم  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہٖ و َسَلَّمَ نے اپنے دستِ رحمت سے ان کے سر پر عمامہ باندھا تو شملہ پیچھے اور آگے رکھا ۔  پھر فرمایا :  چہرہ دوسری جانب کرو، انھوں نے ایسا ہی کیا، پھر رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے فرمایا :  چہرہ ہماری جانب کرو ، تو انھوں نے ایساہی کیا پھر آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہٖ و َسَلَّم نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا :  ’’فرشتوں کے تاج ایسے ہی ہوتے ہیں ۔  ‘‘(کنز العمال، کتاب المعیشۃ والعادات، آداب التعمم، الجز :  ۱۵، ۸/ ۲۰۵، حدیث :  ۴۱۹۰۶)

 (4)حضرت سیّدنا علی المرتضی کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم سے روایت ہے :  رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے غَدِیر خُم ([1])کے دن میرے سر پر عمامہ باندھا اور اس کا شملہ میری پشت پر لٹکا دیا۔

  (سنن الکبری للبیہقی ، کتاب السبق والرمی، باب التحریض علی الرمی، ۱۰/ ۲۴، حدیث : ۱۹۷۳۶ مختصراً)

حضورنے حضرت معاذ بن جبل کو عمامہ باندہا

         حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  ابنِ عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب حضرت سیّدنا معاذ بن جبل رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ کو یمن بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو ایک روز صبح کی نماز کے بعد آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا :  اے گروہ ِمہاجرین و انصار! تم میں کون ہے جو (دینِ اسلام کی دعوت کو عام کرنے کے لئے) ہمارا نمائندہ بن کر یمن جائے ؟ تو حضرت سیدنا صدّیقِ اکبر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے کھڑے ہو کر اپنے آپ کو پیش کر دیا مگر سرکارِ مدینہ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سکوت اختیار فرمایا اور دوبارہ یہی ارشاد فرمایا :  اے گروہ ِمہاجرین وانصار! تم میں کون ہے جو (دینِ اسلام کی دعوت کو عام کرنے کے لئے) ہمارا نمائندہ بن کر یمن جائے ؟ تو حضرتِ سیّدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کھڑے ہو گئے اور عرض کیـ :  یارسول  اللّٰہ  میں حاضر ہوں ۔  مگر حضور عَلَیْہ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے بدستور سُکوت فرمایا اور پھر وہی ارشاد فرمایا : اے گروہ ِمہاجرین وانصار تم میں کون ہے جو (دینِ اسلام کی دعوت کو عام کرنے کے لئے) ہمارا نمائندہ بن کر یمن جائے؟ اب حضرتِ سیّدنا معاذ بن جبل  رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کھڑے ہوئے اورعرض کی :  یارسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں (حاضر ہوں )! نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  ہاں اے معاذ! تم ہی اس کام کے لئے ہو، پھر سرکارِ نامدار ، مکے مدینے کے تاجدار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’اے بلال ان کے لئے میرا عمامہ لاؤ‘‘۔  حضرت سیّدنا بلال رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی بارگاہ میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کاعمامہ پیش کردیاپھر آپصَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے حضرت معاذ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے سر پر عمامہ شریف باندھا اور پھر آپ  رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو رخصت کرنے کے لئے مدینہ شریف سے باہر تشریف لائے اور دُعاؤں سے نوازتے ہوئے الوَداع فرمایا۔ (تاریخ الخمیس فی احوال انفس النفیس، ذکر معاذبن جبل، ۲/ ۱۴۲، واللفظ لہ، کتاب الثقات ، السیرۃ النبویۃ، السنۃ التاسعۃ من الہجرۃ، ۱/ ۱۴۷)

سرکار نے حضرت عبدالرحمٰن کو سفید عمامہ سجا دیا

        حضرت  سیّدنا عطاء بِن ابی رَباح رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ روایت فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما کے پاس تھا کہ ایک نوجوان حاضر ہوا اور آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے عمامے کا شملہ لٹکانے کے متعلق سوال کیا تو حضرت سیّدنا عبد  اللّٰہ  ابن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا :  میں تمہیں ابھی بتاتا ہوں ان شآء  اللّٰہ ۔  پھر فرمایا :  میں رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم کی مسجد میں بیٹھنے والے ان دس افراد میں سے ایک ہوں جن میں حضرت سیّدناابو بکر، حضرت سیّدنا عمر ، حضرت سیّدنا عثمان، حضرت سیّدنا علی ، حضرت سیّدنا ابن مسعود ، حضرت سیّدناحذیفہ ، حضرت سیّدناابن عوف ، حضرت سیّدنا ابو سعیدخدری رِضوَانُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلیہِم اَجمَعِین بھی تھے کہ ایک انصاری نوجوان آیا اور رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم کو سلام کر کے بیٹھ گیا اور عرض کی یارسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم کون سا مومن سب سے افضل ہے؟ ارشاد فرمایا :  جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو۔  اس نے پھر عرض کی کون سا مومن سب سے زیادہ عقلمند ہے؟ ارشاد فرمایا :  جو موت کو کثرت سے یاد کرتا اور اس کے آنے سے پہلے ہی خوب تیاری کرتا ہے، وہی عقلمند ہیں ۔  پھر وہ نوجوان خاموش ہو گیا۔  نبی ٔکریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے اس کی طرف توجہ فرمائی اور فرمایا اے مہاجرین جب تم پانچ باتوں میں مبتلا کر دیے جاؤ اور میں  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ سے پناہ مانگتا ہوں کہ تم ان باتوں کو پاؤ۔  (1) یہ کہ جب کسی قوم میں بے حیائی ایسی عام ہو جائے کہ اعلانیہ ہونے لگے تو ان میں طاعون اور وہ بیماریاں عام ہو جاتی ہیں جو پہلے کبھی ظاہر نہ ہوئیں تھیں ۔  (2) جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جاتے ہیں تو ان پر قحط مُسَلَّط کر دیا جاتا ہے، ان پر مصیبتیں نازل



1      خُم ایک ایسی جگہ کا نام ہے جہاں بکثرت گھنے درخت پائے جاتے ہیں،اور یہ مقامِ جُحْفَہ (مکہ مکرّمہ اور مدینہ منوّرہ کے درمیان ایک جگہ کا نام) سے تین میل کے فاصلے پر ہے۔اسی وادیٔ جُحْفَہ کے پاس مشہور غدیر (تالاب)بھی ہے جسے اسی خُمّ کی طرف منسوب کیاجاتاہے۔(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح،باب مناقب علی بن ابی طالب،الفصل الثالث،۱۰/۴۷۵، تحت الحدیث:۶۱۰۳)اسی مقام پر نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیّدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم  کے لئے  مَن کُنتُ مَولاَہُ فَعَلِیٌّ مَولَاہُ یعنی جس کا میں مولا ہوں اس کے علی(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) بھی مولا ہیں(ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب علی بن ابی طالب، ۵/۳۹۸، حدیث:۳۷۳۳) کے منصبِ عالی کا اعلان فرمایا تھا۔)



Total Pages: 101

Go To