Book Name:Imamay kay Fazail

مجلس میں عمامہ باندھ کر شریک ہوئے۔  (مفتیٔ اعظم اور ان کے خلفاء، ص۴۴ بتصرف)

       حضور مفتیٔ اعظم ہند رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کی عمامہ شریف سے محبت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے جن جن علمائے و مفتیانِ کرام کو خلافت عطا فرمائی ان میں سے اکثر کو خود اپنے ہاتھوں سے عمامہ شریف باندھا ، بہتوں کو جبہ و دستار اور ٹوپی بھی عطا کی۔  (تذکرہ مشائخ قادریہ رضویہ ، ص ۵۰۹)

مفتیٔ اعظم ہند کا عمامہ اور امیرِ اہلسنّت

        شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ اپنے مشہور رسالے ’’بریلی سے مدینہ ‘‘میں فرماتے ہیں : یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں باب المدینہ کراچی کے علاقہ کھارادر میں واقع حضرت سیّدنا محمد شاہ دولھا بخاری سبزواری علَیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  البَارِی کے مزار شریف سے مُلحِقہ حیدری مسجد میں تاجدارِ اہلسنّت، شہزادہ اعلیٰ حضرت، حضور مفتیٔ اعظم ہند حضرت مولیٰنا مصطفٰی رضا خان عَلیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کا متبرک عمامہ شریف سر پر سجا کر نمازِ فجر پڑھایا کرتا تھا۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ایک ولیٔ کامل کا عمامہ شریف بارہا میرے ہاتھوں اور سر سے مس ہوا ہے۔ اِنْ شَآءَاللہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ میرے ہاتھوں اور سر کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔  دراصل بات یہ ہے کہ مُتَذَکِّرہ بالا حیدری مسجد میں اعلیٰ حضرت، عظیم البرکت، امام اہلسنّت، مجدد دین و ملت، عالم شریعت، واقفِ اَسرارِ حقیقت، پیر طریقت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے خلیفہ مجاز مَدَّاحُ الحبیب ، صاحبِ قبالۂ بخشش حضرت مولانا جمیل الرحمن قادری رضویعَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی کے فرزند ارجمند حضرت علامہ مولانا حمید الرحمٰن قادری رضوی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی امامت فرماتے تھے۔ چونکہ مسجد سے آپ کا دولت خانہ تقریباً چھ سات کلو میٹر دور تھا۔  لہٰذا فجر کی امامت کی مجھے سعادت ملتی تھی۔  اور ان کا حضور مفتی اعظم ہند رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ والا عمامہ شریف مجھے نصیب ہو جاتا، جس سے میں برکتیں حاصل کیا کرتا۔  (بریلی سے مدینہ ، ص ۱)

خلیفۂ اعلٰی حضرت کا عمامہ

        خلیفۂ اعلیٰ حضرت حضرت علامہ مفتی شاہ محمود جان قادری جودھپوری  عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی پیلے رنگ کے پھولوں والا عمامہ شریف زیبِ سر فرمایا کرتے تھے۔  بعض بزرگوں نے شہزادۂ اعلیٰ حضرت ، حُجَّۃُ الاِسلَام حضرت علامہ مولانا مفتی حامد رضا خان عَلیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی ایسے ہی عمامہ شریف میں زیارت کی ہے۔  

مفتیٔ اعظم سندھ کا عمامہ

       مفتیٔ اعظم سندھ، حضرت علامہ مفتی محمد عبد اللّٰہ  نعیمی  عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی سر پر ٹوپی اور اس کے اوپر عمامہ عُجلت کے ساتھ نہایت عمدہ طریقے سے باندھتے ، یہ عمامہ ہر وقت آپ کے سر مبارک پر رہتا ، اس کے اوپر سادہ ململ کی چادر ہوتی تھی۔  اپنے شاگردوں سے بھی عمامے کی پابندی کرواتے۔  (مفتیٔ اعظم سندھ مفتی محمد عبد اللّٰہ  نعیمی شہید حیات و خدمات، ص ۶۲)

سرکار نے عمامے تقسیم کروائے

        حضرت سیّدنا ابوبکر بن محمد رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : نبی ٔ اکرم، نُورِ مُجَسَّمصَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بنی حارث بن خزرج کے ایک آدمی کی طرف کچھ عمامے شریف بھیجے تاکہ وہ انہیں لوگوں میں تقسیم کردے۔  اس شخص نے ان عماموں میں سے ایک ریشم ملا اُونی کپڑے کا عمامہ اپنے سر پر بھی باندھ لیا۔  اس نے سارے عمامے تقسیم کر دئیے مگر اپنے سر پر باندھے ہوئے عمامے کو دینا بھول گیا۔  جب اُسے یاد آیا تو وہ فکر مند ہوا اور وہی عمامہ شریف لئے بارگاہِ مصطفی صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں حاضر ہوا اور کہنے لگا :  مجھے یہ خوف لاحق تھا کہ اگر میں نے یہ عمامہ اپنے پاس ہی رکھ لیا تو ضرور مجھے اس کی مثل (بروزِ قیامت) آگ کا عمامہ پہنایا جائے گا۔  (کتاب السیر لابی اسحاق الفرازی ، باب الغلول، ص ۲۳۷، حدیث : ۳۹۴)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمارے اسلاف عمامہ شریف کی پیاری پیاری سنّت سے کس قدر محبت فرمایا کرتے تھے اوران کے دلوں میں اسے عام کرنے کا کیسا ایمانی جذبہ ہو ا کرتا تھااس کا اندازہ اس واقعے سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے چنانچہ

سیّدنا امام رفاعی کی سخاوت

        حضرت شیخ عبدا لصمد حَربونی جو کہ َرواق (شہر) میں اوقافِ احمدی کے ذمہ دار تھے وہ فرماتے ہیں کہ ۵۶۷ھ میں حضرت (سیّدنا) امام احمد رفاعی (عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی) کے کھیت اور آپ کے رواق میں موجود اوقاف سے سات لاکھ دیوانی چاندی کے درہم اور بیس ہزار سونے کے ٹکڑے حاصل ہوئے اور اسی سال آپ کے لئے مختلف شہروں سے اَسّی ہزار چادریں ، پچاس ہزار تمشکۃ (رومال وغیرہ) بیس ہزار عجمی اونی کمبل، بتیس ہزار کاٹن کے عمامے اور گیارہ ہزار سونے کے دوافقی ٹکڑے آئے اور سات لاکھ ہندی چادریں آئیں اور اسی دن آپ نے رواق کی نہر کے کنارے اپنے کپڑوں کو دھویا اور اپنی ستر پوشی اپنے رومال سے فرمائی اور رواق میں آپ کی الماری میں ایک بھی درہم نہ تھا جو کچھ آپ کو حاصل ہوا تھا وہ سب آپ نے کمزوروں پر صدقہ کر دیا، یا مستحقین، سائلین اور فقراء و مساکین کو دیدیا۔  (سیرت سلطان الاولیاء ، ص۶۹ بتصرف)

        اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اسلاف کی سیرت کے مظہر ہیں ، آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بھی عمامہ شریف سے نہ صرف محبت فرماتے ہیں بلکہ اس سنّت کو عام کرنے میں کس قدر کوششیں فرماتے ہیں اس کا اندازہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے اس فرمان سے لگایا جا سکتا ہے چنانچہ فرماتے ہیں :  ’’میں نے اپنے سینکڑوں استعمالی عمامے لوگوں میں تقسیم کئے ہیں تاکہ وہ عمامے باندھیں ۔  ‘‘

صحابہ کرام کی دستار بندی کے واقعات

دوسرے کے سر پر عمامہ باندھنا

       حُضورپُرنور ، شَافِعِ یَومُ النُّشُور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم جب کبھی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو کسی مہم پر روانہ فرماتے، یا میدانِ جنگ میں عَلَمِ اسلام  بلندکرنے کا موقع ہوتا تو آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم اپنے مبارک ہاتھوں سے ان کے سروں پر عمامہ شریف باندھ دیتے ، جو نہ صرف برکت کا موجب ہوتا بلکہ فتح و کامیابی کا باعث بھی بنتا چنانچہ

مولا علی کے سر پر عمامہ باندھا

 



Total Pages: 101

Go To