Book Name:Imamay kay Fazail

العلماء ، ص ۶۱) بعض بزرگوں نے آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کو ہلکے موتیا رنگ کا عمامہ شریف باندھے بھی دیکھا ہے۔  

میاں شیر محمدشرقپوری رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کاعمامہ

        شیرِربّانی حضرت سیّدنا میاں شیر محمد شرقپوری عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الغَنِی (المتوفّٰی ۱۳۴۷ھ) سادہ اور معمولی لباس پہنتے تھے، سر پر پگڑی وٹوپی، بدن پر معمولی کپڑے کاکُرتہ ، پاؤں میں معمولی جوتا، آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کے معمولات میں سے تھا۔  آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ موٹا کپڑا پہنا کرتے، زیادہ باریک کپڑے کو نا پسند فرماتے۔  اکثر دیسی کھڈی کا کپڑا بنوا لیا کرتے، زرد (یعنی پیلے) رنگ کی قصوری جوتی استعمال فرماتے۔  آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ سیاہ رنگ کے جوتے ناپسند فرما تے بلکہ اگر کسی کے پاؤں میں سیاہ بوٹ یا جوتی دیکھتے تو سخت ناراض ہوتے اور سیاہ کپڑا پہننا بھی ناپسند فرماتے اور پگڑی کے ساتھ ٹوپی ضرور پہنتے تھے اور فرماتے کہ حضور نبیٔ کریم  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام رَضِیَ  اللّٰہ  عَنہُم کو ٹوپی پر عمامہ باندھنے کا ارشاد فرمایا ہے۔  آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ ہمیشہ سفید رنگ کا لباس زیب ِتن فرماتے۔  عمامہ شریف عموماً کپڑے کی ٹوپی پر اور کبھی کبھار ناڑ کی ٹوپی پر باندھتے۔  سفید کرتے کے ساتھ سفید تہبند ناف کے اوپر باندھتے جو ہمیشہ ٹخنوں سے اوپر ہوتا۔  کبھی کبھی نیم بادامی رنگ کی صَدری یا اچکن کی طرح کا لمبا کوٹ بھی کُرتے کے اوپر پہن لیا کرتے۔  آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاؤں میں زرد (پیلے)رنگ کی جوتی ہوتی اور سردیوں میں عمومًا چمڑے کے موزے استعمال فرماتے۔  آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کے ارشاد کے مطابق زرد رنگ کی جوتی پہننا مستحب ہے۔  آخری دم تک عمامہ شریف کی پابندی فرماتے رہے ،  نشَسْت و برخاست میں کبھی تبدیلی نہ ہوئی، خلوت و جلوت میں ہمیشہ دو زانو ہی بیٹھا کرتے۔  (الرحیق العرفان، ص۳۷۰ ملخصاً)

حضرت مُفَسِّرِ اعظم ہند کا عمامہ

       شَہزادۂ حُجَّۃُ الِاسلَام ، مُفَسِّرِ اعظم ہند، حضرت علامہ مولانا ابراہیم رضا خان عَلیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سفید یا بادامی رنگ کا عمامہ شریف باندھا کرتے تھے۔  (مفتیٔ اعظم اور ان کے خلفاء ، ص ۱۲۰)

حضرت حافظِ ملّت کا عمامہ

        اَلجَامِعَۃُ الاشرَفِیَہ کے بانی، حافظِ ملت حضرتِ علّامہ شاہ عبد العزیز محدّثِ مراد آبادی علَیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الھَادِی کے عمامہ شریف کا ذکر کرتے ہوئے علّامہ بدر القادری  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں کہ آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ عمامہ اکثر بادامی یا کتھیٔ ملا گیری(صندلی ) رنگ کا ، معمولی ، پانچ گزی بائیں جا نب پیچ خوب واضح (جبکہ) شملہ کمر سے اوپر تک (ہوتا)۔  (حیات حافظ ملت ، ص ۵۱ )

حضرت فقیہ زماں کا عمامہ

        خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، فَقِیہِ زَمَاں حضرت علامہ مفتی غلام جان ہزاروی عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی نماز ہمیشہ عمامہ (شریف) باندھ کر ادا فرماتے ، نماز کے علاوہ بھی سر پر عمامہ (شریف) سجائے رکھتے۔  گھر میں ٹوپی سر پر رکھتے۔  (حیاتِ فقیہ زماں ، ص ۹۲)     

حضرت محدثِ اعظم پاکستان کا عمامہ

        خلیفۂ شہزادگانِ اعلیٰ حضرت ، محدّثِ اعظم پاکستان حضرت ِعلّامہ مولانا محمد سردار احمد چشتی قادری  عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی کے مبارک عمامہ کاذکر کرتے ہوئے حضرتِ علّامہ مولانا محمد جلال الدّین قادری  رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ لکھتے ہیں :  آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ تدریسِ حدیث ، اوقات ِنماز میں عموماً اور جمعہ کے دن بالالتزام پگڑی (یعنی عمامہ شریف ) باندھتے ، جو بعض اوقات سفید ، کبھی زرد اور عموماً نسواری ہوتی۔  عمامہ کی لمبائی بالعموم سات گز ہوتی ۔ گھر پر اور مدرسہ و مسجد میں سردیوں میں عام طور پر یوپی کی کشیدہ کاری والی ٹوپی ہوتی۔  خاص تقاریب ، خطبۂ جمعہ وعیدین کے لئے عمامہ پر سفید ململ کا لمبا چادر نما پٹکا بھی اوڑھا کرتے جو چہرہ مبارک کے ماسوا سر اور گردن پر لپیٹا ہوتا۔  

        حضرت علامہ مولانا محمد جلال الدّین قادری  رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ میں آج تک آپ کے اس چادر نما کو سر اور گردن پر اوڑھنے کو آپ کی ایک خاص ادا سمجھتا رہا ان دنوں حسنِ اتفاق سے ایک حدیثِ پاک نظر نواز ہوئی ’’اَ لْاِرْتِدَاءُ لُبْسَۃُ الْعَرَبِ وَالْاِلْتِفَاعُ لُبْسَۃُالْاِیْمَانِ‘‘ (رواہ طبرانی عن ابن عمربحوالہ جامع صغیر للسیوطی ، مطبوعہ مصر جلد ۱، ص۲۱۰) ترجمہ و تفھیم : چادر اوڑھنا عربوں کا لباس ہے اور سر اور اکثر چہرے کو (چادر سے )ڈھانکنا ایمان والوں کا لباس ہے ۔ مزید فرماتے ہیں :  حدیث پاک کے مطالعہ کے بعد یہ واضح ہوا کہ مذکورہ انداز میں آپ کا چادر نما پٹکا کا اوڑھنا نہ صرف آپ کی ادا تھی بلکہ حدیث ِپاک پر عمل بھی تھا ۔ سُبحٰنَ اللہ! کیسی پاکیزہ سیرت تھی، جو پہناوے کے ادنیٰ سے حصہ میں بھی سنّتِ مصطفی صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمَ کو ملحوظ رکھتے تھے۔  

(تذکرۂ محدثِ اعظم پاکستان ، ۲/ ۳۴۱)

 مفتیٔ اعظم ہند کا عمامہ

          شہزادۂ اعلیٰ حضرت ، تاجدارِ اہلسنّت ، حُضُور مفتیٔ اعظم ہند، حضرت علّامہ مولانا مصطَفٰے رضا خان عَلیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بڑے عرض کا زیادہ تر سفید ، بادامی عمامہ (شریف) باندھتے۔  

(جہانِ مفتی ٔاعظم ، ص۱۰۱)

          بَحرُالعُلُوم حضرت علامہ مفتی عبدالمنان اعظمی  عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں :  مفتیٔ اعظم ہند رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ سر پر قیمتی بھاگل پوری عمامہ باندھتے تھے۔  مزید فرماتے ہیں کہ آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ عمامہ باندھنے کے لیے کوئی خاص اہتمام نہیں فرماتے تھے بلکہ سادہ عمامہ باندھتے تھے مگر دیکھنے میں آپ کے سر مبارک پر عمامہ اتنا خوبصورت معلوم ہوتا کہ دیکھنے والے کہتے کہ عمامہ کی وضع (بناوٹ) انھیں کے فَرقِ اقدس (سَر مبارک) کے لیے ہوئی ہے۔  (جہانِ مفتیٔ اعظم ، ص ۲۴۳ ملخصاً)     

مفتیٔ اعظم ہند کی عمامہ شریف سے محبت

       حضرت مفتیٔ اعظم ہند رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک سال دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف کے سالانہ جلسہ دستارِ فضیلت کے موقع پر براؤں تشریف لائے ۔ تو ’’فیض الرسول ‘‘ کے اساتذہ نے حضرت مفتیٔ اعظم رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ سے درسِ حدیث لے کر اجازتِ حدیث لینے کا فیصلہ کیا۔  حضرت مفتیٔ اعظم ہند  رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی اجازت سے درسِ حدیث کی ایک نورانی مجلس بڑے تُزک و اِحتشام سے منعقد ہوئی ۔  درسِ حدیث کی اس مجلس کے شرکاء پر لازم قرار دیا گیا کہ وہ عمامہ شریف باندھ کر ہی شریک ہوں ، چنانچہ سارے اساتذۂ فیض الرسول درسِ حدیث کی اس



Total Pages: 101

Go To