Book Name:Imamay kay Fazail

حضرت شیخ احمد بدوی کا عمامہ

        حضرت سیّدنا شیخ احمد بدوی عَلَیہَ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی کو سنّتِ عمامہ سے اس قدر محبت تھی کہ اسے سر سے جدا نہ فرماتے حتی کہ نہاتے وقت بھی ۔ چنانچہ علامہ عبدالوہاب شعرانی عَلَیہَ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نقل فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدنا شیخ احمد بدوی عَلَیہَ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی جب کوئی کپڑا یا عمامہ پہنتے تو اسے غسل وغیرہ کے وقت بھی نہ اُتارتے تھے ۔ حتّٰی کہ جب وہ کمزور ہو جاتا تو اسے بدل دیا جاتا اور وہ عمامہ جسے خلیفہ ہر سال میلاد کے وقت پہنتا ہے وہ حضرت شیخ کا اپنا عمامہ ہے ۔   (الطبقات الکبری ، الجزء الاول، ص۲۵۶)

خواب میں صندلی عمامہ سجا دیا

        حضرت سیّدنا شاہ محمد کامل ولید پوری (مُتَوَفّٰی ۱۹۰۴) عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی  قُدوَۃُ العُرَفَاء، حضرت شاہ عبدالعلیم لوہاروی عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی کے مرید و خلیفہ اور حضرت علامہ عبدالحلیم فرنگی محلی عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی  کے نامور شاگردوں میں سے ہیں ۔  آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے ایک خواب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :  میں نے خواب دیکھا کہ میں ایک مسجد میں ہوں میرے پیرو مرشد حضرت شاہ عبدالعلیم لوہاروی عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی بہشتِ بریں سے مسجد میں تشریف لائے ، آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کے دائیں ہاتھ مبارک میں صندلی رنگ کا  عمامہ شریف اور دوسرے ہاتھ میں نیلگوں رومال تھا ۔  آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے میرے سر پر صندلی عمامہ شریف سجا دیا۔  (تاریخ مشائخ قادریہ، ۲/ ۳۱۳ بتصرف)

حضرت مجدّد الف ثانی کا عمامہ

        حضرت سیّدنا امامِ ربانی ، مجددِ الفِ ثانی ، شیخ احمد سرہندی نقشبندی  عَلَیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی کے متعلق منقول ہے کہ ایک بڑا عمامہ (شریف آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کے ) سرِ مبارک پر ہوتا ۔  مسواک دستار کی کور میں ، شملہ دونوں کندھوں کے بیچ تک (ہوتا)۔  (جہانِ امام ربانی ، ۱/ ۴۴۱)

اعلٰی حضرت کا بادامی عمامہ

        سیّدنا اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت شاہ احمد رضاخان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن  آخری عمر مبارک میں بھی نمازِ باجماعت کا کس قدر اِہتمام فرمایا کرتے تھے نیز خوفِ خدا کے کیسے پیکر تھے اس بات کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے چنانچہ

        علامہ یٰسین اختر مصباحی دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ فرماتے ہیں :  سید جعفر شاہ پھلواروی اور ان کے بھائی شاہ غلام حسنین صاحب اجمیر شریف سے واپسی پر بریلی رکے، پھر یہاں سے لکھنؤ جانے کا ارادہ کیا، آگے کی روداد انہی سے سنتے ہیں …!

        ہم دونوں یہاں سے لکھنؤ پہنچنے کے ارادے سے ریلوے اسٹیشن کے لیے روانہ ہوئے، بگھی ابھی راستے ہی میں تھی کہ ٹرین نے سیٹی دی اور چل پڑی (یوں ٹرین چھوٹ گئی) جمعہ کا دن تھا، دریافت سے معلوم ہوا کہ اب بریلی میں کسی جگہ جمعہ نہیں مل سکتا، صرف ایک جگہ مل سکتا ہے جہاں خاصی تاخیر سے جمعہ ہوتا ہے۔  ہم لوگ اطمینان سے وضو کر کے روانہ ہوئے اور اس مسجد میں پہنچ کر دوسری صف میں بیٹھ گئے، مسجد بڑی جلدی پُر ہو گئی، ذرا دیر کے بعددیکھا کہ ساری مسجد کے لوگ کھڑے ہوگئے اور فضا درود کی آواز سے گونج گئی، دیکھا کہ ایک کرسی پر ایک بزرگ جلوہ افروز ہیں اورچند آدمی کرسی کو اٹھائے چلے آ رہے ہیں ۔  اگلی صف میں وہ ضعیف اور بیمار آدمی آ کر بیٹھ گیا۔  اذان ہوئی خطبہ ہوا اور نماز کے لیے وہ بیمار کھڑا ہو ا تو اپنے ہاتھوں سے مضبوطی کے ساتھ اپنا عصا پکڑے ہوئے تھا، سجدہ ہوتا تو عصا زمین پر رکھ دیتا اورقیام کے وقت پھر عصا سنبھال لیتا۔  نماز ہوئی، سنتیں ہوئیں ، تودیکھا کہ ایک بڑا گاؤ تکیہ اُسی مسجد میں لاکر رکھ دیا گیا، جس سے ٹیک لگا کر وہ بیمار نیم دراز ہو گیا، میانہ قد، سر پر ہلکا بادامی عمامہ غالباً ٹسرکا… جسم پر عبا ، داڑھی لمبی گھنی اور سفید … رنگ گندمی… جسم دورا مگر اُس وقت دُبلا … آواز رعب دار لیکن اس وقت رِقت انگیز، اس کے بعد بیعت کا سلسلہ شروع ہوا اوربیعت کے بعد اُس ضعیف مریض نے اپنی نحیف مگر درد اثر بھری آواز میں چند وداعی کلمات کچھ اس طرح کہے :      

’’ میری طرف سے تمام اہلِ سنّت مسلمانوں کو سلام پہنچادو اور میں نے کسی کا کوئی قصور کیا ہو تو میں بڑی عاجزی سے اس کی معافی مانگتا ہوں ، مجھے خدا کے لیے معاف کردو یا مجھ سے کوئی بدلہ لے لو، وغیرہ وغیرہ۔  اس وقت حاضرین چاروں طرف سے اس ضعیف کو گھیرے ہوئے تھے اور سب کے سب متأثر ہو رہے تھے، کوئی سسکیاں بھررہا تھا اور کوئی خاموش رو رہا تھا، میں ذرا سخت دل واقع ہوا ہوں ، اس لیے میں نے کوئی اثر قبول نہ کیا، لیکن میرے بھائی جو بڑے رقیق القلب تھے ان وداع کلمات سے خاصے متأثر ہوئے جس کا اظہار انہوں نے واپسی میں کیا یہی پیرِ ضعیف تھے حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی۔  (امام احمد رضااور رد بدعات و منکرات ، ص ۱۹۹)

شاہ ابوالحسین احمدنوری میاں کا عمامہ

        خلیفۂ حضرت شاہ آلِ رسول، حضرت شاہ ابو الحسین المعروف نوری میاں رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ سر پر رنگین عمامہ مبارک باندھا کرتے تھے ۔  (تذکرہ خانوادہ حضرت ایشاں ، ص ۳۵۱)

حضرت صدرالشریعہ کا عمامہ

          شَارِحِ شَرح مَعَانِی الآثَار، صاحبِ بہارِ شریعت ، صدرالشریعہ ، بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِیکے مزاج میں حددرجہ لطافت تھی، صاف ستھرا عمدہ لباس زیبِ تن فرماتے ، اعلٰی کپڑوں کی شیروانی یا جبہ بنواتے ، قیمتی کامدار (زرئی کا کام کیا ہوا) عمامہ باندھتے ، زمانۂ دراز تک حضرت صدر الشریعہ کو انتہائی قیمتی لباس میں دیکھا گیا مگر اخیر عمر مبارک میں یک بیک رنگ بدل گیا اور کھدر پسند آگیا اسی کی بنیان ، اسی کا کرتہ ، اسی کا چوڑی مہری کا پاجامہ ، اسی کی گول ٹوپی ، اسی کا عمامہ باندھتے ۔  (سیرتِ صدرالشریعہ ، ص۱۰۶)

          حضرت علامہ مفتی محبوب رضا خاں بریلوی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں :  صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی کھدر ہی کا سفید یا ہرے رنگ کا جبہ زیبِ تن فرماتے اور رنگین عمامہ باندھتے تھے۔  (ماہنامہ اشرفیہ ، صدر الشریعہ نمبر ، ص ۲۶ ملتقطاً)

حضرت مَلِکُ العلماء کا عمامہ

        مُؤَلِّفِ صَحِیحُ البِہَارِی، خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، ملک العلماء ، حضرت علّامہ مولانا ظفرالدّین بہاری قادری رضوی  عَلیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی لمبی پگڑی (یعنی عمامہ شریف ) سر پر باندھتے تھے۔  (ملک



Total Pages: 101

Go To