Book Name:Imamay kay Fazail

سبز عمامہ خاص کر لینا بدعتِ مباحہ (جائز) ہے

        سیّدُ العُلَماء علامہ محمد بن احمد المعروف منلا قادری عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نے بھی یہی لکھا ہے کہ ساداتِ کرام کے لئے سبز عمامہ شریف بادشاہ اشرف شعبان بن حسین کے دور میں شروع کیا گیا ، بعض علما ء نے اسے بدعتِ مباحہ فرمایا ہے کہ سیّد و غیرِ سیّد کو اس سے منع نہ کیا جائے گا۔  آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ مزید فرماتے ہیں : ’’ میں تو کہتا ہوں کہ ساداتِ کرام کو سبز عمامہ باندھنا چاہئے تاکہ سیّد اور غیر ِسیّد میں امتیاز رہے کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ ہر سیّد کا نسب معروف و مشہور ہو ایسے میں خوف ہے کہ کہیں لوگ ان کی عزّت و تکریم میں کمی نہ کرنے لگیں ۔ ‘‘ (السفینۃ القادریۃ، ص۳۷ ملتقطًا)

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! علماء و محدثینِ کرام رَحِمہُمُ  اللّٰہ  السَّلام کی وضاحت سے پتہ چلتا ہے کہ سبز سبز عمامہ شریف سجانا بالکل جائز و مستحسن ہے اور یہ اسلافِ کرام رَحِمہُمُ  اللّٰہ  السَّلام کا طریقہ رہا ہے لہٰذا ہمیں شیطان کے تمام ہتھکنڈوں کو ناکام بنا کر اپنے سر پر عمامے شریف کا تاج سجا لینا چاہئے ۔  

وسوسہ :  سبز عمامہ پہننا اگرچہ جائز و مستحب ہے، مگرکیا ایک مستحب کام پر ہمیشگی اختیار کرلینا درست ہے؟

جوابِ وسوسہ :  میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی مستحب کام پرہمیشگی اِختیار کرنایعنی اس نیک کام کو مستقل طور پر اپنے معمولات میں شامل کرلینا نا صرف جائز بلکہ افضل اور اعلیٰ کام ہے اور اجرِعظیم کے حصول کا باعث ہے چنانچہ مؤذِّنِ رسول حضرت سیِّدنا بلال حبشی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو تَحِیَّۃُ الْوضُو (یعنی ہر وضو کے بعد پڑھی جانے والی نماز)جو ایک مستحب کام ہے، اس پر ہمیشگی اختیار کرنے پر ملنے والی فضیلت کو حضرت سیِّدناامام بخاری عَلیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْوَالِی روایت فرماتے ہیں :   حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نبیٔ اکرم، شَفیعِ مُعَظَّم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک دن صبح کی نماز کے وقت حضرت سیِّدنا بلال حبشی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا :  اے بلال یہ بتاؤ کہ تم نے اسلام میں داخل ہونے کے بعد جو عمل کیے ہیں ان میں سے کس عمل پر اجر کی زیادہ توقع ہے؟ کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے چلنے کی آہٹ سنی ہے۔  حضرت سیِّدنا بلال حبشی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی :  میں نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا جس پر مجھے زیادہ اجر کی توقع ہو، ہاں اتنا ضرور ہے کہ دن یا رات میں جب بھی وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے اتنی نماز پڑھتاہوں جو میرے لئے مقدر کی گئی ہے۔ ([1]) (بخاری، کتاب التھجد، باب فضل الطھورالخ، ۱/ ۳۹۰، حدیث : ۱۱۴۹)

 معلوم ہوا مستحب کام پر پابندی کے ساتھ عمل کرنا صحابیٔ رسول کا طریقہ ہے۔   اسی ضمن میں ایک اور روایت ملاحظہ فرمائیے، حضرت سیِّدنا عبد اللّٰہ  ابنِ عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ حضورِاکرم نورِ مجسّم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : تم سفید کپڑے پہنا کرو، کیونکہ وہ تمہارے کپڑوں میں بہترین کپڑے ہیں اور اسی کپڑے میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو۔

(ابوداؤد، کتاب اللباس ، باب فی البیاض، ۴/ ۷۲، حدیث : ۴۰۶۱)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مردے کو سفید رنگ کے علاوہ کسی اور رنگ کے کپڑے کا کفن دینا بھی جائز ہے مگر سفید رنگ کا کفن دینا مستحب ہے جیسا کہ حدیثِ مبارکہ سے اس بات کا پتہ چلا چنانچہ فقۂ حنفی کے ایک بلند پایہ امام علامہ ابنِ عابدین شامی علَیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْکَافِی مختلف نوعیّت کے کفنوں کو بیان کرتے ہوئے سفید رنگ کے کفن کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں :  ’’وَیُسْتَحَبُّ الْبَیَاضُ‘‘ یعنی سفید کفن مستحب ہے۔  (درمختار و ردالمحتار ، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃالجنازۃ ، مطلب فی الکفن، ۳/ ۱۱۸) فی زمانہ سفید رنگ کا کفن دینے پر لوگوں کا عمل جاری ہے اور اس کے علاوہ کسی اور رنگ کا استعمال نظر نہیں آتامگر کوئی بھی اس مستحب کام کو اس کے دوام کے سبب ناجائز نہیں کہتا۔  اسی طرح نمازِ فجر کی اذان میں ’’اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم‘‘ کہنا بھی مستحب ہے، جیسا کہ روایت میں ہے کہ جب حضرت سیِّدنا بلال حبشی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے فجر کی اذان کے دوران دو مرتبہ ’’اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم‘‘ کہا تو اس پرنبیٔ کریم رؤوفٌ رحیم عَلَیہ اَفْضَلُ الصَّلوٰۃِوالتَّسلِیم نے ارشاد فرمایا :  اے بلال یہ کلمہ بڑا ہی خوب ہے ، ’’اِجْعَلْہُ فِیْ اَذَانِکَ‘‘ تو ان الفاظ کو اپنی (صبح کی) اذان کا حصہ بنالو۔   (کنز العمال، کتاب الصلوۃ، التثویب، الجز :  ۸، ۴/ ۱۶۷، حدیث :  ۲۳۲۴۲)  ان کلمات کے اِسْتِحْباب کو بیان کرتے ہوئے فقہ حنفی کے ایک دوسرے امام، زین الدین بن ابراہیم بن نُجَیم رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ ارشاد فرماتے ہیں :  ’’وَھُوَ لِلنُّدُب‘‘ یعنی حضور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمانا استحباب کے لیے ہے۔  (بحرالرائق، کتاب الصلاۃ، باب الاذان ، ۱/ ۴۴۶)  اسی طرح صَدْرُالشَّرِیعہ بَدْرُالطَّرِیْقَہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی  عَلَیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی فرماتے ہیں :  صبح کی اذان میں فلاح کے بعد اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم کہنا مستحب ہے۔  (بہارِ شریعت، ۱/ ۴۷۰)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! احادیثِ کریمہ اور فرامینِ فُقَہاء سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ کسی مستحب کام پر مُوَاظَبَت یعنی ہمیشگی اختیار کرلینا نہ صرف جائز ہے بلکہ ایک اچھا عمل ہے جس پر خیرِ کثیر کی امیدِسعید ہے اس بات کو ناجائز کہنا بہت بڑی جرأت ہے اور پھر جب ان مذکورہ بالا امور سے مستحب کاموں کے دوام کاثبوت حاصل ہوگیا توپھر سبز رنگ کا عمامہ شریف جوکہ درجۂ استحباب میں ہے اس پر ہمیشگی اختیار کرنے کا جواز بھی ازخود ثابت ہو گیا۔  

اولیائے کرام کے مختلف رنگوں کے عمامے

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اولیائے کرام رَحِمَہُمُ  اللّٰہ  السَّلام بھی مختلف رنگوں کے عمامے باندھا کرتے تھے یہاں ایسے ہی چند اولیائے کرام کے عماموں کا ذکر کیا گیا ہے     

 



1      میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حدیثِ مبارکہ سے ایک یہ مدَنی پھول بھی ہمیں حاصل ہوا کہ جس نیک کام کا سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نہ حکم ارشاد فرمایا ہونا ہی آپ عَلَیْہِ السَّلام نے اس پر عمل کرکے دکھایا ہو، ایسے نیک کام کو از خود اِختیار کر لینا صحابۂ کرام کا مبارک طریقہ ہے جس پر اس کے علاوہ اور احادیثِ کریمہ بھی شاہد ہیں پھر جب حضور عَلَیْہِ السَّلام کواس نیک کام کا پتہ چلا تو آپ عَلَیْہِ السَّلام نے اس پر انکار نہیں فرمایا بلکہ اس عمل کی تعریف کرتے ہوئے اس کے اجر کو بیان فرمایا۔ شارحِ بخاری، حافظ شہاب الدین احمد بن علی ابنِ حجر عسقلانی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْکَافِی (متوفیّٰ۸۵۲ھ) اس حدیث کے تحت ارشاد فرماتے ہیں: اس حدیث سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ اپنے اجتہاد سے کسی عبادت کے لئے وقت مقرَّر کرنا جائز ہے کیونکہ حضرت سیِّدنا بلال حبشی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ مقام و مرتبہ اپنے اجتہاد سے ہی حاصل کیا اور نبیٔ اکرم، رسولِ محتشم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس نیک عمل کے درست ہونے کو بیان بھی فرمایا۔ (فتح الباری، کتاب التھجد، باب فضل الطھورالخ، ۴/ ۳۰)

                 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہواکہ عاشقانِ رسول جو اپنے پیارے پیارے آقا مدینے والے مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے میلاد شریف کے لئے بارہ ربیع الاوّل کی تاریخ مقرر کرتے ہیں نیز حضورِ غوثِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی فاتحہ کے لیے گیارہ تاریخ، اسی طرح وفات پانے والے بزرگانِ دین و عزیزوں اقارب کے ایصالِ ثواب کے لیے اَعراس و سوئم، دسویں اور چالیسویں کی تاریخوں کو اپنی آسانی کے لحاظ سے معین کرتے ہیں الغرض ان جیسے ہزارہا نیک امور جن کو خود سے ہی اپنے مقرر کردہ اوقات پر بجالاتے ہیں بلا شبہ یہ تمام کام نہ صرف جائز بلکہ رضائے الٰہی کا باعث بھی ہیں۔ 



Total Pages: 101

Go To