Book Name:Imamay kay Fazail

       زبردست مُحَدِّث حضرتِ سیِّدُنا ہُدبہ بن خالِد عَلَیہِ رَحمَۃُ المَاجِد کو خلیفہ بغداد مامون رشید نے اپنے ہاں مَدعُو کیا، طَعام کے آخِر میں کھانے کے جو دانے وغیرہ گر گئے تھے، مُحَدِّثِ موصوف چُن چُن کر تناوُل فرمانے لگے ۔  مامون نے حیران ہو کر کہا، اے شیخ! کیا آپ کا ابھی تک پیٹ نہیں بھرا؟ فرمایا :  کیوں نہیں ! دراصل بات یہ ہے کہ مجھ سے حضرتِ سیِّدُناحَمّاد بن سَلَمہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک حدیث بیان فرمائی ہے :  ’’جو شخص دسترخوان کے نیچے گِرے ہوئے ٹکڑوں کو چُن چُن کر کھائے گاوہ تنگدستی سے بے خوف ہو جائے گا۔ ‘‘ میں اِسی حدیثِ مبارَک پر عمل کر رہا ہوں ۔  یہ سُن کر مامون بے حد مُتَأَثِّر ہوا اور اپنے ایک خادِم کی طرف اِشارہ کیا تو وہ ایک ہزار دینار رومال میں باندھ کر لایا۔  مامون نے اس کوحضرتِ سیِّدُنا ہُدبہ بن خالِد عَلَیہِ رَحمَۃُ المَاجِد کی خدمت میں بطورِ نذرانہ پیش کر دیا۔  حضرتِ سیِّدُنا ہُدبہ بن خالِد عَلَیہِ رَحمَۃُ المَاجِد نے فرمایا :  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ حدیثِ مبارَکہ پر عمل کی ہاتھوں ہاتھ بَرَکت ظاہِر ہو گئی۔  (ثمرات الاوراق، ۱/ ۸)

شرما کر سنّتیں مت چھوڑئیے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا ہمارے بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ  اللّٰہ  تَعَالٰی سنّتوں پر عمل کے معاملے میں دُنیا کے بڑے سے بڑے رئیس بلکہ بادشاہ کی بھی پرواہ نہیں کرتے ۔  اِس حِکایت سے ہمارے اُن اسلامی بھائیوں کو درس حاصِل کرناچاہئے جو لوگوں کی مُرَوَّت کی وجہ سے کھانے پینے کی سنّتیں تَرک کر دیا کرتے ہیں ، نیز داڑھی شریف اورعمامہ مبارَکہ کے تاجِ عزّت کوسر پر سجانے سے کترا جاتے ہیں ۔  یقینا سنّت پر عمل کرنا دونوں جہاں میں باعثِ سعادت ہے، کبھی کبھی دنیا میں ہاتھوں ہاتھ بھی اس کی بَرَکتیں ظاہِر ہو جاتیں ہیں جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا ہُدبہ بن خالِد عَلَیہِ رَحمَۃُ المَاجِد کو شاہی دربار میں سنّت پر عمل کرنے کی بَرَکت سے ایک ہزار دینار مل گئے اور آپ مالدار ہوگئے۔  (فیضانِ سنّت، باب آدابِ طعام، ص ۲۶۳ )

جو اپنے دل کے گلدستے میں سنّت کو سجاتے ہیں

وہ بے شک رَحمتیں دونوں جہاں میں حقّ سے پاتے ہیں

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صَلَّی  اللّٰہ  تعالٰی عَلٰی محمَّد

(4)کسی کی ادا کو ادا کررہا ہوں

       شارِحِ بخاری ، حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی مُحَشِّیٔ کُتُبِ درسِ نِظامی حضرت علامہ عبدالحلیم فرنگی مَحَلِّی عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی کی مشہور کتاب’’ نُورُالایمَان بِزِیَارَۃِآثَارِ حَبِیبِ الرَّحمٰن‘‘ کے تعارف میں نقل فرماتے ہیں :  حضرت سیّدنا عبد  اللّٰہ  بن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما مکۃ المکرمہ زَادَھَا  اللّٰہ  شَرَفاً وَّ تَعْظِیْمًا جاتے ہوئے ایک جھڑبیریا کی شاخوں میں اپنا عمامہ  

 شریف اُلجھا کر کچھ آگے بڑھ جاتے پھر واپس ہوتے اور عمامہ شریف چھڑا کر آگے بڑھتے ۔ لوگو ں نے پوچھا یہ کیا ؟ ارشاد فرمایا کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا عمامہ شریف اس بیرمیں اُلجھ گیا تھا اور حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اتنی دور آگے بڑھ گئے تھے اور واپس ہو کر اپنا عمامہ شریف چھڑایا تھا۔  (نورالایمان بزیارۃآثار حبیب الرّحمٰن ، ص۱۵)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّتوں سے کس قدر محبت کیا کرتے اورانہیں آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّتوں پر عمل کا کیسا جذبہ ہوا کرتا تھا۔  کاش ہم بھی سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری پیاری سنّتوں کو اپنانے والے بن جائیں ۔  پانی پئیں تو سنّت کے مطابق ، کھانا کھائیں تو سنّت کے مطابق ، زُلفیں بڑھائیں تو سنّت کے مطابق، عمامہ شریف سجائیں تو سنّت کے مطابق، الغرض ہم سنّتوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیں ۔  

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب      صَلَّی  اللّٰہ  تعالٰی عَلٰی محمَّد

        ہمارے اَسلاف رَحِمَہُمُ  اللّٰہ  السَّلام تو پیارے آقا، مدینے والے مصطفی صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّتوں کے ایسے پابند تھے کہ ان کے نزدیک کسی سنّت کا انجانے میں رہ جانا بھی قابلِ کَفَّارہ تھا چنانچہ

   

(5)سنّت کے قدردان

        شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ اپنی مایہ ناز تالیف فیضانِ سُنّت جلد اوّل میں فرماتے ہیں :  ’’کیمیائے سعادت‘‘ میں ہے، ایک بزرگ نے ایک بار سنّت کے مطابق سیدھی جوتی سے پہننے کا آغاز کرنے کے بجائے بے خیالی میں الٹی جوتی پہلے پہن لی اس سنت کے رہ جانے پر انہیں سخت صدمہ ہوا اور اس کے عوض انہوں نے گیہوں کی دو بوریاں خیرات کیں ۔  

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ انہیں حضرات کا حصہ تھا۔  کاش! ہمیں بھی اپنے بزرگوں کے طریقوں پر چلنا نصیب ہوجائے۔  (فیضانِ سنّت ، ص ۴۶۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب     صَلَّی  اللّٰہ  تعالٰی عَلٰی محمَّد

عمامہ شریف بڑی پیاری سنّت ہے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّتوں میں سے ایک بہت ہی پیاری اور آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبوب ترین سنّت عمامہ شریف بھی ہے ، آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیشہ سرِ منّور پر عمامہ شریف سجایا ہے اور اپنے غلاموں کو اس کی ترغیب بھی دلائی ہے۔  جو شخص حضور سیّدُ المرسلین صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت کا دم بھرنے والا ہو وہ بھلا 

 کس طرح اپنے پیارے آقا صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اس سنّت سے محبت نہیں کرے گا، اور اس پر عمل نہیں کرے گا،  اللّٰہ   تَعَالٰی  ہم سب کو اپنے پیارے محبوب صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کامل محبت نصیب فرمائے اور اپنے محبوب صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہر سنّت پر بلا جھجک و شرم ، اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 



Total Pages: 101

Go To