Book Name:Imamay kay Fazail

کے بارہ پیوند تھے۔  دیگر خلفاء بھی پیوند لگے کپڑے زیبِ تن فرماتے تھے۔  مزید فرماتے ہیں :  وَذَلِکَ شِعَارُ الصَّالِحِینَ وَ سُنَّۃُ المُتَّقِینَ حَتّٰی اِتَّخَذَ الصُّوفِیَۃُ شِعَاراً یعنی :  یہ صالحین کا شِعَار اور متقین کی سنّت ہے، حتی کہ صوفیاء کرام نے پیوند والے کپڑوں کو اپنا شِعَار بنالیا۔  (فیض القدیر، حرف الھمزہ، ۳/ ۳۶، تحت الحدیث : ۲۶۵۶)

        اسی طرح سے اہلسنّت کے شِعَار  بھی ہیں کہ جن سے سُنِّیت (اہلِ سنّت و جماعت) کی پہچان ہو جیسے اَ فضلیتِ شیخین([1]) کا قائل ہونا، موزوں پر مسح کرنا، بعد ِ جمعہ صلوٰۃ و سلام پڑھنا، میلاد النبی کے جلوس و محافل کا انعقاد اور اس میں شرکت ، وقتِ مولود قیام وغیرہ ۔  

(5) شِعارِ مباح

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی چیز مثلاً لباس یا کسی عمل کو دینی یا دنیاوی مصلحت کی وجہ سے اپنا شِعَار و علامت بنا لینا شرعاً مباح ہے، جب کہ وہ نہ تو شریعت کے مخالف ہو اور نہ ہی اسے فرض و واجب قرار دیا جائے۔  اس کی بے شمار مثالیں نہ صرف احادیث و روایات میں موجود ہیں بلکہ ہماری روز مرّہ زندگی میں اس کے نظارے عام ہیں جیسے اسکول یونیفارم، پولیس، فوج، اور ملازمین کا لباس وغیرہ، یہ سلسلہ نیا نہیں ہے بلکہ عباسی خلفاء سیاہ رنگ اور ساداتِ کرام عمامہ میں سبزرنگ کا ٹکڑا یا سبز ریشم کی پٹیاں بطورِ شِعَار  لگایا کرتے تھے چنانچہ

       حضرت علامہ شہابُ الدین احمد بن حجر مکی شافعی  عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نے عباسیوں کا شِعَار سیاہ اور دیگر مسلمانوں کا سفید بیان فرمایا ہے ، نیز فرماتے ہیں کہ   

 ساداتِ کرام کے عماموں میں سبز کپڑے کا ٹکڑا علامت کے طور پر لگایا جاتا تھا۔  (الصواعق المحرقہ ، باب الحادی عشر فی فضائل اہل بیت الخ، الفصل الاول ، المقصد الخامس، ص ۱۸۵)

        سلاسلِ طریقت چشتی، قادری، نقشبندی اور سہروردی کی مخصوص ٹوپیاں ، لباس، وظائف اسی طرح جو جس سلسلہ سے تعلق رکھتا ہو بطورِ علامت اس کی نسبت لکھنا جیسے قادری رضوی ، چشتی صابری یہ سب جائز اور علماء و اولیاء سے ثابت ہیں ۔  

شِعَار بنانے کا جواز احادیث و روایات سے

         کسی چیز کو شِعَار بنانے کا جواز احادیثِ مبارکہ سے بھی ثابت ہے، وہ شِعَار  چاہے وقتی طور پر اپنایا گیا ہو یا کہ مستقل چنانچہ

        (1)حضرت سیّدنا مُغِیرَہ بِن شُعْبَہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  شِعَارُ الْمُؤْمِنِینَ عَلَی الصِّرَاطِ رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ یعنی پلِ صراط پر مؤمنین کا شِعَار  رَبِّ سَلِّمْ سَلِّم (یعنییا اللّٰہ  !ہمیں سلامتی کے ساتھ گزار، سلامتی کے ساتھ گزار) ہو گا۔

(ترمذی ، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق الخ، باب ما جاء فی شان الصراط، ۴/ ۱۹۵، حدیث : ۲۴۴۰، فیض القدیر ، حرف الشین ، ۴/ ۲۱۲، حدیث : ۴۸۸۴)

        حضرت علامہ عبد الرء وف مناوی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی اس حدیث مبارک کے تحت فرماتے ہیں :  شِعَار دراصل اس علامت کو کہتے ہیں جسے آدمی کی پہچان کے لیے مقرر کیا جائے ۔  پھر اسے بطورِ مُستَعار استعمال کیا جانے لگا اس قول کے بارے میں کہ جسے بول کر آدمی اپنے دین والوں کو پہچان سکے کہ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچائے۔  (فیض القدیر، حرف الشین، ۴/ ۲۱۲، تحت الحدیث : ۴۸۸۴)

 (2) حضرت سیّدنا براء بن عازب  رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے (ایک جنگ کے موقع پر) ارشاد فرمایا :  اِنَّکُم تَلقَونَ العَدُوَّ غَدًا وَ اِنَّ شِعَارَکُم حٰم  لَایُنْصَرُوْن یعنی :  بے شک تم کل دشمنوں سے ملوگے تو تمہارا شِعَار (علامت و نشانی ) حٰم   لَایُنْصَرُوْنَ ہے۔  (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب السیر، باب الشعار، ۱۸/ ۱۸۵، حدیث : ۳۴۲۶۱)

 (3)حضرت سیّدنا سَمُرَہ بن جُندُب رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے مہاجرین کا شِعَار یَا بَنِی عَبدَ الرَّحمٰن، خزرج کا یَا بَنِی عَبدَ اللّٰہ ، اوس کا شِعَار یَابَنِی عُبَیدَ  اللّٰہ  اور ہمارے سواروں کا نام ’’خَیلُ  اللّٰہ ‘‘ مقرر فرمایا۔  ہم ایک دوسرے کو اسی شِعَار سے بلاتے۔  (معجم کبیر، باب السین، سمرۃ بن جندب الفزاری الخ، ۷/ ۲۶۹، حدیث :  ۷۱۵۲)

 (4) حضرت سیّدنا سَلَمَہ بن اَکوَع رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنْہ ارشاد فرماتے ہیں :  غَزَوْتُ مَعَ اَبِی بَکْرٍ رَضِیَ  اللّٰہ  عَنْہُ زَمَنَ رَسُولِ  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَکَانَ شِعَارُنَا :  اَمِتْ اَمِتْ یعنی :  میں نے نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے مبارک زمانے میں حضرت سیّدنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ غزوہ میں شرکت کی تو اس جنگ میں ہمارا شِعَار  تھا :  اَمِت اَمِت یعنی :  اے  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ دشمنوں کو ہلاک فرما۔  (سنن الکبرٰی للبیھقی، کتاب قسم الفیء والغنیمۃ، باب ما جاء فی شعار القبائل الخ، ۶/ ۵۸۷، حدیث : ۱۳۰۵۳)

 (5)دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’فیضانِ صدیقِ اکبر‘‘کے صفحہ 384 پر ہے :  امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیدنا عِکرِمہ بن ابی جہل رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو مُسَیلمَہ کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایا اور پھر حضرت سیدنا شُرَحبِیل بن حسنہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کوان کی مدد کے لیے بھیجا لیکن ان دونوں کے آگے اس نے ہتھیار نہ ڈالے، کیونکہ حضورِ اکرم ، نورِ مجسم، شاہِ بنی آدم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد مُسَیلمَہ کذاب کا کاروبار چمک اٹھا تھااور تقریباً ایک لاکھ سے زائد افراد اس کے گرد جمع ہوگئے تھے، حضرت سیدنا عِکرِمہ بن ابی جہل اور حضرت سیّدنا شُرَحبیل بن حسنہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا سے بھی اس کی خوب جنگ ہوئی جس کے مقابلے میں اس کے کئی لوگ مارے گئے ، اتنے میں ان دونوں صحابہ کی مدد کے لیے حضرت سیّدنا خالد بن ولید رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ بھی آ پہنچے۔     

 آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے لشکر کی تعداد چوبیس ہزار تھی اور  مُسَیلمَہ کذاب کے پاس اس وقت چالیس ہزار فوج تھی، فریقین بے جگری سے لڑے اور جنگ کا نقشہ کئی بار تبدیل ہوا، کبھی حالات مسلمانوں کے حق میں ہو جاتے اور کبھی مرتدین کے۔  ثُمَّ بَرَزَ خَالِدٌ وَدَعَا اِلَی الْبَرَّاز وَنَادَی بِشِعَارِھِمْ وَکَانَ شِعَارُھُم یَا مُحَمَّدَاہ، فَلَم یَبْرُزْ اِلَیْہِ اَحَدٌ اِلَّا قَتَلَہُ یعنی جب حضرت سیّدنا خالد بن ولید رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو یقین ہو گیا کہ بنوحنیفہ قبیلے والے اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک  مُسَیلمَہ  کو قتل نہ کیا جائے تو آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ بذات خود میدان میں تشریف لائے اور مقابلے کے لیے  مُسَیلمَہ کے شہسواروں کو طلب کیا اور مسلمانوں کے شِعَار  یعنی عادت کے مطابق ’’یَامُحَمَّدَاہ ‘‘ نعرہ لگایا اور اس وقت جنگ میں مسلمانوں کا شِعَار یہ تھا کہ وہ مشکل وقت میں بآواز بلند یہ نعرہ لگایا کرتے تھے یَامُحَمَّدَاہ یعنی یا رسول  اللّٰہ ( صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)! ہماری مدد فرمائیے۔  اسی طرح حضرت سیّدنا خالد بن ولید رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے بھی نعرہ لگایا اور پھر دشمنوں کی طرف سے جو بھی مقابلے پر آیا



[1]      تمام بشر انبیاء و رُسُل اور رُسُل ملائکہ عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے بعد حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق اور حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو تمام صحابہ و اہلِ بیتِ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے افضل ماننا۔



Total Pages: 101

Go To