Book Name:Imamay kay Fazail

میں جن ستر ہزار افراد کا تذکرہ ہے وہ مسلمان نہیں بلکہ ملکِ اصفہان کے یہودی ہوں گے جیسا کہ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے چنانچہ حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک رَضِی  اللّٰہ  تَعالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’ یَتْبَعُ الدَّجَّالَ مِنْ یَہُودِ اَصْبَہَانَ سَبْعُونَ اَ لْفًا عَلَیْہِمْ الطَّیَالِسَۃُ‘‘ یعنی اَصبَہان کے ستر ہزار یہودی دجال کی پیروی کریں گے، جن پر ’’طیالِسہ‘‘ (یعنی سبز چادریں ) ہوں گی۔  (مسلم ، کتاب الفتن و اشراط الساعۃ،  باب فی بقیۃمن احادیث الدجال، ص۱۵۷۸، حدیث : ۲۹۴۴)

        حکیمُ الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان عَلیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :  معلوم ہوا کہ اس زمانے میں یہود شہرِ اصفہان میں کثرت سے ہوں گے ۔  اصفہان ایران کا مشہور شہر ہے (مفتی صاحب رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں ) میں نے وہاں کی سیر کی ہے۔  یہاں ہی دجال کا زور زیادہ ہو گا اور دجال کے پہلے مددگار و معاون یہود ہوں گے۔  بعض نے کہا کہ دجال خود یہود میں سے ہو گا۔  (مراٰۃ المناجیح ، ۷/ ۳۰۰)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا حدیث ِ مبارک میں واضح طور پر موجود ہے کہ دجّال کے پیروکار یہود ہوں گے ان کاتعلق اَصفَہان سے ہو گا لہٰذا اس روایت کوسبز عمامہ شریف باندھنے والے (عاشقانِ رسول )مسلمانوں پر مُنطَبِق کرنا جھوٹ اور اِفتِراء ہے کیونکہ حدیث میں مذکور دجال کے پیروکاروں کی مَذمُوم صفات اور دعوتِ اسلامی کے عاشقانِ رسول میں پائی جانے والے اوصاف میں زمین آسمان کا فرق ہے جیسا کہ در ج ذیل تَقَابُل سے ظاہر ہے :  

دجال کے پیروکاروں کی صفات                                دعوتِ اسلامی کے عاشقانِ رسول

یہودی ہوں گے                                                 کلمہ گو مسلمان ہیں

شہر اصفہان کے رہنے والے ہوں گے                               نہ صرف پاکستان بلکہ عالمِ اسلام میں پھیلے ہوئے سچے عاشقانِ رسول ہیں

سیاہ یاسبز چادریں اوڑھنے والے                                    سروں پر سبز سبز عمامے سجانے والے     

امتِ دعوت میں سے ہیں                                          اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم سے امت ِاجابت سے ہیں

سیجان فیشن کی وجہ سے لیں گے                                    سنّت کی نیّت سے عمامے باندھتے ہیں

        اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت ِاسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ بے شمار اسلامی بھائی پیارے آقا، مدینے والے مصطفیٰ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے عمامہ شریف والی سنّت کو زندہ کرنے کے لئے اپنے سروں پر سبزسبز عمامے کا تاج سجاتے ہیں ۔  چونکہ شیطان کبھی نہیں چاہتا کہ مسلمان اپنے نبی صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی سنتوں کے آئینہ دار بن جائیں اسی لیے وہ طرح طرح کے حیلوں بہانوں کے ذریعے مسلمانوں کو اس عظیم سنّت پر عمل سے روکنے کی ناکام کوششیں کرتا رہتا ہے کبھی گرمی کی شدت کا احساس دلا کر، کبھی رنگ کا بہانا کر تو کبھی مختلف طریقوں سے عار دلا کر۔  لیکن شیطان کے ان ہتھکنڈوں کے باوجود آج بھی لاکھوں عاشقانِ رسول اََلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اس سنّت پر عمل پیرا ہیں ۔  

کسی رنگ کو علامت اور شِعَار بنانا

(4)وسوسہ :  سُنا ہے کہ کسی رنگ کو اپنی علامت اور شِعَار بناناجائز نہیں ہے جیسا کہ دعوتِ اسلامی والوں نے سبز عمامے کو اپنی پہچان بنا لیا ہے۔  

جوابِ وسوسہ :  میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سبز عمامے کو علامت و شِعَار کے طور پر استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ، کیونکہ کسی بھی چیز کو بطورِ شِعَار  استعمال کرنا اُس وقت منع ہوتا ہے کہ (1) جب اس چیزکا استعمال فِی نَفسِہٖ ناجائز ہو یا (2)وہ چیز کُفّار اور فُسَّاق کی علامت ہو۔  اور سبز عمامہ شریف باندھنے میں یہ دونوں باتیں ہی نہیں پائی جاتی، کیونکہ سبز عمامہ نہ تو فِی نَفسِہٖ ناجائز ہے اور نہ ہی کُفّار وفُسَّاق کی علامت، بلکہ سبز عمامہ باندھنا تو فرشتوں کی نشانی ، صحابہ و تابعین رِضوَانُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِم اَجمَعِین کا طریقہ اور نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی سنّت سے ثابت ہے تو بھلا یہ ناجائز کیونکر ہو سکتا ہے۔  کسی بھی چیز کو بطورِ شِعَار استعمال کرنے کے جائز ونا جائز ہونے کی تفصیل یوں ہے :  

شِعَار کی اقسام

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رہے عام طور پر شِعَار (علامت) کی پانچ اقسام بیان کی جاتی ہیں :  

        (1) شِعَارِ اسلام                 (2) شِعَار ِکفار

(3) شِعَار ِ فُسَّاق و فُجّار (بدکردار لوگوں کا شعار) (4) شِعَارِ صالحین

(5) شِعَارِ مباح     

(1)شِعَارِ اسلام

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شِعَارِ اسلام سے مراد ہر وہ کام ہے کہ جو دینِ اسلام کی پہچان ہو جیسے نماز، مسجد، اذان ، جمعہ، قربانی، عیدین، داڑھی وغیرہ انہیں ’’شَعَائِرُ  اللّٰہ ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔  احادیث و روایات میں مختلف اعمال کو شِعَار قرار دیا گیا ہے جیسا کہ

        حضرت سیّدنا امام زُہری رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا :  اَلاَذَانُ شِعَارُ الِایمَانِ یعنی اذان  شِعَارِ ایمان (میں سے) ہے۔

 (مصنف عبد الرزاق، کتاب الصلوۃ، باب فضل الاذان، ۱/ ۳۵۹، حدیث : ۱۸۶۲)

        حضرت سیّدنا زید بن خالد جُہَنِی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :  حضور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم کے پاس حضرت سیّدنا جبریلِ امین عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلاَم حاضر ہوئے اور عرض کی :  یارسول  اللّٰہ !  آپ اپنے اصحاب کو حکم فرمائیں کہ وہ تلبیہ کہتے ہوئے اپنی آوازوں کو بلند کریں فَاِنَّھَا مِنْ شِعَارِ الحَجِّ یعنی یہ حج کے شِعَار  میں سے ہے۔  

(ابن ماجہ، کتاب المناسک،  باب رفع الصوت بالتلبیۃ، ۳/ ۴۲۳، حدیث : ۲۹۲۳)

چونکہ یہ اسلام کی علامت اور پہچان ہیں اور ان کی اِشاعت و بَقاء میں اسلام کی شان و شوکت کا اِظہار ہے، لہٰذا انہیں باقی رکھنا مسلمانوں پر لازم ہے۔  

 



Total Pages: 101

Go To