Book Name:Imamay kay Fazail

جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔  (بخاری، کتاب العلم ، باب اثم من کذب علی النبی الخ، ۱/ ۵۷، حدیث : ۱۱۰)

        اسی طرح ایک اور روایت حضرت سیدنا ابنِ عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا سے بھی مروی ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’ جب تک تمہیں علم نہ ہو میری طرف سے حدیث بیان کرنے سے بچو، جس نے جان بوجھ کر میری طرف جھوٹ منسوب کیا اسے چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔ ‘‘

(ترمذی، کتاب تفسیر القراٰن عن رسول  اللّٰہ  ، باب ماجاء فی الذی یفسر القراٰن برایہ ، ۴/ ۴۳۹، حدیث : ۲۹۶۰)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے حدیث کے معاملے میں جھوٹ بولنے والے کے لیے سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کیسی سخت وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں ۔  

سیجان والی حدیث کی وضاحت

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اب اس اصل حدیثِ مبارک کو ملاحظہ فرمائیے کہ جس کا غلط ترجمہ کر کے سبزسبز عمامے والے عاشقانِ رسول کے متعلق یہ رائے قائم کی گئی ہے کہ معاذ  اللّٰہ  یہ لوگ دجال کے پیروکار ہیں ۔  چنانچہ حضرت سیّدنا ابو سعید خُدری رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنْہ روایت فرماتے ہیں :  رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’یَتْبَعُ الدَّجَالَ مِن اُمَّتِی سَبْعُونَ اَ لْفًا عَلَیْہِمُ السِّیجَانُ (1) یعنی میری امت کے ستر ہزارافراد دجال کی پیروی کریں گے جن پر ’’سیجان‘‘ ہوں گی۔  ‘‘

(مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب الفتن، باب العلامات بین یدی الساعۃ الخ، الفصل الثانی، ۲/ ۳۰۱، حدیث : ۵۴۹۰)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ روایت میں ’’سِیجَان‘‘ اور ’’مِن اُمَّتِی‘‘کے الفاظ قابلِ غور ہیں

       (۱)مذکورہ روایت میں مِن اُمَّتِی سے مراد امتِ اجابت (امتِ مسلمہ) نہیں بلکہ امتِ دعوت ہے، جیسا کہ حضرت علامہ ملا علی قاری علَیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  البَارِی اور شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی نے مذکور حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اُس روایت ’’کہ جو حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے :  اَصفَہان کے یہودی دجال کی پیروی کریں گے‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ امت سے مراد ، امت ِدعوت ہے ۔

  (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب الفتن ، باب العلامات بین یدی الساعۃ الخ، الفصل الثانی، ۹/ ۴۱۷، تحت الحدیث : ۵۴۹۰ ، اشعۃ المعات، کتاب الفتن ، باب العلامات الساعۃ، الفصل الثانی ، ۴/ ۳۶۴)

        حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اِسی حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : غالب یہ ہے کہ امت سے مراد امتِ دعوت ہے جن پر فرض ہے کہ حضورِ انور (صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) پر ایمان لائیں سارا عالم حضور (صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کی امت ِدعوت ہے اور مسلمان امت ِاجابت۔  اس صورت میں ایسی حدیث کی شرح وہ گزشتہ حدیث ہے (جو حضرت سیّدنا اَنَس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے) کہ اصفہان کے یہودی دجال کی پیروی کریں گے۔  یہاں امتی سے مراد وہی یہود ہیں کہ وہ حضور کی امتِ دعوت ہیں اور ستر ہزار سے مراد ہزار ہا آدمی ہیں نہ کہ یہ عدد خاص ۔  

       حضرت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن حدیثِ پاک کے اس حصہ عَلَیھِمُ السِّیجَان (کہ ان پر سیجان ہوں گی) کی شرح میں فرماتے ہیں :  یعنی میری امت کے وہ لوگ دَجّال کو مانیں گے (پیروی کریں گے) جو پہلے سے ہی فیشن پرست یہود و نصاریٰ کے نقّال ان کی سی شکل و صورت بنانے والے یہود کا سا نقشین فیشن ایبل لباس پہننے والے ہوں گے انہی کا بیڑا غرق ہو گا۔  (مراٰۃ المناجیح ، ۷/ ۳۱۷)

سیجان کے لغوی معنیٰ

        (۲)’’سِیجَان‘‘ عربی لفظ ہے جو کہ ’’سَاجٌ‘‘ کی جمع ہے۔  لفظ ِساج کے کتبِ لغت میں درج ذیل معانی مذکور ہیں ۔  چنانچہ ابو الفیض مرتضیٰ زُبیدی اپنی مشہورِ زمانہ لُغت ’’تَاجُ العُرُوس‘‘ میں فرماتے ہیں :  موٹے کپڑے ، سیاہ رنگ کی چادر، سبز رنگ کی چادر، تارکول والے سیاہ دھاگے سے بنے ہوئے کپڑے، گول چادر اور مجازاً مربع یعنی چورس چادر کو ساج کہا جاتا ہے۔

 (تاج العروس، الجزء الاول ، ص ۱۴۳۸)

        اَلمُعجَمُ الوَسیِط میں ہے :  ساج ایک بہت بڑا درخت ہے جو طول و عرض میں پھیلا ہوا ہوتا ہے اور اس کے بڑے بڑے پتے ہوتے ہیں اور سیجان، ساج کی جمع ہے۔

  (المعجم الوسیط، الجزء الاول ، ص ۴۶۰)

        حضرت علامہ ملا علی قاری علَیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  البَارِی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :  سیجان سین کے کسرہ کے ساتھ ساج کی جمع ہے جس سے مراد طیلسان اَخضَر (یعنی سبز چادر) ہے ۔  

(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب الفتن ، باب العلامات بین یدی الساعۃ الخ، الفصل الثانی، ۹/ ۴۱۷، تحت الحدیث : ۵۴۹۰)

        لُغَت کی معتبر کتاب ’’لِسَانُ العَرَب ‘‘میں ہے :  اَلسِّیجَانُ الطَیالِسَۃُ السُّودُ یعنی سیاہ چادریں السِّیجَان جَمعُ سَاجٍ وَ ھُوَ الطِّیلَسَانُ الاَخضَر یعنی سِیجَان سَاجٌ کی جمع ہے جس سے مراد سبز طیلسان (چادریں ) ہیں ۔ (لسان العرب ، ۱/ ۱۹۳۰)

        عربی لُغَت کی مشہور کتاب ’’اَلمُنجِد ‘‘ میں ’ ’طِیلَسَان‘‘ کے مختلف معانی لکھے ہیں :  خاکستری رنگ کا ہونا ۔ کالی چادر۔  محوشدہ تحریر ، میلا کپڑا۔  طِیلَس’’ سبز چادر کو کہتے ہیں جسے علماء و مشائخ استعمال کرتے ہیں ۔  ‘‘(المنجد، ص ۴۶۹)

        اسی طرح ضخیم ترین ’’اُردو لُغت ‘‘میں ہے کہ طیلسان ایک قسم کی چادر ہے جوخطیب اور قاضی کندھوں پر ڈالتے ہیں اور جنازے یا قبر کی چادر ’’جس کا کپڑا عام طور پرسیاہ ، سفید یا اَرغوانی مَخمَل کا ہوتا ہے ‘‘کو بھی طیلسان کہتے ہیں ۔  (اردو لغت ، ۱۳/ ۲۱۴ ملتقطاً)

سیجان کا معنی سبز عمامہ ہرگز نہیں

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ نے غور فرمایا کہ لفظ سِیجَان کے اس قدر معانی ہونے کے باوجود کسی ایک نے بھی اس کا معنی سبز عمامہ نہیں کیا بلکہ سب ہی نے اس کاترجمہ مختلف رنگ کی چادروں کا کیا ہے لہٰذا اس سے سبز عمامہ کا ترجمہ کرنا حدیثِ مبارک کا مطلب و معانی بدلناہے اور جان بوجھ کر حدیث کے معانی و مطالب کو بدلنا اپنے آپ کو جہنم کا حقدار بنانا ہے ۔  نیز مذکورہ حدیث



Total Pages: 101

Go To