Book Name:Imamay kay Fazail

مُشابَہَت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔  

                                                اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں :  ’’کسی طائفہ باطلہ کی سنّت (عادت)  جبھی تک لائقِ اِحتراز رہتی ہے کہ وہ ان کی سنّت (عادت) رہے اور جب ان میں سے رواج اُٹھ گیا توا ن کی سنّت (عادت) ہونا ہی جاتا رہا، اِحتراز کیوں مطلوب ہوگا۔ ‘‘ (فتاویٰ رضویہ ، ۸/ ۶۳۴بتصرف)

 بہرحال سبز عمامہ کسی بھی گمراہ فرقے کا اب شِعار نہیں ہے لہٰذا بالکل جائز ہے۔  

محرم میں سبز عمامہ پہننا کیسا؟

(2)وسوسہ :  سُنا ہے محرم الحرام میں سبز عمامہ پہننا بہارِ شریعت میں ناجائز لکھا ہے۔  

                                                اس وسوسے کے جواب میں شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ لکھتے ہیں :  آپ کو کسی نے یہ بات بالکل غلط بتائی ہے ، بہار ِشریعت میں ایسا کہیں بھی نہیں لکھا ہے کہ محرم الحرام میں سبز عمامہ شریف باندھنا ناجائز ہے ہاں بہار ِشریعت جلد 3 صفحہ 416 پر یوں ضرور لکھا ہے :  ’’ایامِ محرم الحرام میں تین قسم کے رنگ کے لباس نہ پہنے جائیں (۱) سیاہ کہ یہ رافضیوں کا طریقہ ہے (۲)سبز کہ یہ مُبْتَدِعِیْن یعنی تعزیہ داروں کا طریقہ ہے (۳) سرخ کہ یہ خارجیوں کا طریقہ ہے کہ وہ معاذ اللّٰہ  اِظہارِ مَسَرَّت کیلئے سرخ پہنتے ہیں ۔  

محرم میں بھی سبز عمامہ جائز ہے

                        شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ مزید فرماتے ہیں :  صاحبِ بہارِ شریعت حضرت علّامہ مفتی محمد امجد علی  اعظمی عَلیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی کے وصالِ مبارک کو (تادمِ تحریر) کم وبیش نصف صدی ہو چکی ہے، یقینا اُن دنوں یہ ان تینوں قوموں کی مشابَہَت رہی ہو گی لہٰذا مفتی صاحب نے ان سے مُشابَہَت کی وجہ سے منع فرمایا۔  مگر اب ان تینوں میں سے صرف ایک بد مذہب فرقے کے شِعار کا سلسلہ باقی ہے، باقی دونوں کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔  بالفرض کوئی نادان سُنی بھی ان دنوں سیاہ لباس پہنے ہوئے گزرے تو آپ کے ذہن میں یہی بات آئیگی کہ یہ اُس بد مذہب جماعت کا کوئی فرد جا رہا ہے۔  مگر سبز عمامہ شریف والے کو دیکھ کر آپ کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آئے گی کہ وہ تعزیہ دار جا رہا ہے۔  اسی طرح اب سرخ لباس والے کو دیکھ کر خارجی نہیں کہا جاتا کہ فی زمانہ کوئی خارجی ہمارے یہاں سرخ لباس میں نظر نہیں آتا۔  لہٰذا محرم الحرام میں اب نہ سبز لباس مَمنوع نہ ہی سرخ کی مُمانَعَت۔  پس ثابت ہوا کہ محرام الحرام میں بھی سبز عمامہ شریف بِلاکراہت جائز ہے ۔  

سبز عمامہ کو ناجائز کہنا جرأت ہے

                        امید ہے کہ مشابَہَت کی تعریف سمجھ میں آگئی ہوگی اور آپ بالکل اچھی طرح سمجھ گئے ہونگے کہ وہ بد مذہب لوگ جو کبھی سبز عمامے باندھا کرتے تھے اب کسی طرح بھی دیکھے نہیں جارہے ، ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے، پھر بھی کھینچ تان کر سبز سبز گنبد والے، میٹھے میٹھے آقا صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَ اٰلہٖ وَسَلَّم کے پیارے پیارے سبز عمامے کو کسی گمراہ فرقے کے کھاتہ میں ڈال کر سبز سبز عمامہ شریف پہننے والے عاشقانِ رسول کو ناجائز فعل کا مرتکب جاننا بہت بڑی جرأت ہے ۔  

                        حضرت علّامہ ملّا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  ِالْبَارِی ’’مِرقَاۃ شَرح مِشکوٰۃ‘‘ میں قولِ صحابی نقل فرماتے ہیں : ’’مَا رََاٰہُ الْمُسْلِمُوْنَ حَسَنًا فَہُوَ عِنْدَ  اللّٰہ  حَسَنٌ یعنی جس کام کو مسلمان اچھا سمجھ کر کریں (جبکہ وہ شریعت میں منع نہ ہو) تو وہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّکے نزدیک بھی اچھا ہے‘‘۔  (مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلٰوۃ ، باب التنظیف والتکبیر، ۳/ ۴۸۰، تحت الحدیث : ۱۳۸۵)

سبز عمامہ پسندیدہ ہے

                        معلوم ہوا کہ اگر سبز عمامہ شریف پر بالفرض کوئی دلیل نہ بھی ہو تب بھی یہ جائز ہے ، کہ اس کے ناجائز ہونے پر کوئی دلیل نہیں اور اوپر ذکر کئے گئے قولِ صحابی کی روشنی میں تو سبز عمامہ شریف  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پسندیدہ بھی ٹھہرے گا کیونکہ بے شمار مسلمان اسے پسند بھی کرتے اور دنیا کے مختلف ملکوں میں رہنے والے عاشقانِ رسول اسے پہنتے بھی ہیں ۔  خیردلائلِ بالاکی تو اس صورت میں ضرورت پڑے گی جب کہ سبز عمامہ صراحۃً ثابت نہ ہو۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ سبز عمامہ شریف کو تو خود ہمارے میٹھے میٹھے آقا ، مَکے مدینے والے مصطفیٰ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے سرِاقدس پر سجا کر نہ صرف سبز عمامہ شریف کو بلکہ خود سبز رنگ کو بھی عظمت بخش دی اور آج بھی سبز سبز گنبد کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں میں جلوہ فرما ہیں ۔  

دجال کی پیروی کرنے والے ستّر ہزار افراد کون؟

(3)وسوسہ :  سُنا ہے کہ حدیث میں ہے کہ میری امت کے ستر ہزار آدمی دجال کی پیروی کریں گے اور وہ سبز عمامے والے ہوں گے ۔  

       جوابِ وسوسہ :  میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! شیطان بڑا مکار و عیّار ہے وہ کب چاہتا ہے کہ مسلمان نیک بنیں ، اپنے نبی صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں پر عمل کریں اگر کوئی مسلمان نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں پر عمل کرنے لگتا ہے تو وہ طرح طرح کے ہتھکنڈوں کے ذریعے انہیں روکنے کی کوشش کرتاہے ، ان کے ذہنوں میں وسوسے ڈالتا ہے تاکہ لوگ اس کی جھوٹی باتوں میں آ کر سنّتیں اپنانا چھوڑ دیں چنانچہ اسی وسوسے کو ہی لے لیجئے حالانکہ ایسی کوئی حدیث نہیں ہے کہ جس میں نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ فرمایا ہو کہ سبز عمامے والے دجال کے پیرو کار ہوں گے۔  اب جس کسی نے یہ کہا کہ ’’حضور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا میری امت کے ستر ہزار آدمی دجال کی پیروی کریں گے اور وہ سبز عمامے والے ہوں گے‘‘ اس نے نہ صرف ایک جھوٹ بولا جو کہ بذاتِ خود گناہ ہے بلکہ نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر افتراء (جھوٹ باندھنے) کی انتہائی سخت جرأت بھی کی ہے۔  حدیث شریف میں ایسے شخص کے لئے فرمایا گیا کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے چنانچہ

نبی عَلَیْہِ السَّلام پر جھوٹ باندھنے والا جہنمی

        حضرت سیّدنا ابوہریرہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  ’’مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّاْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّار‘‘ یعنی جو جان بوجھ کر مجھ پر



Total Pages: 101

Go To